Friday, 23 February 2018

ایک سے ایک ہے رستم کے گھرانے والا

ایک سے ایک ہے رستم کے گھرانے والا
ہے کوئی قبلۂ اول کو چھڑانے والا؟
قہر آلود نگاہیں، نہ بڑے دانت، مگر
چہرہ چہرہ نظر آتا ہے ڈرانے والا

زندگی ڈوبتی نبضوں کی صدا لگتی ہے

زندگی ڈوبتی نبضوں کی صدا لگتی ہے
کوئی رد کی ہوئی مخصوص دعا لگتی ہے
پیٹ کی آگ بھی لگتی ہے تو کیا لگتی ہے
نیند بھی سو کے جو اٹھتا ہوں غذا لگتی ہے

اردو ادب کے ساتھ رہیں پستیاں بہت

اردو ادب کے ساتھ رہیں پستیاں بہت
ساحر کی اک کتاب بکی "تلخیاں" بہت
اے دوست بتاؤ کہ مقصد ہے اس سے کیا
تم ہال میں بچھا تو چکے کرسیاں بہت

Tuesday, 20 February 2018

آسان راستہ ہو یا دشوار مسترد

آسان راستہ ہو یا دشوار، مسترد
اے عشق تیرا فلسفہ بےکار، مسترد
لوگوں کی عام تام سی تخلیق، واہ واہ
میرے تراشے سارے ہی شاہکار مسترد

Monday, 19 February 2018

ہے مے کشوں پہ رحمت پروردگار اب

ہے میکشوں پہ رحمتِ پروردگار اب
ساقی پلا کی آیا ہے ابرِ بہار اب
خارِ فراق اب مِرے دل سے نکل گیا
آنکھوں کے سامنے ہے کوئی گلعذار اب

تو ہی خود ہے جب بنائے درد دل

تُو ہی خود ہے جب بِناۓ دردِ دل
درد ہی  دینا خداۓ دردِ  دل
ہم  سنائیں ماجراۓ دردِ  دل
گر ہو کوئی آشناۓ دردِ  دل

اچھا کبھی ہوتا نہیں بیمار محبت

اچھا کبھی ہوتا نہیں بیمارِ محبت
اللہ کسی کو نہ دے آزارِ محبت
تم ظلم کو چھوڑو، میں گِلہ چھوڑ رہا ہوں
باہم ابھی ہو جاتا ہے اقرارِ محبت

زلف پر خم کھینچ کر شمشیر کھینچ

زلفِ پُر خم کھینچ کر شمشیر کھینچ
دل بھی کھنچ آۓ گا تُو زنجیر کھینچ
اور ترکش سے نا تُو اب تیر کھینچ
ذبح کر دے، گردنِ نخچیر کھینچ

Sunday, 18 February 2018

یوں ترے حسن کی تصویر غزل میں آئے

یوں ترے حسن کی تصویر غزل میں آۓ 
جیسے بلقیس سلیماں کے محل میں آۓ 
جبر سے ایک ہوا ذائقۂ ہجر و وصال 
اب کہاں سے وہ مزا صبر کے پھل میں آۓ 

یاس میں جب کبھی آنسو نکلا

یاس میں جب کبھی آنسو نکلا 
اک نئی یاد کا پہلو نکلا
لے اڑی سبزۂ خودرو کی مہک 
پھر تری یاد کا پہلو نکلا

رات ڈھل رہی ہے

رات ڈھل رہی ہے
ناؤ چل رہی ہے
برف کے نگر میں
آگ جل رہی ہے

Saturday, 17 February 2018

سکوت شب ہی ستم ہو تو ہم اٹھائیں بھی

سکوتِ شب ہی ستم ہو تو ہم اٹھائیں بھی
وہ یاد آئے، تو چلنے لگیں ہوائیں بھی
یہ شہر میرے لئے اجنبی نہ تھا، لیکن
تمہارے ساتھ بدلتی گئیں فضائیں بھی

وہ قول وہ سب قرار ٹوٹے

وہ قول وہ سب قرار ٹُوٹے
دل جن سے مآلِ کار ٹوٹے
ہو ختم کشاکشِ زمانہ
یا دامِ خیالِ یار ٹوٹے

قافلے گزرے ہیں زنجیر بہ پا

قافلے گزرے ہیں زنجیر بہ پا
دائم آباد رہے شہر تِرا
دل ہے یا شہرِ خموشاں کوئی
نہ کوئ چاپ، نہ دھڑکن، نہ صدا

چاند رکتا ہے نہ آتی ہے صبا زنداں کے پاس

چاند رکتا ہے نہ آتی ہے صبا زِنداں کے پاس
کون لے جاۓ مرے نالے، مرے جاناں کے پاس
اب بجز ترکِ وفا، کوئی خیال آتا نہیں
اب کوئی حیلہ نہیں شاید دلِ ناداں کے پاس

رہی ہیں داد طلب ان کی شوخیاں ہم سے

رہی ہیں داد طلب ان کی شوخیاں ہم سے 
ادا شناس بہت ہیں، مگر کہاں ہم سے
سنا دیئے تھے کبھی کچھ غلط سلط قصے
وہ آج تک ہیں اسی طرح بدگماں ہم سے

بے چین نظر بیتاب جگر یہ دل ہے کسی کا دیوانہ

فلمی گیت

ﺑﮯ ﭼﯿﻦ ﻧﻈﺮ، ﺑﮯ ﺗﺎﺏ ﺟﮕﺮ 
ﯾﮧ ﺩﻝ ﮨﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺩﯾﻮﺍﻧﮧ ہائے دیوانہ
ﮐﺐ ﺷﺎﻡ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﮐﺐ ﺷﻤﻊ ﺟﻠﮯ 
ﮐﺐ اﮌ ﮐﺮ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﭘﺮﻭﺍﻧﮧ، ہائے پروانہ

جسم و جاں کس غم کا گہوارہ بنے

جسم و جاں کس غم کا گہوارہ بنے
آگ سے نکلے تو انگارہ بنے
شام کی بھیگی ہوئی پلکوں میں پھر
کوئی آنسو آئے اور تارہ بنے

آہ و فریاد سے معمور چمن ہے کہ جو تھا

آہ و فریاد سے معمور چمن ہے، کہ جو تھا
مائلِ جَور، وہی چرخِ کُہن ہے، کہ جو تھا
حُسن پابندیٔ آدابِ جفا پر مجبور
عشق آوارہ سَرِ کوہ و دَمن ہے، کہ جو تھا

عقل والوں کی صحبتیں بے سود

مضطرب دل کی حسرتیں بے سود
ہم غریبوں کی خواہشیں بے سود
عشق میں صرف جنوں ہی کام آئے
فلسفہ، عقل، منطقیں، بے سود

نمازوں میں ریاکاری نہ کرنا

نمازوں میں ریاکاری نہ کرنا
ادا کرنا،۔۔ اداکاری نہ کرنا
تکبر، سخت رب کو ناپسند ہے
اسے خود پر کبھی طاری نہ کرنا

دل میں کوئی ہمدرد رہتا ہے

دل میں کوئی ہمدرد رہتا ہے
اس کے باعث ہی درد رہتا ہے
ساری گرمی تمہارے دَم سے تھی
دل کا موسم اب سرد رہتا ہے

شہرت تو نہ تھی اتنی ترے ناز و ادا کی

شہرت تو نہ تھی اتنی ترے ناز و ادا کی
جتنی ہوئی تشہیر میرے جرمِ وفا کی
گم تھے میرے نامے میں فرشتے سرِ محشر
رحمٰن نے چپکے سے بہشت مجھ کو عطا کی

Friday, 16 February 2018

اسیرِ ساعت

اسیرِِ ساعت

اسیرِِ ساعت یہ پوچھتا ہے
کہ وقت کی قید کب تلک ہے؟
زماں کو یہ اختیار کیوں ہو
کوئی بھی لمحہ
کسی کی بے وقت زندگی کو
گھڑی کی رسی سے باندھ ڈالے
اور اک سرا دست وقت میں دے کے
دوسرا بخت کو تھما دے

جب دریچے میں شام ہو جائے

جب دریچے میں شام ہو جاۓ
بے کلی بے لگام ہو جاۓ
وہ اچٹتی سی اک نظر ڈالے
میرا قصہ تمام ہو جاۓ

دل رات کی بنجر وادی میں اک آس لگائے رکھتا ہے

دل رات کی بنجر وادی میں اک آس لگاۓ رکھتا ہے
اک پھول کھلاۓ رکھتا ہے، اک دِیپ جلاۓ رکھتا ہے
سنسار! نہ اندر آ جانا، مت گیان کا مندر ڈھا جانا
دل دھیان کی روشن کٹیا میں اک یاد بلاۓ رکھتا ہے

عجیب سی کرن تھی وہ دلوں کو چیرتی گئی

بے نظیر بھٹو کے یوم شہادت کی مناسبت سے ایک غزل

عجیب سی کرن تھی وہ، دلوں کو چیرتی گئی
نظر نظر میں بس گئی تو آنکھ سے چلی گئی
یہ شور دل خراش تھا، کہاں کہاں پہ روکتا
وہ تان دل شناس تھی، اٹھی تو پھیلتی گئی

Thursday, 15 February 2018

باغ تجھ بن گل نرگس سے ڈراتا ہے مجھے

باغ تجھ بن گل نرگس سے ڈراتا ہے مجھے
چاہوں گر سیرِ چمن، آنکھ دکھاتا ہے مجھے
باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے
سایۂ شاخِ گُل افعی نظر آتا ہے مجھے

جان جائے تو بلا سے پہ کہیں دل آئے

لطفِ نظارۂ قاتل دمِ بسمل آئے
جان جائے تو بلا سے، پہ کہیں دل آئے
ان کو کیا علم کہ کشتی پہ مری کیا گزری
دوست جو ساتھ مرے تا لبِ ساحل آئے

غم کھانے میں بودا دل ناکام بہت ہے

غم کھانے میں بودا، دلِ ناکام بہت ہے
یہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام، بہت ہے
کہتے ہوئے ساقی سے حیا آتی ہے، ورنہ
ہے یوں کہ، مجھے درد تہِ جام بہت ہے

جب تک دہان زخم نہ پیدا کرے کوئی

جب تک دہانِ زخم نہ پیدا کرے کوئی
مشکل کہ تجھ سے راہِ سخن وا کرے کوئی
عالم غبارِ وحشتِ مجنوں ہے سر بسر
کب تک خیالِ طرۂ لیلیٰ کرے کوئی

خورشید محشر کی لو

خورشیدِ محشر کی لَو

آج کے دن نہ پوچھو، مرے دوستو
دور کتنے ہیں خوشیاں منانے کے دن
کھل کے ہنسنے کے دن، گیت گانے کے دن
پیار کرنے کے دن، دل لگانے کے دن

یہ ماتم وقت کی گھڑی ہے

یہ ماتمِ وقت کی گھڑی ہے

ٹھہر گئی آسماں کی ندیا
وہ جا لگی افق کنارے
اداس رنگوں کی چاندنیا
اتر گئے ساحلِ زمیں پر

جلا پھر صبر کا خرمن پھر آہوں کا دھواں اٹھا

قوالی

جلا پھر صبر کا خرمن، پھر آہوں کا دھواں اٹھا
ہوا پھر نذرِ صرصر ہر نشیمن کا ہر اِک تنکا

ہوئی پھر صبحِ ماتم آنسوؤں سے بھر گئے دریا
چلا پھر سوئے گردوں کاروانِ نالۂ شب ہا
ہر اِک جانب فضا میں پھر مچا کہرامِ یارب ہا

کیا کریں

کیا کریں

مری تری نگاہ میں
جو لاکھ انتظار ہیں
جو میرے تیرے تن بدن میں
لاکھ دل فگار ہیں
جو میری تیری انگلیوں کی بے حسی سے
سب قلم نزار ہیں

اس کی جرات کو عجب معجزہ کرتے دیکھا

اس کی جرأت کو عجب معجزہ کرتے دیکھا
دو بجے رات کے، سورج کو ابھرتے دیکھا
تختۂ دار پہ اقرار کے اک لمحے نے
اپنی دہلیز پہ صدیوں کو ٹھہرتے دیکھا

خدائے برگ مجھے خاک سے اٹھا کے دکھا

خدائے برگ! مجھے خاک سے اٹھا کے دکھا
اٹھایا جاؤں تو پھر شاخ پر لگا کے دکھا
میں سنگِ شام سے سر پھوڑنے چلا ہوں ذرا
کنول سے خواب مجھے میری ابتدا کے دکھا

پھر کیوں اداس کر گیا مژدہ وصال کا

پھر کیوں اداس کر گیا مژدہ وصال کا
کچھ ربط ہے ضرور خوشی سے ملال کا
تھم ہی نہ جائے کثرت اشیا کے بوجھ سے
کیا وقت آ پڑا ہے زمیں پر زوال کا

جب بھی شکووں پہ بات رکتی ہے

جب بھی شکووں پہ بات رکتی ہے
ہر نشاطِ حیات رکتی ہے
یوں اترتی ہے دل میں یاد ان کی
جیسے کوئی برات رکتی ہے

تیری زلفوں نے کیا کس پہ کرم رات گئے

تیری زلفوں نے کیا کس پہ کرم رات گئے
کس کے ہاتھوں سے نکالے گئے خم رات گئے
شب وعدہ کے مصائب کا نہیں میں ہی شکار
گھٹنے لگتا ہے ستاروں کا بھی دم رات گئے

جوانی حسن پہ چھائی ہوئی ہے پوری طرح

جوانی حسن پہ چھائی ہوئی ہے پوری طرح
ادا ادا پہ یہ چھائی ہوئی ہے پوری طرح
گھٹا کے سائے میں ساقی بھی لاکھ دعوت دے
قسم نہ پینے کی کھائی ہوئی ہے پوری طرح

ترے خیال کو بھی فرصت خیال نہیں

ترے خیال کو بھی فرصتِ خیال نہیں 
جدائی ہجر نہیں ہے، ملن وصال نہیں 
مرے وجود میں ایسا سما گیا کوئی
غمِ زمانہ نہیں، فِکر ماہ و سال نہیں 

دید سے ذوق ملاقات سے آگے نکلے

دید سے، ذوقِ ملاقات سے آگے نکلے 
عشق ممکن ہے تری ذات سے آگے نکلے
لاگ جب اس کی بدل جائے لگاؤ میں کبھی
خاک تو ارض و سماوات سے آگے نکلے

فسانے کے کسی کردار سے الجھا نہیں کرتے

فسانے کے کسی کردار سے اُلجھا نہیں کرتے
کسی نادان کی تکرار سے الجھا نہیں کرتے
بقدرِ ظرف ملتی ہے محبت جس سے ملتی ہے
یہاں سائل کبھی سرکار سے الجھا نہیں کرتے

Wednesday, 14 February 2018

کھیل دونوں کا چلے تین کا دانہ نہ پڑے

کھیل دونوں کا چلے، تین کا دانہ نہ پڑے
سیڑھیاں آتی رہیں، سانپ کا خانہ نہ پڑے
دیکھ معمار! پرندے بھی رہیں، گھر بھی بنے
نقشہ ایسا ہو کوئی پیڑ گرانا نہ پڑے

مرے خلاف ان میں باہمی مشورے ہوئے ہیں

مرے خلاف ان میں باہمی مشورے ہوئے ہیں
یہ دوست جو ایک ایک کر کے پرے ہوئے ہیں
چھتیں ٹپکنا بھی ایک نعمت ہے، مدتوں بعد
ہمارے گھر کے تمام برتن بھرے ہوئے ہیں

تم کو وحشت تو سکھا دی ہے گزارے لائق

تم کو وحشت تو سکھا دی ہے، گزارے لائق
اور کوئی حکم؟ کوئی کام، ہمارے لائق؟
معذرت! میں تو کسی اور کے مصرف میں ہوں
ڈھونڈ دیتا ہوں مگر کوئی تمہارے لائق

اک دن زباں سکوت کی پوری بناؤں گا

اک دن زباں سکوت کی، پوری بناؤں گا
میں گفتگو کو غیر ضروری بناؤں گا
تصویر میں بناؤں گا دونوں کے ہاتھ اور
دونوں میں ایک ہاتھ کی دوری بناؤں گا

شرنارتھی

شرنارتھی

خواب شب کی منڈیروں پہ بیٹھے ہوئے 
گھورتے ہیں مجھے 
میری آنکھوں میں بسنے کو بے چین ہیں 
میں اسی خوف سے رات بھر 
جاگتا ہوں کہ میں سو گیا گر 
تو یہ 
میری آنکھوں میں بس جائیں گے 
اور کل 
ان کی قیمت چکانی پڑے گی مجھے

کفیل آزر

زندگی کے پیڑ سے

زندگی کے پیڑ سے
ایک پتا اور گر کر
ڈھیر میں گم ہو گیا ہے
ڈھیر ان پتوں کا جو پہلے گرے تھے
ہنس رہا ہے
زندگی کا پیڑ خوش ہے
جیسے اس کا بوجھ ہلکا ہو گیا ہے

کفیل آزر