Tuesday, 16 October 2018

عشق کی جوت جگانے میں بڑی دیر لگی

عشق کی جوت جگانے میں بڑی دیر لگی 
ساۓ سے دھوپ بنانے میں بڑی دیر لگی 
میں ہوں اس شہر میں تاخیر سے آیا ہوا شخص
مجھ کو اک اور زمانے میں بڑی دیر لگی

اب ادھورے عشق کی تکمیل ہی ممکن نہیں

اب ادھورے عشق کی تکمیل ہی ممکن نہیں 
کیا کریں پیغام کی ترسیل ہی ممکن نہیں
کیا اسے سمجھاؤں کاغذ پر لکیریں کھینچ کر 
جذبۂ بے نام کی تشکیل ہی ممکن نہیں

خمیدہ سر نہیں ہوتا میں خودداری کے موسم میں

خمیدہ سر نہیں ہوتا میں خودداری کے موسم میں
مِرا اک اپنا موسم ہے گراں باری کے موسم میں
میں ان گِرہوں میں پانی باندھ کر لایا تھا دریا سے
مرے چہرے پہ آنکھیں تھیں، عزاداری کے موسم میں

میرے اعصاب معطل نہیں ہونے دیں گے

میرے اعصاب معطل نہیں ہونے دیں گے
یہ پرندے مجھے پاگل نہیں ہونے دیں گے
تُو خدا ہونے کی کوشش تو کرے گا، لیکن
ہم تجھے آنکھ سے اوجھل نہیں ہونے دیں گے

Friday, 12 October 2018

ابھی لنگر نہیں ڈالا

ابھی لنگر نہیں ڈالا

تکونی بادباں کی رسیاں ڈھیلی نہیں کیں 
ابھی مستول اپنے پاؤں کے اوپر کھڑا ہے
سفینے کے بھرے سینے میں سانسوں کا ذخیرہ سرسراتا ہے
ابھی ہم ناقدانہ فاصلے سے اجنبی ساحل کے تیور دیکھتے ہیں

نونہال سوال کرتا ہے

نونہال سوال کرتا ہے

میں سمجھتا تھا اسکول کے ہر طرف ایک دیوار ہے
میرے گھر کی طرح
اپنے مکتب میں آ کر مجھے ایسا لگتا
کہ گھر سے چلے اور گھر آ گئے

علاج بالمثل

علاج بالمثل

دوا بالمثل بے توقیر روگوں، بےحمیت عارضوں کے واسطے 
بے مثل ہوتی ہے
کئی عشرے ہوۓ ہم جاں بلب ہیں
اور مسلسل اس دوا پر ہیں

خانہ بدوش

خانہ بدوش 

نا مُشت میں میری مُشتری، نا پاؤں میں نیلوفر
نا زُہرہ میری جیب میں، نا ہُما اڑے اوپر
نا دھڑکا ہے سرطان کا، نا زُحل کا کوئی ڈر
نا کوئی میرا دیس ہے نا کوئی میرا گھر

Tuesday, 9 October 2018

اب جاں پہ بنی بھی ہے تو درماں نہیں کرتے

یوں دل سے کسی درد کا پیماں نہیں کرتے
اب جاں پہ بنی بھی ہے تو درماں نہیں کرتے
ہر یاد کو یوں زخم بناتے نہیں دل کا
ہر تیر کو پیوستِ رگِ جاں نہیں کرتے

نہ دل سے آہ نہ لب سے صدا نکلتی ہے

نہ دل سے آہ نہ لب سے صدا نکلتی ہے 
مگر یہ بات بڑی دور جا نکلتی ہے 
ستم تو یہ ہے کہ عہدِ ستم کے جاتے ہی 
تمام خلق مری ہم نوا نکلتی ہے 

بگڑ گیا ہوں کہ صورت یہی بناؤ کی تھی

کشیدہ سر سے توقع عبث جھکاؤ کی تھی 
بگڑ گیا ہوں کہ صورت یہی بناؤ کی تھی 
وہ جس گھمنڈ سے بچھڑا گِلہ تو اس کا ہے 
کہ ساری بات محبت میں رکھ رکھاؤ کی تھی 

تجھ سے مل کر تو یہ لگتا ہے کہ اے اجنبی دوست

تجھ سے مل کر تو یہ لگتا ہے کہ اے اجنبی دوست 
تُو مری پہلی محبت تھی مری آخری دوست 
لوگ ہر بات کا افسانہ بنا دیتے ہیں 
یہ تو دنیا ہے مری جاں! کئی دشمن کئی دوست 

Wednesday, 22 August 2018

سکوں ملے نہ ملے یا قرار ہو کے نہ ہو

سکوں ملے نہ ملے یا قرار ہو کے نہ ہو
چمن کی خیر الہٰی!!!! بہار ہو کے نہ ہو
ہم اس کے یار ہیں، وہ اپنا یار ہو کے نہ ہو
ہمیں تو اس سے پیار ہے، اس کو پیار ہو کے نہ ہو

یہ بات دل سے کہوں گا فقط زباں سے نہیں

یہ بات دل سے کہوں گا فقط زباں سے نہیں
کوئی ملال مجھے جورِ دوستاں سے نہیں
قفس نصیب کو اب ربط گلستاں سے نہیں
زمینِ گل سے نہیں شاخِ آشیاں سے نہیں

لڑاتے ہیں نظر ان سے جو ہوتے ہیں نظر والے

لڑاتے ہیں نظر ان سے جو ہوتے ہیں نظر والے
محبت کرتے ہیں دنیا میں دل والے، جگر والے
ہمیں ذوقِ نظر نے کر دیا اس راز سے واقف
اشاروں میں پرکھتے ہیں زمانے کو نظر والے

آ گئیں چل کے ہوائیں تیرے دیوانے تک

آ گئیں چل کے ہوائیں تیرے دیوانے تک
اب یہی لے کے چلیں گی اسے مےخانے تک
کوئی چھیڑے نہ مجھے عہد بہار آنے تک
میں پہنچ جاؤں گا خود جھوم کے مےخانے تک

Monday, 23 July 2018

ہر اک ہزار میں بس پانچ سات ہیں ہم لوگ

ہر اک ہزار میں بس پانچ، سات ہیں ہم لوگ
نصابِ عشق پہ واجب زکوٰۃ ہیں ہم لوگ
دباؤ میں بھی جماعت کبھی نہیں بدلی
شروع دن سے محبت کے ساتھ ہیں ہم لوگ

بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہے

بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہے
بچا ہے جو تجھ میں میرا حصہ نکالنا ہے
یہ بیس برسوں سے کچھ برس پیچھے چل رہی ہے
مجھے گھڑی کا خراب پرزہ نکالنا ہے

Monday, 16 July 2018

نیا حکم نامہ

نیا حکم نامہ

کسی کا حکم ہے
ساری ہوائیں 
ہمیشہ چلنے سے پہلے بتائیں
کہ ان کی سمت کیا ہے؟
ہواؤں کو بتانا یہ بھی ہو گا
چلیں گی جب تو کیا رفتار ہو گی
کہ آندھی کی اجازت اب نہیں ہے
ہماری ریت کی سب یہ فصیلیں
یہ کاغذ کے محل جو بن رہے ہیں
حفاظت ان کی کرنا ہے ضروری
اور آندھی ہے پرانی ان کی دشمن
یہ سب ہی جانتے ہیں

پرستار

پرستار

وہ جو کہلاتا تھا دیوانہ ترا 
وہ جسے حفظ تھا افسانہ ترا 
جس کی دیواروں پہ آویزاں تھیں 
تصویریں تری 
وہ جو دہراتا تھا 
تقریریں تری 

اعتراف

اعتراف 

سچ تو یہ ہے کہ قصور ہمارا ہے
چاند کو چھونے کی تمنا کی
آسمان کو زمین پر مانگا
پھول چاہا کہ پتھروں پہ کھلے
کانٹوں میں کی تلاش خوشبو کی
آگ سے مانگتے رہے ٹھنڈک
خواب جو دیکھا 
چاہا سچ ہو جاۓ
اس کی ہم کو سزا تو ملنی تھی 

جاوید اختر

تاریخ کے چند دور

تاریخ کے چند دور 

راہوں میں پتھر
جلسوں میں پتھر
سینوں میں پتھر
عقلوں پہ پتھر
آستانوں پہ پتھر
دیوانوں پہ پتھر
پتھر ہی پتھر 
یہ زمانہ پتھر کا زمانہ کہلاتا ہے 

پچھلے پہر کے سناٹے میں

پچھلے پہر کے سناٹے میں 

پچھلے پہر کے سناٹے میں 
کس کی سِسکی کس کا نالہ 
کمرے کی خاموش فضا میں در آیا ہے 
زور ہوا کا ٹوٹ چکا ہے 

Saturday, 14 July 2018

نگاہ یار جسے آشناۓ راز کرے

نگاہِ یار جسے آشنائے راز کرے 
وہ اپنی خوبیِ قسمت پہ کیوں نہ ناز کرے 
دلوں کو فکرِ دو عالم سے کر دیا آزاد
ترے جنوں کا خدا سلسلہ دراز کرے

گزر گئی حد سے پائمالی عتاب ترک کلام کب تک​

گزر گئی حد سے پائمالی، عتابِ ترکِ کلام کب تک​
رہے گی مسدود اے سِتمگر! رہِ پیام و سلام کب تک​
بہت ستاتی ہے اس کی دوری، تلافئ غم بھی ہے ضروری​
ہو جلد صبحِ وصال یا رب، رہے گی فُرقت کی شام کب تک​

Tuesday, 10 July 2018

تیز قدموں کی آہٹوں سے بھری

بھکارن

تیز قدموں کی آہٹوں سے بھری
رہگزر کے دو رویہ سبزہ و کشت
چار سُو ہنستی رنگتوں کے بہشت

بیس برس سے کھڑے تھے جو اس گاتی نہر کے دوار

توسیعِ شہر

بیس برس سے کھڑے تھے جو اس گاتی نہر کے دوار
جھومتے کھیتوں کی سرحد پر، بانکے پہرے دار
گھنے، سہانے، چھاؤں چھڑکتے، بُور لدے چھتنار
بیس ہزار میں بِک گئے سارے ہرے بھرے اشجار

زندگی اے زندگی

زندگی، اے زندگی

خرقہ پوش و پا بہ گل
میں کھڑا ہوں، تیرے در پر، زندگی
ملتجی و مضمحل
خرقہ پوش و پا بہ گل
اے جہانِ خار و خس کی روشنی
زندگی، اے زندگی

سیل زماں کے ایک تھپیڑے کی دیر

درسِ ایام 

سیلِ زماں کے ایک تھپیڑے کی دیر تھی
تخت و کلاہ و قصر کے سب سلسلے گئے
وہ دست و پا میں گڑتی سلاخوں کے روبرو
صدہا تبسموں سے لدے طاقچے گئے

Tuesday, 3 July 2018

خاکم بدہن

خاکم بدہن

میں عازمِ مے خانہ تھی کل رات کو دیکھا
اک کوچۂ پر شور میں اصحابِ طریقت
تھے دست و گریباں

جن پر میرا دل دھڑکا تھا

جن پر میرا دل دھڑکا تھا
وہ سب باتیں دہراتے ہو
وہ جانے کیسی لڑکی ہے 
تم اب جس کے گھر جاتے ہو

یہ زرد موسم کے خشک پتے

زرد موسم

یہ زرد موسم کے خشک پتے
ہوا جنہیں لے گئی اڑا کر
اگر کبھی تم یہ دیکھ پاؤ

ایوان عدالت میں

ایوان عدالت میں

نذیر عباسی کی شہادت پر کہی گئی ایک نظم

پتھرائی ہوئی آنکھیں
پتھراۓ ہوۓ چہرے
پتھرائی ہوئی سانسیس
چمڑے کی زبانوں پر 
پتھرائی ہوئی باتیں

Saturday, 30 June 2018

آنکھوں میں ساون چھلکا ہوا ہے

آنکھوں میں ساون چھلکا ہوا ہے
آنسو ہے کوئی اٹکا ہوا ہے
آنکھوں کی ہچکی رکتی نہیں ہے
رونے سے کب دل ہلکا ہوا ہے؟

آؤ پھر نظم کہیں

آؤ پھر نظم کہیں
پھر کسی درد کو سہلا کے سُجا لیں آنکھیں
پھر کسی دُکھتی ہوئی رگ سے چُھوا دیں نشتر
یا کسی بھولی ہوئی راہ پہ مُڑ کر اک بار
نام لے کر کسی ہمنام کو آواز ہی دیں
پھر کوئی نظم کہیں

گلزار

دور سنسان سے ساحل کے قریب

لینڈ سکیپ

دور سنسان سے ساحل کے قریب
ایک جواں پیڑ کے پاس
عمر کے درد لئے، وقت کی مٹیالی نشانی اوڑھے
بوڑھا سا پام کا ایک پیڑ، کھڑا ہے کب سے
سینکڑوں سال کی تنہائی کے بعد
جھک کے کہتا ہے جواں پیڑ سے، ”یار
سرد سناٹا ہے
“تنہائی ہے! کچھ بات کرو

گلزار

چھڑی رے چھڑی کیسی گلے میں پڑی

فلمی گیت

چھڑی رے چھڑی کیسی گلے میں پڑی
پیروں کی بیڑی، کبھی لگے ہتھکڑی
سیدھے سیدھے راستوں کوتھوڑا سا موڑ دے دو
بے جوڑ روحوں کو ہلکا سا جوڑ دے دو
جوڑ دو نہ ٹوٹ جاۓ سانسوں کی لڑی
چھڑی رے چھڑی کیسی گلے میں پڑی

Saturday, 23 June 2018

فلک دیتا ہے جن کو عیش ان کو غم بھی ہوتے ہیں

فلک دیتا ہے جن کو عیش ان کو غم بھی ہوتے ہیں 
جہاں بجتے ہیں نقّارے وہیں ماتم بھی ہوتے ہیں
گِلے شکوے کہاں تک ہوں گے آدھی رات تو گزری 
پریشاں تم بھی ہوتے ہو، پریشاں ہم بھی ہوتے ہیں

Friday, 22 June 2018

شہر سے ہوتی ہوئی گاؤں تلک جاتی ہے

شہر سے ہوتی ہوئی گاؤں تلک جاتی ہے
سبز پیڑوں کی طرف ایک سڑک جاتی ہے
یک بہ یک یاد کوئی شخص مجھے آتا ہے
یک بہ یک آنکھ مری یونہی چھلک جاتی ہے

Thursday, 21 June 2018

موج در موج مچلتا ہوا پانی رکھتا

موج در موج مچلتا ہوا پانی رکھتا
تُو کہ دریا تھا سو دریا سی روانی رکھتا
تیرا کردار مثالی ہی نہیں تھا، ورنہ
ہر کہانی سے الگ اپنی کہانی رکھتا

یہ رنج رائگانی ہی بہت ہے

یہ رنجٍ رائگانی ہی بہت ہے
محبت کی نشانی ہی بہت ہے
ترے صحرا کی جتنی پیاس بھی ہو
مری آنکھوں کا پانی ہی بہت ہے

میں اکیلا ہوں یہاں کوئی نہیں میرے ساتھ

میں اکیلا ہوں یہاں کوئی نہیں میرے ساتھ
کر گئے ہاتھ سبھی دشت نشیں میرے ساتھ
آسماں! دیکھ رفاقت تو اسے کہتے ہیں
بوجھ اٹھا کر مرا چلتی ہے زميں میرے ساتھ

یاد خوش رنگ سے کچھ ایسے اجالی میں نے

یادِ خوشرنگ سے کچھ ایسے اجالی میں نے
ہجر کی شام بنا لی ہے وصالی میں نے
رختِ پرواز کی آسودگی اوروں کو مِلی
عمر بھر جھیلی مگر بے پر و بالی میں نے

Wednesday, 20 June 2018

تو ہی کہتا تھا کہ ہوتی ہے ہوا پانی میں

تُو ہی کہتا تھا کہ ہوتی ہے ہوا پانی میں
بس تری مان کے میں کود پڑا پانی میں
یوں ہوۓ تھے مرے اوسان خطا پانی میں
سانس لینا بھی مجھے بھول گیا پانی

شیشے کا برگد

شیشے کا برگد

مرے آنگن کے برگد میں
کسی نے کانچ کا پیوند ڈالا ہے
جبھی تو
کرچیاں اگتی ہیں شاخوں پر

Sunday, 17 June 2018

خواب سے چہرہ زندگی سے نادان گیا

خواب سے چہرہ، زندگی سے نادان گیا
دل بھی آخر سب مجبوری مان گیا
اے شہزادی! خاک میں لتھڑے لوگوں سے
تاج اور تخت کی شاہی کا سب مان گیا

کاغذ پہ اک بکھرتا سا ویرانہ جائے گا

کاغذ پہ اک بکھرتا سا ویرانہ جائے گا
قصہ تمہارے ہجر کا لکھا نہ جائے گا
لایا میں جس کے واسطے راتیں تراش کر
وہ چاند میرے شہر میں آیا، نہ جائے گا

آنکھیں ہیں زرد ہونٹ بھی کالے پڑے ہوئے

آنکھیں ہیں زرد ہونٹ بھی کالے پڑے ہوئے
جیسے ہوں مجھ کو جان کے لالے پڑے ہوئے
پلکوں پہ ایک عمر جو موتی بنے رہے
آئے کوئی اٹھائے، یہ بھالے پڑے ہوئے

چھوڑ کر جب سے ماں چلی گئی ہے

ہائے افسوس ماں چلی گئی ہے

چھوڑ کر جب سے ماں چلی گئی ہے 
اپنے تو سر سے چھاں چلی گئی ہے 
ماں بتا تو کہاں چلی گئی ہے 
وہ جہاں سے کوئی نہیں آتا
تو بھی کیا اب وہاں چلی گئی ہے؟

زمین بیچ کے تارے بسانا چاہتے ہیں

زمین بیچ کے تارے بسانا چاہتے ہیں 
یہ کون لوگ خلاؤں میں جانا چاہتے ہیں
کبھی وہ شعر کہا کرتا تھا ہمارے لیے 
ہم اس کے شعر اسی کو سنانا چاہتے ہیں