Monday, 17 December 2012

شہر کی دھوپ سے پوچھیں کبھی گاؤں والے


شہر کی دھوپ سے پوچھیں کبھی گاؤں والے
کیا ہوئے لوگ وہ زلفوں کی گھٹاؤں والے
اب کے بستی نظر آتی نہیں اُجڑی گلیاں
آؤ ڈھونڈیں کہیں درویش دعاؤں والے
سنگزاروں میں مرے ساتھ چلے آئے تھے
کتنے سادہ تھے وہ بلّور سے پاؤں والے
ہم نے ذرّوں سے تراشے تری خاطر سورج
اب زمیں پر بھی اتر زرد خلاؤں والے
کیا چراغاں تھا محبت کا کہ بجھتا ہی نہ تھا
کیسے موسم تھے وہ پُر شور ہواؤں والے
تُو کہاں تھا مرے خالق کہ مرے کام آتا
مجھ پہ ہنستے رہے پتھر کے خداؤں والے
ہونٹ سی کر بھی کہاں بات بنی ہے محسنؔ
خامشی کے سبھی تیور ہیں صداؤں والے

محسنؔ نقوی

چاندنی رات میں اس پیکرِ سیماب کے ساتھ


چاندنی رات میں اس پیکرِ سیماب کے ساتھ
میں بھی اُڑتا رہا اک لمحہ بے خواب کے ساتھ
کس میں ہمت ہے کہ بدنام ہو سائے کی طرح
کون آوارہ پھرے جاگتے مہتاب کے ساتھ
آج کچھ زخم، نیا لہجہ بدل کر آئے
آج کچھ لوگ نئے مل گئے احباب کے ساتھ
سینکڑوں ابر، اندھیرے کو بڑھائیں گے، لیکن
چاند منسوب نہ ہو کرمکِ شبِ تاب کے ساتھ
دل کو محروم نہ کر عکسِ جنوں سے محسن
کوئی ویرانہ بھی ہو قریۂ شاداب کے ساتھ

محسنؔ نقوی

بھری بہار میں اب کے عجیب پھول کھلے


بھری بہار میں اب کے عجیب پھول کھلے
نہ اپنے زخم ہی مہکے، نہ دل کے چاک سلے
کہاں تلک کوئی ڈھونڈے مسافروں کا سراغ
بچھڑنے والوں کا کیا ہے، ملے ملے نہ ملے
عجیب قحط کا موسم تھا اب کے بستی میں
کیے ہیں بانجھ زمینوں سے بارشوں نے گِلے
یہ حادثہ سرِ ساحل رُلا گیا سب کو
بھنور میں ڈوبنے والوں کے ہاتھ بھی نہ ملے
سناں کی نوک، کبھی شاخِ دار پہ محسنؔ
سخنوروں کو ملے ہیں مشقتوں کے صلے

محسنؔ نقوی

کوئی نئی چوٹ پھر سے کھاؤ اداس لوگو


کوئی نئی چوٹ پھر سے کھاؤ اداس لوگو 
کہا تھا کس نے کہ مسکراؤ اداس لوگو
گزر رہی ہیں گلی سے پھر ماتمی ہوائیں
کواڑ کھولو ، دئیے بجھاؤ ، اداس لوگو
جو رات مقتل میں بال کھولے اتر رہی تھی
وہ رات کیسی رہی ، سناؤ اداس لوگو
کہاں تلک بام و در چراغاں کیے رکھو گے
بچھڑنے والوں کو بھول جاؤ اداس لوگو
اجاڑ جنگل ، ڈری فضا، ہانپتی ہوائیں
یہیں کہیں بستیاں بساؤ اداس لوگو
یہ کس نے سہمی ہوئی فضا میں ہمیں پکارا
یہ کس نے آواز دی کہ آؤ اداس لوگو
یہ جاں گنوانے کی رُت یونہی رائیگاں نہ جائے
سرِ سناں کوئی سر سجاؤ اداس لوگو
اسی کی باتوں سے ہی طبیعت سنبھل سکے گی
کہیں سے محسنؔ کو ڈھونڈ لاؤ اداس لوگو

محسنؔ نقوی

وہ دے رہا ہے “دلاسے” تو عمر بھر کے مجھے


وہ دے رہا ہے “دلاسے” تو عمر بھر کے مجھے
بچھڑ نہ جائے کہیں پھر اداس کر کے مجھے
جہاں نہ تو نہ تیری یاد کے قدم ہوں گے
ڈرا رہے ہیں وہی مرحلے سفر کے مجھے
ہوائے دشت مجھے اب تو اجنبی نہ سمجھ
کہ اب تو بھول گئے راستے بھی گھر کے مجھے
یہ چند اشک بھی تیرے ہیں شامِ غم، لیکن
اجالنے ہیں ابھی خال و خد سحر کے مجھے
دلِ تباہ، ترے غم کو ٹالنے کے لئے
سنا رہا ہے فسانے اِدھر اُدھر کے مجھے
قبائے زخم، بدن پر سجا کے نکلا ہوں
وہ اب ملا بھی تو دیکھے گا آنکھ بھر کر مجھے
کچھ اس لئے بھی میں اس سے بچھڑ گیا محسنؔ
وہ دور دور سے دیکھے ٹھہر ٹھہر کے مجھے

محسنؔ نقوی

تن پہ اوڑھے ہوئے صدیوں کا دھواں شامِ فراق


تن پہ اوڑھے ہوئے صدیوں کا دھواں شامِ فراق
دل میں اتری ہے عجب سوختہ جاں، شامِ فراق
خواب کی راکھ سمیٹے گی، بکھر جائے گی
صورتِ شعلۂ خورشید رُخاں شامِ فراق
باعثِ رونقِ اربابِ جنوں ویرانی
حاصلِ وحشتِ آشفتہ سراں شامِ فراق
تیرے میرے سبھی اقرار وہیں بکھرے تھے
سر جھکائے ہوئے بیٹھی ہے جہاں شامِ فراق
اپنے ماتھے پہ سجا لے ترے رُخسار کا چاند
اتنی خوش بخت و فلک ناز کہاں شامِ فراق
ڈھلتے ڈھلتے بھی ستاروں کا لہو مانگتی ہے
میری بجھتی ہوئی آنکھوں میں رواں شامِ فراق
اب تو ملبوس بدل، کاکلِ بے ربط سنوار
بجھ گئی شہر کی سب روشنیاں شامِ فراق
کتنی صدیوں کی تھکن اس نے سمیٹی محسنؔ
یہ الگ بات کہ پھر بھی ہے جواں شامِ فراق

محسنؔ نقوی

طے کر نہ سکا زیست کے زخموں کا سفر بھی


طے کر نہ سکا زیست کے زخموں کا سفر بھی
حالانکہ مِرا دِل تھا، شگوفہ بھی، شرر بھی
اُترا نہ گریباں میں مقدّر کا ستارا
ہم لوگ لٹاتے رہے اشکوں کے گہر بھی
حق بات پہ کٹتی ہیں تو کٹنے دو زبانیں
جی لیں گے مِرے یار باندازِ دِگر بھی
حیراں نہ ہو آئینہ کی تابندہ فضا پر
آ! دیکھ ذرا زخمِ کفِ آئینہ گر بھی
سوکھے ہوئے پتوں کو اُڑانے کی ہوس میں
آندھی نے گِرائے کئی سر سبز شجر بھی
وہ آگ جو پھیلی میرے دامن کو جلا کر
اس آگ نے پھونکا میرے احباب کا گھر بھی
محسنؔ یونہی بدنام ہوا شام کا ملبوس
حالانکہ لہو رنگ تھا دامانِ سحر بھی

محسنؔ نقوی

کس نے سنگِ خامشی پھینکا بھرے بازار پر


کس نے سنگِ خامشی پھینکا بھرے بازار پر
اک سکوتِ مرگ طاری ہے در و دیوار پر
تو نے اپنی زلف کے سائے میں افسانے کہے
مجھ کو زنجیریں ملی ہیں جرأتِ اظہار پر
شاخِ عریاں پر کھلا اک پھول اس انداز سے
جس طرح تازہ لہو چمکے نئی تلوار پر
سنگدل احباب کے دامن میں رسوائی کے پھول
میں نے دیکھا ہے نیا منظر فرازِ دار پر
اب کوئی تہمت بھی وجہِ کربِ رسوائی نہیں
زندگی اک عمر سے چپ ہے ترے اصرار پر
میں سرِ مقتل حدیثِ زندگی کہتا رہا
انگلیاں اٹھتی رہیں محسنؔ مرے کردار پر

محسنؔ نقوی

اب اے میرے احساسِ جنوں کیا مجھے دینا


اب اے میرے احساسِ جنوں کیا مجھے دینا
دریا اُسے بخشا ہے تو صحرا مجھے دینا
تُم اپنا مکاں جب کرو تقسیم تو یارو
گِرتی ہوئی دیوار کا سایہ مجھے دینا
جب وقت کی مُرجھائی ہوئی شاخ سنبھالو 
اس شاخ سے ٹوٹا ہو لمحہ مجھے دینا
تُم میرا بدن اوڑھ کے پھرتے رہو لیکن
ممکن ہو تو اِک دن میرا چہرہ مجھے دینا
چُھو جائے ہوا جس سے تو خُوشبو تیری آئے
جاتے ہوئے اِک زخم تو ایسا مجھے دینا
شب بھر کی مسافت ہے گواہی کی طلبگار
اے صبحِ سفر! اپنا ستارہ مجھے دینا
اِک درد کا میلہ کہ لگا ہے دل و جاں میں
اِک رُوح کی آواز کہ” رستہ مجھے دینا”
اِک تازہ غزل اِذنِ سخن مانگ رہی ہے
تُم اپنا مہکتاہوا لہجہ مجھے دینا
وہ مجھ سے کہیں بڑھ کے مُصیبت میں تھا محسنؔ
رہ رہ کے مگر اُاس کا دلاسہ مجھے دینا

محسنؔ نقوی

Friday, 14 December 2012

خط میں لکھے ہوئے رنجش کے کلام آتے ہیں


خط میں لکھے ہوئے رنجش کے کلام آتے ہیں
کس قیامت کے یہ نامے، مرے نام آتے ہیں
تابِ نظارہ کسے دیکھے جو ان کے جلوے
بجلیاں کوندتی ہیں، جب لبِ بام آتے ہیں 
تو سہی حشر میں تجھ سے جو نہ یہ کہوا دوں
دوست وہ ہوتے ہیں جو وقت پہ کام آتے ہیں
رہروِ راہِ محبت کا خدا حافظ ہے
اس میں دو چار بہت سخت مقام آتے ہیں
وہ ڈرا ہوں کہ سمجھتا ہوں یہ دھوکہ تو نہ ہو
اب وہاں سے جو محبت کے پیام آتے ہیں
صبر کرتا ہے کبھی اور تڑپتا ہے کبھی
دلِ ناکام کو اپنے یہی کام آتے ہیں 
نہ کسی شخص کی عزت نہ کسی کی توقیر
عاشق آتے ہیں تمہارے، کہ غلام آتے ہیں
رسمِ تحریر بھی مٹ جائے، یہی مطلب ہے
اُن کے خط میں مجھے غیروں کے سلام آتے ہیں
وصل کی رات، گذر جائے نہ بے لطفی میں
کہ مجھے نیند کے جھونکے سرِ شام آتے ہیں 
گریہ ہو، نالہ ہو، حسرت ہو کہ ارمانِ وصال
آنے والی تری فرقت میں مدام آتے ہیں
داغؔ کی طرح سے گُل ہوتے ہیں صدقے قربان
بہرِ گُل گشتِ چمن میں جو نظام آتے ہیں

داغؔ دہلوی

کبھی فلک کو پڑا دل جلوں سے کام نہیں


کبھی فلک کو پڑا دل جلوں سے کام نہیں
اگر نہ آگ لگا دوں، تو داغؔ نام نہیں
وفورِ یاس نے یاں کام ہے تمام کیا
زبانِ یار سے نکلی تھی نا تمام نہیں 
وہ کاش وصل کے انکار پر ہی قائم ہوں
مگر انہیں تو کسی بات پر قیام نہیں 
الٰہی! تُو نے حسینوں کو کیوں کیا پیدا
کچھ ان کی ذات سے دنیا کا انتظام نہیں
سنائی جاتی ہیں درپردہ گالیاں مجھ کو
جو میں کہوں، تو کہیں، آپ سے کلام نہیں 
وہ آئیں گے شبِ وعدہ، یقیں نہیں اے دل
چراغ گھی کے جلاؤں، یہ ایسی شام نہیں
سوائے جور و جفا، ماورائے بغض و دغا
بتوں کے واسطے دنیا میں کوئی کام نہیں 
پیوں، پلاؤں تجھے، دور ہی سے ترساؤں
یہ روزِ عید ہے زاہد، مہِ صیام نہیں 
دباؤ کیا ہے سنے وہ جو آپ کی باتیں
رئیس زادہ ہے داغؔ، آپ کا غلام نہیں

داغؔ دہلوی

یہ کیا کہا، کہ داغؔ کو پہچانتے نہیں


یہ کیا کہا، کہ داغؔ کو پہچانتے نہیں
وہ ایک ہی تو شخص ہے، تم جانتے نہیں
بدعہدیوں کو آپ کی کیا جانتے نہیں
کل مان جائیں گے اسے ہم جانتے نہیں
وعدہ ابھی کیا تھا، ابھی کھائی تھی قسم
کہتے ہو پھر کہ ہم تجھے پہچانتے نہیں
چھوٹے گی حشر تک نہ یہ مہندی لگی ہوئی
تم، ہاتھ میرے خوں میں کیوں سانتے نہیں
مہرو وفا کا کب اُنہیں آتا ہے اعتبار
جب تک اسے وہ خوب طرح چھانتے نہیں
سرباز و جاں نثار محبت وہ ہیں دلیر
رستم بھی ہو تو کچھ اُسے گردانتے نہیں
اُن کا بھی مدعا تھا، مرا مدعا نہ تھا
پر کیا کروں کہ وہ تو مری مانتے نہیں
تن جائیں گے جو سامنے آئے گا آئینہ
دیکھیں تو کس طرح وہ بھنویں تانتے نہیں
نکلا ہے جو زباں سے اُس کو نباہئے
ایسی وہ اپنے دل میں کبھی ٹھانتے نہیں
جب دیکھتے ہو مجھ کو چڑھاتے ہو آستیں
دامن عدو کی قتل پہ گردانتے نہیں
کیا داغؔ نے کہا تھا جو ایسے بگڑ گئے
عاشق کی بات کا تو بُرا مانتے نہیں

داغؔ دہلوی

ساز، یہ کینہ ساز کیا جانیں


ساز، یہ کینہ ساز کیا جانیں
ناز والے، نیاز کیا جانیں
شمع رُو آپ گو ہوئے، لیکن
لطفِ سوز و گداز کیا جانیں
کب کسی در کی جُبّہ سائی کی
شیخ صاحب، نماز کیا جانیں
جو رہِ عشق میں قدم رکھیں
وہ، نشیب و فراز کیا جانیں
پوچھئے میکشوں سے لطفِ شراب
یہ مزا، پاکباز کیا جانیں
جن کو اپنی خبر نہیں اب تک
وہ مرے دل کا راز کیا جانیں 
حضرتِ خضر جب شہید نہ ہوں
لطفِ عمرِ دراز، کیا جانیں
جو گذرتے ہیں داغؔ پر صدمے
آپ بندہ نواز، کیا جانیں

داغؔ دہلوی

غضب کِیا ترے وعدے پہ اعتبار کِیا


غضب کِیا ترے وعدے پہ اعتبار کِیا
تمام رات قیامت کا انتظار کِیا
کسی طرح جو نہ اُس بت نے اعتبار کِیا
مری وفا نے مجھے خوب شرمسار کِیا
ہنسا ہنسا کے شبِ وصل اشک بار کِیا
تسلیاں مجھے دے دے کے بے قرار کِیا
یہ کس نے جلوہ ہمارے سرِ مزار کِیا
کہ دل سے شور اٹھا ہائے بے قرار کِیا
سنا ہے تیغ کو قاتل نے آب دار کِیا
اگر یہ سچ ہے تو بے شبہ ہم پہ وار کِیا
نہ آئے راہ پہ وہ عجز بے شمار کِیا
شبِ وصال بھی میں نے تو انتظار کِیا
تجھے تو وعدۂ دیدار ہم سے کرنا تھا
یہ کیا کِیا کہ جہاں کو امیدوار کِیا
یہ دل کو تاب کہاں ہے کہ ہو مآل اندیش
انہوں نے وعدہ کِیا اس نے اعتبار کِیا
کہاں کا صبر کہ دم پر بنی ہے اے ظالم
بہ تنگ آئے تو حالِ دل آشکار کِیا
تڑپ پھر اے دلِ ناداں کہ غیر کہتے ہیں
اخیر کچھ نہ بنی صبر اختیار کِیا
ملے جو یار کی شوخی سے اس کی بے چینی
تمام رات دلِ مضطرب کو پیار کِیا 
بھُلا بھُلا کے جتایا ہے ان کو رازِ نہاں
چھپا چھپا کے محبت کو آشکار کِیا
نہ اس کے دل سے مٹایا کہ صاف ہو جاتا
صبا نے خاکِ پریشاں مرا غبار کِیا
ہم ایسے محوِ نظارہ نہ تھے جو ہوش آ جاتا
مگر تمہارے تغافل نے ہوشیار کِیا
ہمارے سینے میں کچھ رہ گئی تھی آتشِ ہجر
شبِ وصال بھی اس کو نہ ہمکنار کِیا
رقیب و شیوۂ الفت خدا کی قدرت ہے
وہ اور عشق بھلا تم نے اعتبار کِیا
زبانِ خار سے نکلی صدائے بسم اللہ
جنوں کو جب سرِ شوریدہ پر سوار کِیا
تری نگہ کے تصور میں ہم نے اے قاتل
لگا لگا کے گلے سے چھری کو پیار کِیا
غضب تھی کثرتِ محفل کہ میں نے دھوکہ میں
ہزار بار رقیبوں کو ہمکنار کِیا
ہوا ہے کوئی مگر اس کا چاہنے والا
کہ آسماں نے ترا شیوہ اختیار کِیا
نہ پوچھ دل کی حقیقت مگر یہ کہتے ہیں
وہ بے قرار رہے جس نے بے قرار کِیا
جب ان کو طرزِ ستم آ گئے تو ہوش آیا
برا ہو دل کا برے وقت ہوشیار کِیا
فسانۂ شبِ غم ان کو اِک کہانی تھی
کچھ اعتبار کِیا، کچھ نہ اعتبار کِیا
اسیریِ دلِ آشفتہ رنگ لا کے رہی 
تمام طرۂ طرار، تار تار کِیا
کچھ آگئی داورِ محشر سے امید مجھے
کچھ آپ نے مرے کہنے کا اعتبار کِیا
کسی کے عشقِ نہاں میں یہ بدگمانی تھی
کہ ڈرتے ڈرتے خدا پر بھی آشکار کِیا
فلک سے طور قیامت کے بن نہ پڑتے تھے
اخیر اب تجھے آشوبِ روزگار کِیا
وہ بات کر جو کبھی آسماں سے ہو نہ سکے
ستم کِیا تو بڑا تُو نے افتخار کِیا
بنے گا مہرِ قیامت بھی ایک خالِ سیاہ
جو چہرہ داغِؔ سیہ رُو نے آشکار کِیا

داغؔ دہلوی

چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے


چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانا یاد ہے 
با ہزاراں اضطراب و صد ہزاراں اشتیاق
تجھ سے وہ پہلے پہل دل کا لگانا یاد ہے 
بار بار اُٹھنا اسی جانب نگاہِ شوق کا 
اور ترا غرفے سے وہ آنکھیں لڑانا یاد ہے
تجھ سے کچھ ملتے ہی وہ بے باک ہو جانا مرا 
اور ترا دانتوں میں وہ انگلی دبانا یاد ہے
کھینچ لینا وہ مرا پردے کا کونا دفعتاً
اور دوپٹے سے ترا وہ منہ چھپانا یاد ہے 
جان کرسونا تجھے وہ قصدِ پا بوسی مرا 
اور ترا ٹھکرا کے سر، وہ مسکرانا یاد ہے
تجھ کو جب تنہا کبھی پانا تو ازراہِ لحاظ
حالِ دل باتوں ہی باتوں میں جتانا یاد ہے
جب سوا میرے تمہارا کوئی دیوانا نہ تھا
سچ کہو کچھ تم کو بھی وہ کارخانا یاد ہے 
غیر کی نظروں سے بچ کر سب کی مرضی کے خلاف
وہ ترا چوری چھپے راتوں کو آنا یاد ہے 
آ گیا گر وصل کی شب بھی کہیں ذکرِ فراق
وہ ترا رو رو کے مجھ کو بھی رُلانا یاد ہے
دوپہر کی دھوپ میں میرے بُلانے کے لیے
وہ ترا کوٹھے پہ ننگے پاؤں آنا یاد ہے
آج تک نظروں میں ہے وہ صحبتِ راز و نیاز
اپنا جانا یاد ہے، تیرا بلانا یاد ہے
میٹھی میٹھی چھیڑ کر باتیں نرالی پیار کی
ذکر دشمن کا وہ باتوں میں اڑانا یاد ہے
دیکھنا مجھ کو جو برگشتہ تو سو سو ناز سے
جب منا لینا تو پھر خود روٹھ جانا یاد ہے
چوری چوری ہم سے تم آ کر ملے تھے جس جگہ
مدتیں گزریں، پر اب تک وہ ٹھکانا یاد ہے
شوق میں مہندی کے وہ بے دست و پا ہونا ترا
اور مرا وہ چھیڑنا، گُدگدانا یاد ہے
باوجودِ ادعائے اتّقا حسرتؔ مجھے
آج تک عہدِ ہوس کا وہ فسانا یاد ہے

حسرتؔ موہانی

وصل ہو جائے يہيں، حشر ميں کيا رکھا ہے


وصل ہو جائے يہيں، حشر ميں کيا رکھا ہے
آج کی بات کو، کيوں کل پہ اٹھا رکھا ہے
محتسب پوچھ نہ تُو شيشے ميں کيا رکھا ہے
پارسائی کا لہو اس ميں بھرا رکھا ہے
کہتے ہيں آئے جوانی تو يہ چوری نکلے
ميرے جوبن کو لڑکپن نے چرا رکھا ہے
دل سی شے گردِ کدورت میں ستم ہے کہ نہیں
ہائے کیا خاک میں ظالم نے ملا رکھا ہے
یاس گھیرے ہوئے ہے مجھ کو ہاں، کچھ کچھ
آسرا تیری لگاوٹ نے لگا رکھا ہے 
کہتے ہیں میری بلا جانے ترا دل ہے کہاں
چور ہیں کیا مرے دشمن، کہ چُرا رکھا ہے 
خونِ عاشق کو اب دسترس اُس تک مشکل
مہندی نے پہلے ہی سے رنگ جما رکھا ہے
کہتے ہیں ناز کی لذّت کا کچھ شکر نہیں
اور مزہ یہ ہے کہ نام اُس کا جفا رکھا ہے
ہیں تمہارے ہی تو جلوے کے کرشمے سارے
اس کو کیا تکتے ہو، آئینے میں کیا رکھا ہے؟ 
ناز سے، کشتۂ انداز کو پامال بھی کر
یہ ستم کس کے لیے تُو نے اٹھا رکھا ہے 
اس تغافل میں بھی سرگرمِ ستم وہ آنکھيں
آپ تو سوتے ہيں، فتنوں کو جگا رکھا ہے 
آدمی زاد ہيں دنيا کے حسيں، ليکن اميرؔ
يار لوگوں نے پری زاد بنا رکھا ہے

امیرؔ مینائی

تری محبت نہاں رہے گی


بدن میں جب تک کہ دل ہے سالم، تری محبت نہاں رہے گی
یہی تو مرکز ہے، یہ نہ ہو گا، تو پھر محبت کہاں رہے گی
بہت سے تنکے چنے تھے میں نے، نہ مجھ سے صیّاد تُو خفا ہو
قفس میں گر مر بھی جاؤں گا میں،، نظر سوئے آشیاں رہے گی
ابھی سے ویرانہ پن عیاں ہے، ابھی سے وحشت برس رہی ہے
ابھی تو سنتا ہوں کچھ دنوں تک بہار اے آشیاں رہے گی
جو اُن کی مرضی، وہ اپنی مرضی ، یہی اگر روح نے سمجھا
ہمیشہ ہم کو ستائے گا دل، ہمیشہ نوبت بجاں رہے گی
گلوں نے خاروں کے چھیڑنے پر سوا خموشی کے دم نہ مارا
شریف الجھیں اگر کسی سے تو پھر شرافت کہاں رہے گی
ہزار کھچ کر جدا ہو مجھ سے، ہزار دوری ہو میرے تیرے
جو اِک کشش حسن و عشق میں ہے، مرے ترے درمیاں رہے گی
وہ چاند سا منہ وہ کالی ناگی، زمانہ کہتا ہے جس کو گیسو
جو چھیڑتا ہے تو سن لے ناصح، رہے گی یاد اس کی ہاں رہے گی
غمِ جدائی کے تذکرے میں بیان اس پردہ پوش کا کیا
غضب تو یہ ہے کہ اب ہمیشہ خجل دعا سے زباں رہے گی
اجل سلا دے گی سب کو آخر کسی بہانے تھپک تھپک کر
نہ ہم رہیں گے، نہ تم رہو گے، نہ شادؔ یہ داستاں رہے گی

 شادؔ عظیم آبادی

ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں


ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
تعبیر ہے جس کی حسرت و غم، اے ہمنفسو وہ خواب ہیں ہم
اے درد! پتا کچھ تُو ہی بتا! اب تک یہ معمّہ حل نہ ہوا
ہم میں ہے دلِ بے تاب نہاں، یا آپ دلِ بے تاب ہیں ہم
میں حیرت و حسرت کا مارا، خاموش کھڑا ہوں ساحل پر
دریائے محبت کہتا ہے، آ! کچھ بھی نہیں، پایاب ہیں ہم
اے ضعف! تڑپتے جی بھر کر، تُو نے مری مُشکیں کَس دی ہیں
ہو بند، اور آتش پر ہو چڑھا، سیماب بھی وہ سیماب ہیں ہم
ہو جائے بکھیڑا پاک کہیں، پاس اپنے بلا لیں بہتر ہے
اب دردِ جدائی سے ان کے، اے آہ بہت بے تاب ہیں ہم
لاکھوں ہی مسافر چلتے ہیں منزل پہ پہنچتے ہیں دو ایک
اے اہلِ زمانہ! قدر کرو نایاب نہ ہوں، کمیاب ہیں ہم
مرغانِ قفس کو پھولوں نے، اے شادؔ! یہ کہلا بھیجا ہے
آ جاؤ جو تم کو آنا ہو، ایسے میں ابھی شاداب ہیں ہم

 شادؔ عظیم آبادی

ناوک انداز جدھر دیدۂ جاناں ہوںگے


ناوک انداز جدھر دیدۂ جاناں ہونگے
نیم بسمل کئی ہونگے کئی بے جاں ہونگے
دفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہونگے
فلسِ ماہی کے گل شمع شبستاں ہونگے
تابِ نظارہ نہیں آئینہ کیا دیکھنے دوں 
اور بن جائینگےتصویر جو حیراں ہونگے
تُو کہاں جائے گی، کچھ اپنا ٹھکانہ کر لے
ہم تو کل خوابِ عدم میں شبِ ہجراں ہونگے 
ناصحا! دل میں تُو اتنا تو سمجھ اپنے، کہ ہم
لاکھ ناداں ہوئے کیا تجھ سے بھی ناداں ہونگے
کر کے زخمی مجھے نادم ہوں، یہ ممکن ہی نہیں
گر وہ ہونگے بھی تو بے وقت پشیماں ہونگے
ایک ہم ہیں، کہ ہوئے ایسے پشیمان، کہ بس
ایک وہ ہیں کہ جنہیں چاہ کے ارماں ہونگے 
ہم نکالیں گے سُن اے موجِ ہوا، بل تیرا
اُس کی زلفوں کے اگر بال پریشاں ہونگے 
صبر یارب مری وحشت کا پڑے گا کہ نہیں
چارہ فرما بھی کبھی قیدیِ زنداں ہونگے؟
منتِ حضرتِ عیسیٰ نہ اٹھائیں گے کبھی
زندگی کے لیے شرمندۂ احساں ہونگے؟
تیرے دل تفتہ کی تربت پہ عدو جھوٹا ہے
گُل نہ ہونگے شرر آتشِ سوزاں ہونگے
غور سے دیکھتے ہیں طوف کو آہوئے حرم
کیا کہیں اس کے سگِ کوچہ کے قرباں ہونگے
داغ دل نکلیں گے تُربت سے مری جوں لالہ
یہ وہ اَخگر نہیں جو خاک میں پنہاں ہونگے
چاک پردہ سے یہ غمزے ہیں تو اے پردہ نشیں
ایک میں کی کہ سبھی چاکِ گریباں ہونگے

(ق)

پھر بہار آئی وہی دشت نوردی ہو گی
پھر وہی پاؤں وہی خارِ مغیلاں ہونگے
سنگ اور ہاتھ وہی وہ ہی سر و داغِ جنوں
وہ ہی ہم ہونگے، وہی دشت و بیاباں ہونگے
عمر ساری تو کٹی عشقِ بتاں میں مومنؔ
آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہونگے

مومن خان مومنؔ

دائم پڑا ہُوا ترے در پر نہیں ہُوں میں


دائم پڑا ہُوا ترے در پر نہیں ہُوں میں
خاک ایسی زندگی پہ کہ پتّھر نہیں ہُوں میں
کیوں گردشِ مدام سے گبھرا نہ جائے دل
انسان ہوں، پیالہ و ساغر نہیں ہُوں میں
یارب، زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے؟
لوحِ جہاں پہ حرفِ مکرّر نہیں ہُوں میں
حد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطے
آخر گناہگار ہُوں، کافَر نہیں ہُوں میں 
کس واسطے عزیز نہیں جانتے مجھے؟
لعل و زمرّد و زر و گوھر نہیں ہُوں میں
رکھتے ہو تم قدم مری آنکھوں سے کیوں دریغ؟
رتبے میں مہر و ماہ سے کمتر نہیں ہُوں میں
کرتے ہو مجھ کو منع قدم بوس کس لیے؟
کیا آسمان کے بھی برابر نہیں ہُوں میں؟ 
غالبؔ وظیفہ خوار ہو، دو شاہ کو دعا
وہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہُوں میں

مرزا اسداللہ خاں غالبؔ

کیوں میں تسکینِ دل، اے یار! کروں یا نہ کروں؟


کیوں میں تسکینِ دل، اے یار! کروں یا نہ کروں؟
نالہ جا کر پسِ دیوار کروں یا نہ کروں؟ 
سُن لے اک بات مری تُو کہ رمق باقی ہے
پھر سخن تجھ سے ستمگار کروں یا نہ کروں؟
ناصحا! اُٹھ مرے بالِیں سے کہ دَم رکتا ہے
نالے دل کھول کے دو چار کروں یا نہ کروں؟
سخت مشکل ہے کہ ہر بات کنایہ سمجھو
ہے زباں میرے بھی، گفتار کروں یا نہ کروں؟
موسمِ گُل ہے، میں صیّاد سے جا کر یارو
ذکرِ مرغانِ گرفتار، کروں یا نہ کروں 
حال باطن کا نمایاں ہے مرے ظاہر سے
میں زباں اپنی سے اظہار کروں یا نہ کروں؟
عہد تھا تجھ سے تو پھر عمر وفا کرنے کا
اِن سلوکوں پہ، جفا کار، کروں یا نہ کروں؟
کوچۂ یار کو میں، رشکِ چمن، اے سوداؔ
جا کے بادیدۂ خوںبار کروں یا نہ کروں؟

مرزا رفیع سوداؔ

ہم نہ نکہت ہیں نہ گُل ہیں جو مہکتے جاویں


ہم نہ نکہت ہیں نہ گُل ہیں جو مہکتے جاویں
آگ کی طرح جدھر جاویں، دہکتے جاویں
اے خوشا مست کہ تابوت کے آگے جس کے
آب پاشی کے بدل مئے کو چھڑکتے جاویں 
جو کوئی آوے ہے نزدیک ہی بیٹھے ہے ترے
ہم کہاں تک ترے پہلو سے سرکتے جاویں
غیر کو راہ ہو گھر میں ترے، سبحان اللہ
اور ہم دور سے در کو ترے تکتے جاویں 
وقت اب وہ ہے کہ اِک ایک حسنؔ ہو کے بتنگ
صبر و تاب و خرد و ہوش کھسکتے جاویں

میر حسنؔ

مقروض، کہ بگڑے ہوئے حالات کی مانند


مقروض، کہ بگڑے ہوئے حالات کی مانند
مجبور، کہ ہونٹوں پہ سوالات کی مانند
دل کا تیری چاہت میں عجب حال ہوا ہے
سیلاب سے برباد، مکانات کی مانند
میں ان میں بھٹکے ہوئے جگنو کی طرح ہوں
اس شخص کی آنکھیں ہیں کسی رات کی مانند
دل روز سجاتا ہوں میں دُلہن کی طرح سے
غم روز چلے آتے ہیں بارات کی مانند
اب یہ بھی نہیں یاد کہ کیا نام تھا اس کا
جس شخص کو مانگا تھا مناجات کی مانند
کس درجہ مقدّس ہے تیرے قرب کی خواہش
معصوم سے بچے کے خیالات کی مانند
اس شخص سے ملنا محسنؔ میرا ممکن ہی نہیں ہے
میں پیاس کا صحرا ہوں، وہ برسات کی مانند

محسنؔ نقوی

اِس ڈھب سے کِیا کیجے ملاقات کہیں اور


اِس ڈھب سے کِیا کیجے ملاقات کہیں اور
دن کو تو ملو ہم سے، رہو رات کہیں اور
کیا بات کوئی اُس بتِ عیّار کی سمجھے
بولے ہے جو ہم سے تو اِشارات کہیں اور
اس ابر میں پاؤں مَیں کہاں دخترِ رز کو
رہتی ہے مدام اب تو وہ بد ذات کہیں اور
گھر اُس کو بُلا، نذر کیا دل تو وہ جرأتؔ
بولا، کہ یہ بس کیجے مدارات کہیں اور

شیخ قلندر بخش جرأتؔ

کتنی بے ساختہ خطا ہوں میں


کتنی بے ساختہ خطا ہوں میں
آپ کی رغبت و رضا ہوں میں
میں نے جب ساز چھیڑنا چاہا
خامشی چیخ اٹھی، صدا ہوں میں
حشر کی صبح تک تو جاگوں گا
رات کا آخری دِیا ہوں میں
آپ نے مجھ کو خوب پہچانا
واقعی سخت بے وفا ہوں میں
میں نے سمجھا تھا میں محبت ہوں
میں نے سمجھا تھا مدعا ہوں میں
کاش مجھ کو کوئی بتائے عدمؔ
کس پری وش کی بددعا ہوں میں

عبدالحمید عدمؔ

ہم کہ چہرے پہ نہ لائے کبھی ویرانی کو


ہم کہ چہرے پہ نہ لائے کبھی ویرانی کو 
یہ بھی کافی نہیں، ‌ظالم کی پشیمانی کو 
کارِ فرہاد سے یہ کم تو نہیں‌، جو ہم نے 
آنکھ سے دل کی طرف موڑ دیا پانی کو 
شیشۂ شوق پہ تُو سنگِ ملامت نہ گِرا
عکسِ گُلرنگ ہی کافی ہے گراں جانی کو 
تُو رکے یا نہ رکے فیصلہ تجھ پر چھوڑا 
دل نے در کھول دئیے ہیں‌ تری آسانی کو 
دامنِ چشم میں تارا ہے، نہ جگنو کوئی 
دیکھ اے دوست مری بے سروسامانی کو 
ہاں مجھے خبط ہے سودا ہے جنوں ہے شاید
دے لو جو نام بھی چاہو مری نادانی کو
جس میں مفہوم ہو کوئی نہ کوئی رنگِ غزل 
سعدؔ جی آگ لگے ایسی زباں دانی کو

سعدؔاللہ شاہ

شغل بہتر ہے عشق بازی کا


شغل بہتر ہے عشق بازی کا
کیا حقیقی و کیا مجازی کا
ہر زباں پر ہے مثلِ شانہ مدام
ذکر، اُس زلف کی درازی کا
ہوش کے ہاتھ میں عناں نہ رہی
جب سوں دیکھا سوار تازی کا
تیں دکھا کر اُس کے مُکھ کی کتاب
علم کھویا ہے دل سوں قاضی کا
آج تیری نگہ نے مسجد میں
ہوش کھویا ہے ہر نمازی کا
گر نہیں راز فقر سوں آگاہ
فخر بے جا ہے فخرِ رازی کا
اے ولیؔ سرو قد کوں دیکھوں گا
وقت آیا ہے سرفرازی کا

ولیؔ دکنی

ہے ایک ہی جلوہ جو اِدھر بھی ہے اُدھر بھی


ہے ایک ہی جلوہ جو اِدھر بھی ہے اُدھر بھی
آئینہ بھی حیران ہے، و آئینہ نگر بھی
ہو نُور پہ کچھ اور ہی اِک نُور کا عالم
اس رخ پہ جو چھا جائے مرا کیفِ نظر بھی
تھا حاصلِ نظّارہ، فقط ایک تحیّر
جلوے کو کہے کون کہ اب گُم ہے نظر بھی 
اب تو یہ تمنّا ہے، کسی کو بھی نہ دیکھوں
صورت جو دکھا دی ہے تو لے جاؤ نظر بھی

اصغرؔ گونڈوی

دل ٹھہرنے دے تو آنکھيں بھی جھپکتے جاويں


دِل ٹھہرنے دے تو آنکھيں بھی جھپکتے جاويں
ہم، کہ تصوير بنے بس تُجھے تکتے جاويں
چوبِ غم خوردہ کی مانِند سُلگتے رہے ہم
نہ تو بُجھ پائيں، نہ بھڑکيں، نہ دہکتے جاویں
تيری بستی ميں، تيرا نام پتہ کيا پُوچھ لیا
لوگ حيران و پريشاں ہميں تکتے جاويں
کوئی نشے سے کوئی تشنہ لبی سے ساقی
تيری محفِل ميں سبھی لوگ بہکتے جاويں
کیا کرے چارہ کوئی جب ترے اندوہ نصیب 
منہ سے کچھ نہ کہیں اور سسکتے جاویں
ہمنوا سنجِ محبت ہيں ہر اِک رُت ميں فرازؔ
وہ قفس ہو کہ گُلِستاں ہو، چہکتے جاويں

احمد فرازؔ

اے خدا! آج اسے سب کا مقدّر کر دے


اے خدا! آج اسے سب کا مقدّر کر دے
وہ محبت کہ جو انساں کو پیمبر کر دے
سانحے وہ تھے کہ پتھرا گئیں آنکھیں میری
زخم یہ ہیں تو مرے دل کو بھی پتھّر کر دے
صرف آنسو ہی اگر دستِ کرم دیتا ہے
میری اُجڑی ہوئی آنکھوں کو سمندر کر دے
مجھ کو ساقی سے گلہ ہو نہ تُنک بخشی کا
زہر بھی دے تو مرے جام کو بھر بھر کر دے
شوق اندیشوں سے پاگل ہوا جاتا ہے فرازؔ
کاش یہ خانہ خرابی مجھے بے در کر دے

 احمد فرازؔ

اس کا سوچا بھی نہ تھا اب کے جو تنہا گزری


اس کا سوچا بھی نہ تھا اب کے جو تنہا گزری
وہ قیامت ہی غنیمت تھی، جو یکجا گزری
آ، گلے تجھ کو لگا لوں میرے پیارے دُشمن
اک مری بات نہیں، تجھ پہ بھی کیا کیا گزری
میں تو صحرا کی تپش، تشنہ لبی بھول گیا
جو مرے ہمنفسوں پر لبِ دریا گزری
آج کیا دیکھ کے بھر آئی ہیں تیری آنکھیں
ہم پہ اے دوست! یہ ساعت تو ہمیشہ گزری
میری تنہا سفری، میرا مقدر تھی فرازؔ
ورنہ، اس شہرِ تمنّا سے تو دُنیا گزری

احمد فرازؔ

Thursday, 13 December 2012

حامی بھی نہ تھے منکرِ غالب بھی نہیں تھے


حامی بھی نہ تھے منکرِ غالب بھی نہیں تھے
ہم اہلِ تذبذب کسی جانب بھی نہیں تھے
اس بار بھی دُنیا نے ہدف ہم کو بنایا
اس بار تو ہم شہ کے مصاحب بھی نہیں تھے
بیچ آئے سرِ قریۂ زر، جوہرِ پندار 
جو دام ملے ایسے مناسب بھی نہیں تھے
مٹّی کی محبت میں، ہم آشفتہ سروں نے 
وہ قرض اُتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے
لو دیتی ہوئی رات، سخن کرتا ہوا دن
سب اس کیلئے جس سے مخاطب بھی نہیں تھے

افتخار عارفؔ

کھوئے ہوئے اِک موسم کی یاد میں


کھوئے ہوئے اِک موسم کی یاد میں

سمائے میری آنکھوں میں خواب جیسے دن
وہ مہتاب سی راتیں، گلاب جیسے دن
وہ گنجِ شہرِ وفا میں سحاب جیسے دن
وہ دن کہ جن کا تصّور متاعِ قریہ دل
وہ دن کہ جن کی تجلّی فروغ ہر محفل
گئے وہ دن تو آندھیروں میں کھو گئی منزل
فضا کا جبر شکستہ پَروں پہ آ پہنچا
عذاب در بدری بے گھروں پہ آ پہنچا
ذرا سی دیر میں سورج سروں پہ آ پہنچا
کِسے دکھائیں یہ بے مائیگی حزینوں کی
کٹی جو فصل تو غُربت بڑھی زمینوں کی
یہی سزا ہے زمانے میں بے یقینوں کی

افتخار عارفؔ

ہے تاک میں دُزدیدہ نظر، دیکھئے کیا ہو


ہے تاک میں دُزدیدہ نظر، دیکھئے کیا ہو
پھر دیکھ لیا اس نے ادھر، دیکھئے کیا ہو 
دل جب سے لگایا ہے، کہیں جی نہیں لگتا
کس طرح سے ہوتی ہے بسر، دیکھئے کیا ہو
جو کہنے کی باتیں ہیں وہ سب میں نے کہی ہیں
ان کو مرے کہنے کا اثر، دیکھئے کیا ہو
اب کے تو بمشکل دلِ مُضطر کو سنبھالا
اندیشہ ہے یہ بارِ دگر، دیکھئے کیا ہو
اندیشۂ فردا میں عبث جان گھلائیں
ہے آج کسے کل کی خبر، دیکھئے کیا ہو
پھر یاس مٹاتی ہے مرے دل کی تمنّا 
بن بن کے بگڑتا ہے یہ گھر، دیکھئے کیا ہو
اے داغؔ انہیں بھی تو ہے دشمن ہی کا دھڑکا
ہے دونوں طرف ایک ہی ڈر، دیکھئے کیا ہو 

داغؔ دہلوی

نہ آیا نامہ بر اب تک، گیا تھا کہہ کے اب آیا


نہ آیا نامہ بر اب تک، گیا تھا کہہ کے اب آیا
الٰہی کیا ستم ٹُوٹا، خدایا کیا غضب آیا
رہا مقتل میں بھی محروم، آب تیغِ قاتل سے
یہ ناکامی کہ میں دریا پہ جا کر، تشنہ لب آیا
غضب ہے جن پہ دل آئے، کہیں انجان بن کر وہ
کہاں آیا، کدھر آیا، یہ کیوں آیا، یہ کب آیا؟ 
شروعِ عشق میں گستاخ تھے، اب ہیں خوشامد کو
سلیقہ بات کرنے کا نہ جب آیا، نہ اب آیا 
نوشتہ میرا بے معنی، تو دل بے مدعا میرا
مگر اس عالمِ اسباب میں، میں بے سبب آیا 
بسر کیونکر کریں گے خلد میں ہم واعظِ ناداں
ہمارے جدِ امجد کو نہ واں رہنے کا ڈھب آیا 
وہ ارماں حسرتیں جس کی، اگر نکلا تو کب نکلا؟
وہ جلوہ خواہشیں جس کی، نظر آیا تو کب آیا؟ 
ابھی اپنی جفا کو کھیل ہی سمجھا ہے تُو ظالم
کہ جینے پر نہ آیا، میرے مرنے پر عجب آیا 
گیا جب داغؔ مقتل میں، کہا خُوش ہو کے قاتل نے
مرا آفت نصیب آیا، مرا ایذا طلب آیا

داغؔ دہلوی

ملے کیا کوئی اُس پردہ نشیں سے


ملے کیا کوئی اُس پردہ نشیں سے
چھپائے منہ جو صورت آفریں سے
مرے لاشے پر اُس نے مُسکرا کر
ملیں آنکھیں عدو کی آستیں سے 
اثر تک دسترس کیوں کر ہو یارب
دعا نے ہاتھ باندھے ہیں یہیں سے
اُنہوں نے دل لیا ہے، مفت وہ بھی
بڑی حجّت سے، نفرت سے، نہیں سے
بنایا تجھ کو اور ایسا بنایا
کہے کیا کوئی صورت آفریں سے
تمہیں بے داد گر، اللہ کی شان
جفا کی داد میں چاہوں تمہیں سے
گئے ہیں، اور یہ کہتے گئے ہیں
بہل جاؤ گے اپنے ہم نشیں سے 
قیامت کا ہے وعدہ اُس پہ انکار
کلیجہ پک گیا تیری نہیں سے 
عدو کی بات آیت جانتے ہو
خدا محفوظ رکھے اس یقیں سے 
مری بربادیوں کی مشورت کو
فلک جھُک جھُک کے ملتا ہے زمیں سے
لگا دو تیر بھی انکار کے ساتھ
چلے گا کام کیا خالی نہیں سے 
ڈھلا سارا بدن سانچے میں گویا
ذرا اترا نہیں ظالم کہیں سے
ہمارے سامنے شکوہ عدو کا
ہماری گھات اے ظالم کہیں سے
بتاؤں نام اے درباں! تجھے کیا
یہ کہہ دے کوئی آیا ہے کہیں سے
مرا احمدؐ ملے محشر میں مجھ کو
کروں گا عرض رب العالمیں سے 
کبھی دیکھا ہے اتنا داغؔ کو خوش
چلے آتے ہیں یہ حضرت وہیں سے

داغؔ دہلوی

دل چُرا کر، نظر چُرائی ہے


دل چُرا کر، نظر چُرائی ہے
لُٹ گئے، لُٹ گئے، دُہائی ہے
ایک دن مل کے پھر نہیں ملتے
کس قیامت کی یہ جدائی ہے
میں یہاں ہوں وہاں ہے دل میرا
نارسائی، عجب رسائی ہے 
پانی پی پی کے توبہ کرتا ہوں
پارسائی سی پارسائی ہے
وعدہ کرنے کا اختیار رہا
بات کرنے میں کیا بُرائی ہے 
کب نکلتا ہے اب جگر سے تیر
یہ بھی کیا تیری آشنائی ہے
داغؔ ان سے دماغ کرتے ہیں
نہیں معلوم کیا سمائی ہے

داغؔ دہلوی

ملنے لگے ہو دیر دیر، دیکھئے کیا ہے، کیا نہیں


ملنے لگے ہو دیر دیر، دیکھئے کیا ہے، کیا نہیں
تم تو کرو ہو صاحبی، بندے میں کچھ رہا نہیں
بُوئے گُل اور رنگِ گُل، دونوں ہیں دلکش اے نسیم
لیک بقدرِ یک نگاہ، دیکھئے تو وفا نہیں
شکوہ کروں ہوں بخت کا، اتنے غضب نہ ہو بُتاں
مجھ کو خدانخواستہ، تم سے تو کچھ گِلا نہیں
نالے کِیا نہ کر سنا، نوحے مرے پہ عندلیب
بات میں بات عیب ہے، میں نے تجھے کہا نہیں
چشمِ سفید و اشکِ سُرخ، آہ دلِ حزیں ہے یاں
شیشہ نہیں ہے، مے نہیں، ابر نہیں، ہوا نہیں
ایک فقط ہے سادگی، تس پہ بلائے جاں ہے تُو
عشوہ کرشمہ کچھ نہیں، آن نہیں، ادا نہیں
آب و ہوائے ملکِ عشق، تجربہ کی ہے میں بہت
کر کے دوائے دردِ دل، کوئی بھی پھر جِیا نہیں
ہوئے زمانہ کچھ سے کچھ، چھوٹے ہے دل لگا مرا
شوخ کسی بھی آن میں، تجھ سے تو میں جدا نہیں
نازِ بُتاں اُٹھا چکا، دَیر کو میرؔ ترک کر
کعبے میں جا کے رہ میاں، تیرے مگر خدا نہیں

میر تقی میرؔ

تا بہ مقدور انتظار کیا


تا بہ مقدور انتظار کیا
دل نے اب زور بے قرار کیا 
دشمنی ہم سے کی زمانے نے
کہ جفاکار تجھ سا یار کیا 
یہ توہّم کا کارخانہ ہے
یاں وہی ہے جو اعتبار کیا 
ایک ناوک نے اس کی مژگاں کے
طائرِ سدرہ تک شکار کیا 
ہم فقیروں سے بے ادائی کیا
آن بیٹھے جو تم نے پیار کیا
سخت کافر تھا جن نے پہلے میرؔ
مذہبِ عشق اختیار کیا

میر تقی میرؔ

کب تلک یہ ستم اُٹھائیے گا


کب تلک یہ ستم اُٹھائیے گا
ایک دن یونہی جی سے جائیے گا
شکلِ تصویرِ بے خودی کب تک
کسو دن آپ میں بھی آئیے گا
سب سے مل جل کہ حادثے سے پھر
کہیں ڈھونڈا بھی، تو نہ پائیے گا
نہ ہوئے ہم اسیری میں تو نسیم
کوئی دن اور باؤ کھائیے گا
کہئے گا اس سے قصّۂ مجنوں
یعنی پردے میں غم بتائیے گا
اس کے پاؤں کو جا لگی ہے حنا
خوب سے ہاتھ اسے لگائیے گا
اس کے پابوس کی توقّع پر
اپنے تئیں خاک میں ملائیے گا
شرکتِ شیخ و برہمن سے میرؔ
کعبہ و دیر سے بھی جائیے گا
اپنی ڈیڑھ اینٹ کی جدا مسجد
کسو ویرانے میں بنائیے گا

میر تقی میرؔ

عمر بھر ہم رہے شرابی سے


عمر بھر ہم رہے شرابی سے
دلِ پُرخُوں کی اِک گلابی سے 
جی ڈہا جائے ہے سحر سے، آہ
رات گزرے گی کس خرابی سے 
کھلنا کم کم کلی نے سیکھا ہے
اُس کی آنکھوں کی نیم خوابی سے 
برقع اُٹھتے ہی چاند سا نکلا
داغ ہوں اس کی بے حجابی سے 
کام تھے عشق میں بہت، پر میرؔ
ہم ہی فارغ ہوئے شتابی سے

میر تقی میرؔ

آج دل بے قرار ہے، کیا ہے


آج دل بے قرار ہے، کیا ہے
درد ہے، انتظار ہے، کیا ہے
جس سے جلتا ہے دل جگر وہ آہ
شعلہ ہے یا شرار ہے، کیا ہے
یہ جو کھٹکے ہے دل میں کانٹا سا
مژہ ہے، نوکِ خار ہے، کیا ہے
چشم بددُور، تیری آنکھوں میں
نشہ ہے، یا خمار ہے، کیا ہے
میرے ہی نام سے خدا جانے
ننگ ہے، اُس کو عار ہے، کیا ہے
جس نے مارا ہے دام دل پہ مرے
خط ہے، یا زلفِ یار ہے، کیا ہے
کیوں گریبان تیرا آج حسنؔ
اس طرح تار تار ہے، کیا ہے

میر حسنؔ

نظروں میں اُس نے مجھ سے اِشارات آج کی


نظروں میں اُس نے مجھ سے اِشارات آج کی
کیا تھا یہ خواب کچھ نہ کھلی بات آج کی
میں نے تو بھر نظر تجھے دیکھا نہیں ابھی
رکھیو حساب میں نہ ملاقات آج کی
اک بات تلخ کہہ کے کیا زہر عشق سب
تُو نے ہماری خوب مدارات آج کی
یہ گفتگو کبھی بھی نہ آئی تھی درمیان
جو کچھ کہ تُو نے حرف و حکایات آج کی
دل میں یہی تھی میرے کہ دورِ شراب ہو
میں سچ کہوں یہ تُو نے کرامات آج کی
بلبل کے ناؤں پر بھی نہ آیا، بھلا ہوا
صیّاد تیری خالی گئی گھات آج کی
عیشِ شبِ وصال کو ہے صبحِ ہجر بھی
ٹھہری ہے یار کل پہ ملاقات آج کی
بھولے سے نام لے کے مرا ہٹ پٹا گیا
پیاری لگی یہ مجھ کو تری بات آج کی
مجھ پہ یہی قلق جو رہے گا تو یار بِن
کس طرح شب یہ گزرے گی ہیہات آج کی
اب تو جو کچھ ہوا، سو ہوا خیر رات ہے
قسمت میں دیکھنی تھی یہ آفات آج کی
لیکن مجھے تو پھر وہیں کل دیکھیو حسنؔ
گر خیر و عافیت سے کٹی رات آج کی

میر حسنؔ

پابندئ وحشت میں زنجیر کے مشتاق


پابندئ وحشت میں زنجیر کے مشتاق
دیوانے ہیں اس زلفِ گِرہ گیر کے مشتاق
بے رحم نہیں جرمِ وفا قابلِ بخشش
محروم ہیں کس واسطے تعزیر کے مشتاق
رہتے تھے بہم جن سے مثالِ ورق و حرف
اب ان کی رہا کرتے ہیں تحریر کے مشتاق
لکھتا ہوں جو میں آرزوئے قتل میں نامے
ہیں میرے کبوتر بھی ترے تیر کے مشتاق
کیوں قتل میں عشّاق کے اتنا ہے تغافل
مر جائیں گے ظالم دمِ شمشیر کے مشتاق
اے آہ! ذرا شرم کہ وہ کہتے ہیں اکثر
مدّت سے ہیں ہم آہ کی تاثیر کے مشتاق
سیماب تھا دل، جل کے سو اب خاک ہوا ہے
لے جائیں مری خاک کو اکسیر کے مشتاق
کیا ہجر کے دن آنے میں ہے عذر سنیں تو
ہم ہیں ملک الموت کی تقریر کے مشتاق
دل سرد کے سن کے ترے لالۂ موزوں
تھے شیفتہؔ ہم محسنِ تاثیر کے مشتاق

نواب مصطفیٰ خان شیفتہؔ

شیفتہ ہجر میں تو نالۂ شب گیر نہ کھینچ


شیفتہؔ! ہجر میں تو نالۂ شب گیر نہ کھینچ
صبح ہونے کی نہیں خجلتِ تاثیر نہ کھینچ
اے ستمگر! رگِ جاں میں ہے مری پیوستہ
دَم نکل جائے گا سینے سے مرے تیر نہ کھینچ
حور پر بھی کوئی کرتا ہے عمل دنیا میں
رنجِ بے ہودہ بس اے عاملِ تسخیر نہ کھینچ
عشق سے کیا ہے تجھے شکل تری کہتی ہے
حسنِ تقریر کو آہیں دَمِ تقریر نہ کھینچ
ہے یہ سامان صفائی کا عدو سے کیوں کر
دستِ مشاطہ سے یوں زلفِ گرہ گیر نہ کھینچ
اے ستم پیشہ! کچھ امیدِ تلافی تو رہے
دستِ نازک سے مرے قتل کو شمشیر نہ کھینچ
چارہ گر! فکر کر اس میں، کہ مقدّر بدلے
ورنہ بے ہودہ اذّیت پئے تدبیر نہ کھینچ
کون بے جرم ہے جو شائقِ تعزیر نہیں
شوقِ تعزیر سے تو حسرتِ تقصیر نہ کھینچ
وجد کو زمزمۂ مرغِ سحر کافی ہے
شیفتہؔ نازِ مغنئ و مزامیر نہ کھینچ

نواب مصطفیٰ خان شیفتہؔ

شب تُم جو بزمِ غیر میں آنکھیں چُرا گئے


شب تُم جو بزمِ غیر میں آنکھیں چُرا گئے
کھوئے گئے ہم ایسے، کہ اغیار پا گئے
پوچھا کسی پہ مرتے ہو، اور دَم نکل گیا
ہم جان سے عناں بہ عنانِ صدا گئے
پھیلی وہ بُو جو ہم میں نہاں مثلِ غنچہ تھی
جھونکے نسیم کے یہ نیا گُل کھلا گئے
اے آبِ اشک آتشِ عنصر ہے دیکھنا
جی ہی گیا اگر نفسِ شعلہ زا گئے
مجلس میں اس نے پان دیا اپنے ہاتھ سے
اغیار، سبز بخت تھے، ہم زہر کھا گئے
اُٹھا نہ ضعف سے گُلِ داغِ جنوں کا بوجھ
قاروں کی طرح ہم بھی زمیں میں سما گئے
غیروں سے ہو وہ پردہ نشیں کیوں نہ بے حجاب
دم ہائے بے اثر مرے پردہ اُٹھا گئے
تھی بد گمانی اب نہیں کیا عشقِ حور کی
جو آ کے مرتے دَم مجھے صورت دکھا گئے
تابندہ و جوان تو بختِ رقیب تھے
ہم تیرہ روز کیوں غمِ ہجراں کو بھا گئے
بیزار زندگانی کا جینا محال تھا
وہ بھی ہماری نعش کو ٹھوکر لگا گئے
واعظ کے ذکر مہرِ قیامت کو کیا کہوں
عالم شبِ وصال کے آنکھوں میں چھا گئے
جس وقت اس دیار سے اغیار بوالہوس
بدخوئیوں سے یار کی ہو کر خفا گئے
دنیا ہی سے گیا میں جوں ہی ناز سے کہا
اب بھی گمان بد نہ گئے تیرے، یا گئے
اے مومنؔ آپ کب سے ہوئے بندۂ بُتاں
بارے ہمارے دِین میں حضرت بھی آ گئے

مومن خان مومنؔ

ہندو ہیں بُت پرست، مسلماں خُدا پرست


ہندو ہیں بُت پرست، مسلماں خُدا پرست
پُوجوں میں اُس کسی کو جو ہو آشنا پرست
اس دور میں گئی ہے مروّت کی آنکھ پھُوٹ
معدوم ہے جہان سے چشمِ حیا پرست
دیکھا ہے جب سے رنگِ گفک تیرے پاؤں میں
آتش کو چھوڑ گبر ہوئے ہیں حنا پرست
چاہے کہ عکسِ دوست رہے تجھ میں جلوہ گر
آئینہ وار دل کو رکھ اپنے صفا پرست
آوارگی سے خوش ہوں میں اتنا کہ بعدِ مرگ
ہر ذرّہ میری خاک کا ہووے ہوا پرست
خاکِ فنا کو تاکہ پرستش تُو کر سکے
جوں خضرؑ مت کہائیو آبِ بقا پرست
سوداؔ سے شخص کے تئیں آزردہ کیجیے
اے خود پرست حیف، نہیں تُو وفا پرست

مرزا رفیع سوداؔ

کس سے بیان کیجیے، حال دلِ تباہ کا


کس سے بیان کیجیے، حال دلِ تباہ کا
سمجھے وہی اسے جو ہو، زخمی تِری نگاہ کا
مجھ کو تِری طلب ہے یار، تجھ کو ہے چاہ غیر کی
اپنی نظر میں‌ یاں نہیں، طَور کوئی نباہ کا
دِین، دل و قرار، صبر، عشق میں‌تیرے کھو چکے
جیتے جو اب کے ہم بچے نام نہ لیں‌ گے چاہ کا
زمزمے پر رکھے ہے تُو، مرغِ چمن کے گوشِ دل
نالہ کبھی سنا تو کر، اپنے بھی داد خواہ کا
حُسن ترے کا اے صنم، ہے کہ و مہہ پہ نقش آج
تیری ادا پہ شیفتہ، دل ہے گدا و شاہ کا
وصل بھی ہو تو دل مِرا، غم کو نہ چھوڑے ہجر کے
یہ تو ہمیشہ ہے رفیق، وصل ہے گاہ گاہ کا
سوداؔ سُنا ہے میں نے یہ، اُس پہ ہوا تُو مبتلا
رشک سے جس کی چہرے کے داغِ جگر ہے ماہ کا

مرزا رفیع سوداؔ

بہہ چلا چشم سے یکبار جو اِک دریا سا


بہہ چلا چشم سے یکبار جو اِک دریا سا
بیٹھے بیٹھے مجھے کیا جانے یہ لہر آئی کیا
حرفِ مطلب کو مرے سُن کے بصد ناز کہا
"ہم سمجھتے نہیں، بکتا ہے تُو سودائی کیا"
شیخ جی! ہم تو ہیں ناداں، پر اُسے آنے دو
ہم بھی پوچھیں گے ہوئی آپ کی دانائی کیا
کیفیت، محفلِ خوباں کی نہ اُس بِن پوچھو
اُس کو دیکھوں نہ تو پھر دے مجھے دِکھلائی کیا
آج دَم اپنا ٹھہرتا نہیں کیا جانیے آہ
مصلحت لوگوں نے واں بیٹھ کے ٹھہرائی کیا
قطعہ
بر میں وہ شوخ تھا اور سیرِ شبِ ماہ تھی رات
اپنے گھر کیا کہیں، تھی انجمن آرائی کیا
پر گیا صبح سے وہ گھر تو یہی دھڑکا ہے
دیکھیں آج اس کے عوض لے شبِ تنہائی کیا
دیکھنے کا جو کروں اُس کے میں دعویٰ جرأتؔ
مجھ میں جرأت یہ کہاں اور مری بینائی کیا

شیخ قلندر بخش جرأتؔ

مدرسہ، یا دَیر تھا، یا کعبہ، یا بُت خانہ تھا


مدرسہ، یا دَیر تھا، یا کعبہ، یا بُت خانہ تھا
ہم سبھی مہماں تھے یاں، اِک تُو ہی صاحبِ خانہ تھا 
وائے نادانی، کہ وقتِ مرگ یہ ثابت ہوا
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا، جو سُنا افسانہ تھا
حیف! کہتے ہیں ہُوا گُلزار، تاراجِ خزاں
آشنا اپنا بھی واں اِک سبزۂ بے گانہ تھا 
ہو گیا مہماں سرائے کثرتِ موہوم، آہ
وہ دلِ خالی کہ تیرا خاص خلوت خانہ تھا
بھول جا خوش رہ عبث وے سابقے مت یاد کر
دردؔ! یہ مذکور کیا ہے، آشنا تھا، یا نہ تھا

خواجہ میر دردؔ

اسیرِ جسم ہوں، معیادِ قید لا معلوم


اسیرِ جسم ہوں، معیادِ قید لا معلوم
یہ کس گناہ کی پاداش ہے خدا معلوم
تری گلی بھی مجھے یوں تو کھینچتی ہے بہت
ہے اصل میں مری مٹی کہاں کی کیا معلوم
سفر ضرور ہے اور عذر کی مجال نہیں
مزا تو یہ ہے نہ منزل، نہ راستہ معلوم
دعا کروں نہ کروں سوچ ہے یہی کہ تجھے
دعا سے پہلے مرے دل کا مُدّعا معلوم
سنی حکایتِ ہستی تو درمیاں سے سنی
نہ ابتدا کی خبر ہے، نہ انتہا معلوم
کچھ اپنے پاؤں کی ہمت بھی چاہئے اے پیر
یہی نہیں تو مددگارئ عصا معلوم
طلب کریں بھی تو کیا شے طلب کریں اے شادؔ
ہمیں کو آپ نہیں اپنا مُدّعا معلوم

 شادؔ عظیم آبادی

لَو دل کا داغ دے اُٹھے، ایسا نہ کیجیے


لَو دل کا داغ دے اُٹھے، ایسا نہ کیجیے
ہے ڈر کی بات، آگ سے کھیلا نہ کیجیے
کہتا ہے عکس، حُسن کو رُسوا نہ کیجیے
ہر وقت، آپ آئینہ دیکھا نہ کیجیے
کہتی ہے مے فروشوں سے میری سفید ریش
دے دیں گے دام، اُن سے تقاضا نہ کیجیے
اچھی نہیں یہ آپ کی محشر خرامیاں
دُنیا کو اِس طرح تہ و بالا نہ کیجیے
ہے زیرِ بحث فرق سفید و سیاہ کا 
بندِ نقاب اپنے ابھی وا نہ کیجیے
اُٹھنے کو اُٹھے آپ کے کوچے سے روزِ حشر
ایسے کو آنکھ اُٹھا کے بھی دیکھا نہ کیجیے
اپنی حنا کو دیکھیے، نازک سے ہاتھ کو
وہ ڈر رہی ہے خونِ تمنّا نہ کیجیے
آئیگی خُم میں غیب سے وہ دے گا اے ریاضؔ
تلچھٹ بھی کچھ ہو تو غمِ فردا نہ کیجیے

ریاضؔ خیر آبادی

ضبط اپنا شعار تھا، نہ رہا


ضبط اپنا شعار تھا، نہ رہا
دل پہ کچھ اختیار تھا، نہ رہا 
دلِ مرحوم کو خدا بخشے
ایک ہی غمگسار تھا، نہ رہا 
آ، کہ وقتِ سکونِ مرگ آیا
نالہ ناخوشگوار تھا، نہ رہا
ان کی بے مہریوں کو کیا معلوم
کوئی امیدوار تھا ، نہ رہا 
آہ کا اعتبار بھی کب تک
آہ کا اعتبار تھا، نہ رہا 
کچھ زمانے کو سازگار سہی
جو ہمیں سازگار تھا، نہ رہا
اب گریباں کہیں سے چاک نہیں
شغلِ فصلِ بہار تھا، نہ رہا
موت کا انتظار باقی ہے
آپ کا انتظار تھا، نہ رہا
مہرباں! یہ مزارِ فانیؔ ہے
آپ کا جاں نثار تھا، نہ رہا

فانیؔ بدایونی

Monday, 10 December 2012

خوابیدگی، درد کی محرم تو نہیں ہے


خوابیدگی، درد کی محرم تو نہیں ہے
یہ شب ہے، ترا کاکُلِ پُرخم تو نہیں ہے
اِک ابر کی ٹھنڈک میں اسے بھول ہی جائیں
یادوں کی تپش، اتنی بھی مدھم تو نہیں ہے
اس عہد میں وابستگئ موسمِ گُل بھی
اب حلقۂ زنجیر سے کچھ کم تو نہیں ہے
ہر ایک گُل اندام کی چوکھٹ پہ ٹھہر جائے
دل ہے، کوئی آوارۂ عالم تو نہیں ہے
پھر دشتِ تمنّا میں ہے لرزاں، کوئی آواز
خالدؔ! یہ صدائے جرسِ غم تو نہیں ہے

خالدؔ علیم

اِک انتخاب وہ یادوں کے ماہ و سال کا تھا


اِک انتخاب وہ یادوں کے ماہ و سال کا تھا
جو حرفِ ابر زدہ، آنکھ میں ملال کا تھا
شکست آئینۂ جاں پہ سنگ زن رہنا
ہُنر اُسی کا تھا، جتنا بھی تھا، کمال کا تھا
یہ دیکھنا ہے کہ کھل کر بھی بادباں نہ کھلے
تو اس سے کتنا تعلّق ہوا کی چال کا تھا
قبائے زخم کی بخیہ گری سے کیا ہوتا
مرے لہو میں تسلسل ترے خیال کا تھا
پرانے زخم بھی خالدؔ! مرے، ادھیڑ گیا
جو ایک زخم، کفِ جاں پہ پچھلے سال کا تھا

خالدؔ علیم

ہم کہ منزل کا تصوّر نہ نظر میں رکھتے


ہم کہ منزل کا تصوّر نہ نظر میں رکھتے
یہ تو ہوتا کہ ترا ساتھ سفر میں رکھتے
ہم اسیرانِ جنوں اپنی رہائی کے لیے
عزم پرواز کہاں جنبش پر میں رکھتے
ابرِ گِریہ سے تھی خود چاندنی افسردہ جمال
عکسِ مہتاب کو کیا روزن و در میں رکھتے
یا تو ہم چادرِ عزم اوڑھ کے چلتے گھر سے
یا کوئی سایۂ دیوار نظر میں رکھتے
ایک سودائے محبت کے سوا ہم خالدؔ
اور کیا سلسلۂ شام و سحر میں رکھتے

خالدؔ علیم

کسی کی یاد سے، ہم بے نیاز ہو جائیں


کسی کی یاد سے، ہم بے نیاز ہو جائیں
مگر یہ ڈر ہے کہیں رتجگے نہ سو جائیں
فضا اُداس، ستارے اُداس، رات اُداس
یہ زندگی ہے تو ہم بھی اُداس ہو جائیں
وہ سیلِ تند سے بچ کر نکل تو آئے ہیں
یہ خوف ہے نہ کنارے کہیں ڈبو جائیں
اسی لیے تو یہ آنکھیں چھلکنے لگتی ہیں
کہ کشتِ شب میں اُجالوں کے بیج بو جائیں
سکون کا کوئی پَل ہو، کہ نیند آئے ہمیں
نہیں تو درد کے کہرام ہی میں سو جائیں
یہ سوچتے ہیں کہ دشتِ فریب سے چل کر
مسافرانِ جنوں کس دیار کو جائیں؟
یہی ہے کوچۂ جاناں کی رسم اگر خالدؔ
تو آؤ ہم بھی خموشی سے قتل ہو جائیں

خالدؔ علیم

اسے کیا خبر، کہ پلک پلک روش ستارہ گری رہی


اسے کیا خبر، کہ پلک پلک روش ستارہ گری رہی
اسے کیا خبر کہ تمام شب کوئی آنکھ دل سے بھری رہی
کوئی تار تار نگاہ بھی تھی صد آئینہ، اسے کیا خبر
کسی زخم زخم وجود میں بھی ادائے چارہ گری رہی
میں اسیرِ شامِ قفس رہا مگر اے ہوائے دیارِ دل
سرِ طاقِ مطلعِ آفتاب، مری نگاہ دھری رہی
سفر ایک ایسا ہوا تو تھا کوئی ساتھ اپنے چلا تو تھا
مگر اس کے بعد تو یوں ہوا نہ سفر نہ ہمسفری رہی
وہ جو حرفِ بخت تھا لوحِ جاں پہ لکھا ہوا، نہ مٹا سکے
کفِ ممکنات پہ لمحہ لمحہ ازل کی نقش گری رہی
ترے دشتِ ہجر سے آ چکے بہت اپنی خاک اُڑا چکے
وہی چاکِ پیرہنی رہا، وہی خوئے دربدری رہی
وہی خواب خواب حکایتیں، وہی خالدؔ اپنی روایتیں
وہی تم رہے وہی ہم رہے وہی دل کی بے ہُنری رہی

خالدؔ علیم

سقفِ سکوں نہیں تو کیا، سر پہ یہ آسماں تو ہے


سقفِ سکوں نہیں تو کیا، سر پہ یہ آسماں تو ہے
سایۂ زُلف اگر نہیں، دھوپ کا سائباں تو ہے
آنکھ کے طاق میں وہ ایک، جل اُٹھا نجمِ نیم جاں
درد کی رات ہی سہی، کوئی سحر نشاں تو ہے
جاگ رہا ہوں رات سے لذّتِ خواب کے لیے
نیند نہیں جو آنکھ میں جوئے شب رواں تو ہے
پاؤں ہیں زخم زخم اگر، دل ہے اگر فگارِ عشق
تیرے حصول کا مجھے، وہم تو ہے، گماں تو ہے
دل ہے اگر بجھا ہوا، جاں ہے اگر لٹی ہوئی
چشمِ سحر فریب کا آئینہ ضو فشاں تو ہے
عشق و جنوں کے باب میں چاہیے کارِ رفتگاں
اے مرے جذبۂ وفا! جی کا ذرا زیاں تو ہے
شہر ستمگراں وہی، پھر صفِ دشمناں وہی
خالدِؔ خستہ جاں کے پاس تیر نہیں، کماں تو ہے

خالدؔ علیم

سیلِ گِریہ ہے کوئی، جو رگِ جاں کھینچتا ہے


سیلِ گِریہ ہے کوئی، جو رگِ جاں کھینچتا ہے
رنگ چاہت کے وہ آنکھوں پہ کہاں کھینچتا ہے
دل، کہ ہر بار محبت سے لہو ہوتا ہے
دل کو ہر بار یہی کارُ زیاں کھینچتا ہے
شاید اب کے بھی مری آنکھ میں تحریر ہے وہ
لمحۂ یاد، کوئی حرفِ گماں کھینچتا ہے
ایک بے نام سی آہٹ پہ دھڑکتا ہوا دل
عکس تیرا ہی سرِ شیشۂ جاں کھینچتا ہے
جا چکا ہے وہ مرے حال سے باہر، پھر بھی
اپنی جانب مرے ماضی کے نشاں کھینچتا ہے
تیر نکلے گا تو سوچیں گے، ابھی تو خالدؔ
وہ فقط میری طرف اپنی کماں کھینچتا ہے

خالدؔ علیم

کیا ضروری ہے وہ ہمرنگِ نوا بھی ہو جائے


کیا ضروری ہے وہ ہمرنگِ نوا بھی ہو جائے
تم جدھر چاہو، اُدھر کو یہ ہوا بھی ہو جائے
اپنے پر نوچ رہا ہے، ترا زندانئ دل
اسے ممکن ہے رہائی کی سزا بھی ہو جائے
دل کا دامانِ دریدہ نہیں سلِتا، تو میاں
بھاڑ میں جائے اگر چاک رِدا بھی ہو جائے
تم یقیں ہو، تو گماں ہجر کا کم کیا ہو گا
چشمِ بے خواب اگر خواب نما بھی ہو جائے
کہیں ایسا نہ ہو، اس ڈوبتے خورشید کے ساتھ
تیری آواز میں گم میری صدا بھی ہو جائے
ہم اسیرِ دل و جاں خود سے بھی سہمے ہوئے ہیں
خلقتِ شہر تو ہونے کو خدا بھی ہو جائے
مجلسِ شاہ کے ہیں سارے مصاحب خاموش
ہمنوا دل کا امیر الامرا بھی ہو جائے

خالدؔ علیم

یہ حکم ہے کہ غمِ کشتگاں نہ رکھا جائے


یہ حکم ہے کہ غمِ کشتگاں نہ رکھا جائے
بچے ہوؤں کا بھی کوئی گماں نہ رکھا جائے
جو فیصلہ ہی ہمارے خلاف ہونا ہے
تو فیصلے میں ہمارا بیاں نہ رکھا جائے
ہمارے ہاتھ ستاروں پہ پڑنے لگتے ہیں
ہمیں اسیر شبِ درمیاں نہ رکھا جائے
خود اپنا بار تو کیا سر اُٹھا نہیں سکتے
اُٹھا کے ہم پہ کوئی آسماں نہ رکھا جائے
ارادہ چلنے کا ہے اور یہ سوچنا ہے ابھی
کہاں رکھیں یہ قدم اور کہاں نہ رکھا جائے
ہم اپنی منزلِ نادیدہ کی تلاش میں ہیں
سو اب ہمیں بھی پسِ رفتگاں نہ رکھا جائے
بدن دریدہ چلے تھے، قدم بریدہ رُکے
کہ ہجرتوں کا سفر رائیگاں نہ رکھا جائے
ہم اس دیار سے آئے تو کوئی ظلم روا
وہاں تو رکھا گیا ہے، یہاں نہ رکھا جائے
ہوا کی سمت نمائی کچھ اور کہتی ہے
سو کشتیوں میں کوئی بادباں نہ رکھا جائے
ہم آج رات سے نکلیں تو اگلی شب کے لیے
سفر زیادہ سرِ کوئے جاں نہ رکھا جائے
یہ ضابطہ ہے مرے شہریار کا خالدؔ
کسی کے سر پہ کوئی سائباں نہ رکھا جائے

خالدؔ علیم

دامنِ چاک ہی اے ہم نفساں ایسا تھا


دامنِ چاک ہی اے ہم نفساں ایسا تھا
رات ایسی تھی کہاں، چاند کہاں ایسا تھا
ہم ہواؤں کو لیے پھرتے تھے زنجیر بکف
رات اس دشت کی وحشت پہ گماں ایسا تھا
دل کہاں بوجھ اُٹھاتا شب تنہائی کا
یہ ترا قربِ جدائی مری جاں ایسا تھا
قدم اُٹھتا ہی نہ تھا گو کہ زمیں پاؤں میں تھی
آسماں بھی تو مرے سر پہ گراں ایسا تھا
رہ گئے کٹ کے ترے ہجر کے گرداب میں ہم
ورنہ یہ زور سمندر میں کہاں ایسا تھا

خالدؔ علیم

Sunday, 9 December 2012

تجھے بھلا کے جیوں ایسی بددعا بھی نہ دے


تجھے بھلا کے جیوں ایسی بددعا بھی نہ دے
خُدا مجھے یہ تحمّل، یہ حوصلہ بھی نہ دے
مرے بیانِ صفائی کے درمیاں مت بول
سُنے بغیر مجھے، اپنا فیصلہ بھی نہ دے
یہ عمر میں نے ترے نام بے طلب لکھ دی
بھلے سے دامنِ دل میں کہیں جگہ بھی نہ دے
یہ دن بھی آئیں گے، ایسا کبھی نہ سوچا تھا
وہ مجھ کو دیکھ بھی لے اور مسکرا بھی نہ دے
یہ رنجشیں تو محبت کے پھول ہیں ساجدؔ
تعلقات کو اس بات پر گنوا بھی نہ دے

اعتبار ساجد

چاند بھی نکلا، ستارے بھی برابر نکلے


چاند بھی نکلا، ستارے بھی برابر نکلے
مجھ سے اچھے تو شبِ غم کے مقدّر نکلے
شام ہوتے ہی برسنے لگے کالے بادل
صبحدم لوگ دریچوں میں کھلے سر نکلے
کل ہی جن کو تری پلکوں پہ کہیں دیکھا تھا
رات اسی طرح کے تارے مری چھت پر نکلے
دھوپ ساون کی بہت تیز ہے، دل ڈرتا ہے
اُس سے کہہ دو کہ ابھی گھر سے نہ باہر نکلے
پیار کی شاخ تو جلدی ہی ثمر لے آئی
درد کے پھول بڑی دیر میں جا کر نکلے
دلِ ہنگامہ طلب! یہ بھی خبر ہے تجھ کو
مدّتیں ہو گئیں اِک شخص کو باہر نکلے

احمدؔ مشتاق

یہ زمیں صحیفۂ خاک ہے، یہ فلک صحیفۂ نُور ہے


یہ زمیں صحیفۂ خاک ہے، یہ فلک صحیفۂ نُور ہے
یہ کلام پڑھ کبھی غور سے، یہاں ذرّہ ذرّہ زبُور ہے
یہاں برگ برگ ہے اِک نوا، گُل و یاسمن ہیں سخن سرا
اِسے حفظ کر، اِسے دل میں رکھ، یہ وَرق، جو کشف و ظہُور ہے
یہ جو پَل ہیں قربِ جمال کے اِنہیں ڈر سمجھ کے سمیٹ لے
یہ جو آگ سی ترے دل میں ہے، یہ شبیہِ شعلۂ طُور ہے
مَیں خزاں سے خوف زدہ نہیں، مَیں ہوا کا دست نگر نہیں
تبِ موجِ گُل مرے خُوں میں ہے، مرے دل میں لحنِ طیُور ہے
وہی جی گئے جو حیات کے خدوخال خُوں سے سجا گئے
اُنہیں موت کا کوئی ڈر نہیں، جنہیں زندگی کا شعُور ہے
کبھی راحتوں میں بھی رو لیے، کبھی غم سے جی کو رِجھا لیا
یہاں ہجر و وصل سب ایک ہیں، نہ وہ پاس تھا، نہ وہ دُور ہے
پسِ خندہ جھانک لیا نہ ہو، رُخِ گِریہ دیکھ لیا نہ ہو
یہ جو حد سے بڑھ کے تپاک ہے، کوئی پردہ اس میں ضرُور ہے

ضِیاؔ جالندھری

چاند ہی نکلا، نہ بادل ہی چھما چھم برسا


چاند ہی نکلا، نہ بادل ہی چھما چھم برسا 
رات دل پر غمِ دل، صورتِ شبنم برسا 
میرے ارمان تھے برسات کے بادل کی طرح 
غنچے شاکی ہیں کہ یہ ابر بہت کم برسا
سرد جھونکوں نے کہی سُونی رُتوں سے کیا بات 
کِن تمناؤں کا خُوں شاخوں سے تھم تھم برسا
قریہ قریہ تھی ضیاؔ  حسرتِ آبادئ دل 
قریہ قریہ وہیں ویرانوں کا عالم برسا 

ضیاؔ جالندھری

یونہی مر مر کے جئیں، وقت گذارے جائیں


یونہی مر مر کے جئیں، وقت گذارے جائیں
زندگی! ہم ترے ہاتھوں سے نہ مارے جائیں
اب زمیں پر کوئی گوتم، نہ محمؐد، نہ مسیحؑ
آسمانوں سے نئے لوگ اُتارے جائیں
وہ جو موجود نہیں اُس کی مدد چاہتے ہیں
وہ جو سُنتا ہی نہیں، اُس کو پکارے جائیں
باپ لرزاں ہے کہ پہنچی نہیں بارات اب تک
اور ہمجولیاں دُلہن کو سنوارے جائیں
ہم کہ نادان جواری ہیں، سبھی جانتے ہیں
دل کی بازی ہو تو جی جان سے ہارے جائیں
تج دیا تم نے درِ یار بھی اُکتا کے فرازؔ
اب کہاں ڈھونڈنے غمخوار تمہارے جائیں

احمد فرازؔ

یہ دِل کسی بھی طرح شامِ غم گذار تو دے


یہ دِل کسی بھی طرح شامِ غم گذار تو دے
پھر اس کے بعد وہ عمروں کا انتظار تو دے
ہوائے موسمِ گُل جانفزا ہے اپنی جگہ
مگر، کوئی خبرِ یارِ خوش دیار تو دے
ہمیں بھی ضد ہے کہاں عمر بھر نبھانے کی
مگر، وہ ترکِ تعلق کا اختیار تو دے
بجا کہ دردسری ہے یہ زندگی کرنا
مگر، یہ بارِ امانت کوئی اُتار تو دے
ترا ہی ذکر کریں، بس تجھی کو یاد کریں
یہ فرصتیں بھی کبھی فکرِ روزگار تو دے
ترے کرم بھی مجھے یاد ہیں، مگر مرا دل
جو قرض اہلِ زمانہ کے ہیں، اُتار تو دے
فلک سے ہم بھی کریں ظلمِ ناروا کے گِلے
پہ سانس لینے کی مہلت ستم شعار تو دے
فرازؔ! جاں سے گذرنا تو کوئی بات نہیں
مگر اب اسکی اجازت بھی چشمِ یار تو دے

احمد فرازؔ

یُوں تجھے ڈھونڈنے نکلے کہ نہ آئے خُود بھی


یُوں تجھے ڈھونڈنے نکلے کہ نہ آئے خُود بھی
وہ مسافر کہ جو منزل تھے، بجائے خُود بھی
کتنے غم تھے کہ زمانے سے چھپا رکھتے تھے
اس طرح سے کہ ہمیں یاد نہ آئے خُود بھی
ایسا ظالم ہے کہ گر ذکر میں اُسکے کوئی ظلم
ہم سے رہ جائے، تو وہ یاد دلائے خُود بھی
لطف تو جب ہے تعلّق کا کہ وہ سحر جمال
کبھی کھینچے، کبھی کھنچتا چلا آئے خُود بھی
ایسا ساقی ہو تو پھر دیکھئے رنگِ محفل
سب کو مدہوش کرے ہوش سے جائے خُود بھی
یار سے ہم کو تغافل کا گِلہ کیوں ہو کہ ہم
بارہا محفلِ جاناں سے اُٹھ آئے خُود بھی

احمد فرازؔ

روگ ایسے بھی غمِ یار سے لگ جاتے ہیں


روگ ایسے بھی غمِ یار سے لگ جاتے ہیں
در سے اُٹھتے ہیں تو دیوار سے لگ جاتے ہیں
عشق آغاز میں، ہلکی سی خلش رکھتا ہے
بعد میں سینکڑوں آزار سے لگ جاتے ہیں
پہلے پہلے ہوس اِک آدھ دکاں کھولتی ہے
پھر تو بازار کے بازار سے لگ جاتے ہیں
بے بسی بھی کبھی قربت کا سبب بنتی ہے
رو نہ پائیں تو گَلے یار سے لگ جاتے ہیں
کترنیں غم کی جو گلیوں میں اُڑی پھرتی ہیں
گھر میں لے آؤ تو انبار سے لگ جاتے ہیں
داغ دامن کے ہوں دل کے ہوں کہ چہرے کے فرازؔ
کچھ نشاں عمر کی رفتار سے لگ جاتے ہیں

احمد فرازؔ

عاشقی میں میرؔ جیسے خواب مت دیکھا کرو


عاشقی میں میرؔ جیسے خواب مت دیکھا کرو
باؤلے ہو جاؤ گے، مہتاب مت دیکھا کرو
جَستہ جَستہ پڑھ لیا کرنا، مضامینِ وفا
پر کتابِ عشق کا ہر باب مت دیکھا کرو
اِس تماشے میں اُلٹ جاتی ہیں اکثر کشتیاں
ڈُوبنے والوں کو زیرِ آب مت دیکھا کرو
میکدے میں کیا تکّلف، میکشی میں کیا حجاب
بزمِ ساقی میں ادب، آداب مت دیکھا کرو
ہم سے درویشوں کے گھر آؤ تو یاروں کی طرح
ہر جگہ خس خانہ و برفاب مت دیکھا کرو
مانگے تانگے کی قبائیں، دیر تک رہتی نہیں
یار لوگوں کے لقب القاب مت دیکھا کرو
تشنگی میں، لب بھگو لینا بھی کافی ہے فرازؔ
جام میں صہبا ہے یا زہراب مت دیکھا کرو

احمد فرازؔ

منزلِ دوست ہے کیا کون و مکاں سے آگے؟


منزلِ دوست ہے کیا کون و مکاں سے آگے؟
جس سے پوچھو وہی کہتا ہے، یہاں سے آگے
اہلِ دل کرتے رہے، اہلِ ہَوس سے بحثیں
بات بڑھتی ہی نہیں سود و زیاں سے آگے
اب جو دیکھا تو کئی آبلہ پا بیٹھے ہیں
ہم کہ پیچھے تھے بہت ہمسفراں سے آگے
ہم نے اُس حد سے کِیا اپنے سفر کا آغاز
پَر فرشتوں کے بھی جلتے ہیں جہاں سے آگے
کیسے بتلائیں کہ نیرنگِ زمانہ کیا ہے؟
کس کو دُنیا نظر آتی ہے یہاں سے آگے
نہیں ایسا بھی کہ جب چاہا غزل کہہ ڈالی
شعر کی بات ہے کچھ طبعِ رواں سے آگے
اپنے حصّے کی پِلا دیتے ہیں اوروں کو فرازؔ
کب یہ دستور تھا ہم تشنہ لباں سے آگے

احمد فرازؔ

تجھے ہے مشقِ ستم کا ملال، ویسے ہی


تجھے ہے مشقِ ستم کا ملال، ویسے ہی
ہماری جان تھی، جاں پر وبال ویسے ہی
چلا تھا ذکر زمانے کی بے وفائی کا
سو آ گیا ہے تمہارا خیال ویسے ہی
ہم آ گئے ہیں تہہِ دام تو نصیب اپنا
وگرنہ اُس نے تو پھینکا تھا جال ویسے ہی
میں روکنا ہی نہیں چاہتا تھا وار اُس کا
گِری نہیں مرے ہاتھوں سے ڈھال ویسے ہی
زمانہ ہم سے بھلا دُشمنی تو کیا رکھتا
سو کر گیا ہے ہمیں پائمال ویسے ہی
مجھے بھی شوق نہ تھا داستاں سُنانے کا
فرازؔ اُس نے بھی پوچھا تھا حال ویسے ہی

احمد فرازؔ

Saturday, 8 December 2012

پھرے گا تو بھی یونہی کوبکو ہماری طرح


پِھرے گا تُو بھی یُونہی کُوبکُو ہماری طرح
دریدہ دامن و آشفتہ مُو، ہماری طرح
کبھی تو سنگ سے پھُوٹے گی آبجُو غم کی
کبھی تو ٹُوٹ کے روئے گا تُو ہماری طرح
پلٹ کے تجھ کو بھی آنا ہے اس طرف، لیکن
لُٹا کے قافلۂ رنگ و بُو، ہماری طرح
یہ کیا کہ اہلِ ہوس بھی سجائے پِھرتے ہیں
دلوں پہ داغ، جبیں پر لہُو، ہماری طرح
وہ لاکھ دشمنِ جاں ہو، مگر خدا نہ کرے
کہ اُس کا حال بھی ہو ہُو بہُو ہماری طرح
ہمیں فرازؔ! سزاوارِ سنگ کیوں ٹھہرے
کہ اور بھی تو ہیں دیوانہ خُو ہماری طرح

احمد فرازؔ

گُل بھی گُلشن میں کہاں، غُنچہ دہن، تم جیسے


گُل بھی گُلشن میں کہاں، غُنچہ دہن، تم جیسے
کوئی کس منہ سے کرے تم سے سُخن، تم جیسے
یہ میرا حُسنِ نظر ہے تو دِکھا دے کوئی
قامت و گیسُو و رُخسار و دہن، تم جیسے
اب تو قاصد سے بھی ہر بات جھجک کر کہنا
لے گئے ہو میرا بے ساختہ پن تم جیسے
اب تو نایاب ہوئے دشمنِ دیرینہ تک
اب کہاں اے میرے یارانِ کُہن، تم جیسے
کبھی ہم پر بھی ہو احسان کہ بنا دیتے ہو
اپنی آمد سے بیاباں کو چمن تم جیسے
کبھی ان لالہ قباؤں کو بھی دیکھا ہے فرازؔ
پہنے پِھرتے ہیں جو خوابوں کے کفن تم جیسے

احمد فرازؔ

سو صلیبیں تھیں، ہر اِک حرفِ جنُوں سے پہلے


سو صلیبیں تھیں، ہر اِک حرفِ جنُوں سے پہلے
کیا کہوں اب میں "کہُوں یا نہ کہُوں" سے پہلے
اس کو فرصت ہی نہیں دوسرے لوگوں کی طرح
جس کو نسبت تھی مرے حالِ زبُوں سے پہلے
کوئی اِسم ایسا، کہ اُس شخص کا جادو اُترے
کوئی اعجاز، مگر اُس کے فسُوں سے پہلے
بے طلب اُسکی عنایت ہے تو حیران ہوں میں
ہاتھ مانُوس نہ تھے شاخِ نگُوں سے پہلے
حرفِ دل آیا کہ آیا میرے ہونٹوں پہ اب
بڑھ گئی بات بہت سوزِ درُوں سے پہلے
تشنگی نے نگہِ یار کی، شرمندہ کیا
دل کی اوقات نہ تھی قطرۂ خُوں سے پہلے
خوش ہو آشوب محبت سے، کہ زندہ ہو فرازؔ
ورنہ کچھ بھی تو نہیں دل کے سکُوں سے پہلے

احمد فرازؔ