Sunday, 31 March 2013

مرے قریب ہی گو زرد شال رکھی ہے


مرے قریب ہی گو زرد شال رکھی ہے
بدن پہ میں نے مگر برف ڈال رکھی ہے
سنائی دی وہی آواز سبز پتّوں سے
کسی کی یاد ہوا نے سنبھال رکھی ہے
بھٹک بھٹک گئی سسّی تھلوں کے ٹیلے پر
یہ گوٹھ پیار کی گو دیکھ بھال رکھی ہے
ہمارے دل پہ محبت کا وار اچانک تھا
رکھی ہی رہ گئی جس جا پہ ڈھال رکھی ہے
رہیں گے نام وہ پیڑوں پہ نقش صدیوں تک
چڑھا کے جن پہ بہاروں نے چھال رکھی ہے
کلائیوں میں کھنک کر رگّوں کو کاٹا ہے
کہ چوڑیوں نے ستم کی بھی چال رکھی ہے
تلاش بستی میں کرتا ہے جس کو شہزادہ
وہ مورنی کسی جنگل نے پال رکھی ہے
میں تکتی رہتی ہوں اس سایہ دار برگد کو
گھنیری زلف کی اس میں مثال رکھی ہے
رہِ یقیں پہ قدم اٹھ نہیں سکا نیناںؔ
گماں نے پاؤں میں زنجیر ڈال رکھی ہے

فرزانہ نیناںؔ

بہت آسان تھا اس کی محبت کو دعا کرنا


بہت آسان تھا اس کی محبت کو دعا کرنا
بہت مشکل ہے بندے کو مگر اپنا خدا کرنا
کہاں تک کھینچنا دیوار پر سادہ لکیروں کو
تمہاری یاد میں کب تک انھیں بیٹھے گنا کرنا
نجانے کس لئے سیکھا طریقہ یہ ہواؤں نے
مرے کمرے میں سنّاٹے زبردستی بھرا کرنا
لہو کی طرح رگ رگ میں جو پیہم درد بہتا ہے
زمیں کی تہہ میں لے جائے تو کیا اس کا گلہ کرنا
محبت کرنے والوں کی کہانی بس یہی تو ہے
کبھی نیناںؔ میں بھر جانا کبھی دل میں رچا کرنا
حقیقی داستانوں کا فسانہ بھی کوئی لکھے
محبت کرنے والوں کے لئے نیناںؔ دعا کرنا

فرزانہ نیناںؔ

سب اختیار اس کا ہے، کم اختیار میں


سب اختیار اس کا ہے، کم اختیار میں
شاید اسی لئے ہوئی، بے اعتبار میں
پھرتی ہے مرے گھر میں اماوس کی سرد رات
دالان میں کھڑی ہوں بہت بے قرار میں
تھل سے کسی کا اونٹ سلامت گزر گیا
راہِ وفا میں رہ گئی مثلِ غبار میں
انگلی میں رہ گئی ہے انگوٹھی گھِسی ہوئی
لاؤں کہاں سے اب وہی نقش و نگار میں
جی چاہتا ہے رات کے بھرپور جسم سے
وحشت سمیٹ لوں تری دیوانہ وار میں
پارس نے دفعتاً مجھے سونا بنا دیا
قسمت سے آج ہو گئی سرمایہ دار میں
نیلے سمندروں کا نشہ بڑھ نہ جائے گا
موتی نکال لاؤں اگر بے شمار میں
میں ضبطِ غم کی آخری حد تک گئی مگر
ہر شخص کی نگاہ میں ہوں سوگوار میں
نیناںؔ مجھے بھی دیکھ رتیں اوڑھ اوڑھ کر
قوسِ قزح کبھی ہوں کبھی اشک بار میں

فرزانہ نیناںؔ

رتجگے کرتی ہوئی پاگل ہوا کچھ ٹھہر جا


رتجگے کرتی ہوئی پاگل ہوا کچھ ٹھہر جا
میں جلا لوں پیار کی مشعل ہوا کچھ ٹھہر جا
دستکوں کو ہاتھ تک جانے کا موقعہ دے ذرا
چلمنوں میں جھانکتی بیکل ہوا کچھ ٹھہر جا
آرزو کے کچھ ستارے اور ٹانکوں گی ابھی
میرا چھوٹا پڑ گیا آنچل ہوا کچھ ٹھہر جا
توڑ دیتی ہیں چٹانیں الفتوں کی نرمیاں
تند خوئی چھوڑ، بن کومل ہوا کچھ ٹھہر جا
کچے خوابوں کے گھروندوں کو ذرا پکنے تو دے
ہو چکیں اٹھکیلیاں چنچل ہوا کچھ ٹھہر جا
پیار کا ساون کبھی برسات سے پہلے بھی لا
دیکھ کتنے پیڑ ہیں گھائل ہوا کچھ ٹھہر جا
روٹھے نیناںؔ مان جائیں کچھ جتن اس کا بھی کر
ہلکے ہلکے آ کے پنکھا جھل، ہوا کچھ ٹھہر جا

فرزانہ نیناںؔ

اُس نے نرم کلیوں کو روند روند پاؤں سے


اُس نے نرم کلیوں کو روند روند پاؤں سے
تازگی بہاروں کی چھین لی اداؤں سے
بھیج اپنے لہجے کی نرم گرم کچھ تپش
برف کب پگھلتی ہے، چاند کی شعاعوں سے
پاؤں میں خیالوں کے، راستے بچھائے ہیں
آج ہی چرانے ہیں، پھول اس کے گاؤں سے
دور دور رہتی ہے ایک غمزدہ لڑکی
ہجرتوں کی راہوں سے، وصل کی سراؤں سے
تیرے جسم کی خوشبو، شام کی اداسی میں
موتیے کے پھولوں نے چھین لی ہواؤں سے
پیار کی کہانی میں سچ اگر ملے نیناںؔ
عمر باندھ لیتی ہیں لڑکیاں وفاؤں سے

فرزانہ نیناںؔ

خوبصورت جنتوں میں سانپ چھوڑے رات بھر


خوبصورت جنتوں میں سانپ چھوڑے رات بھر
مسکراتی ساعتوں کے لیکھ پھوڑے رات بھر
شمع کی لو ہے کہ ہے یہ آتشِ ہجراں کی آنچ
ہم پگھلتے جا رہے ہیں تھوڑے تھوڑے رات بھر
میں نے دل کی ریت پر اشکوں سے لکھی یہ غزل
اور دریاؤں کے رخ پلکوں سے موڑے رات بھر
ریشمی یادوں کے گچھے کھل رہے ہیں دم بہ دم
بھیگے بھیگے چاند سے موتی نچوڑے رات بھر
دیکھتا رہتا ہے وہ نیناںؔ لئے اب دم بخود
توڑنے والے کے میں نے خواب جوڑے رات بھر

فرزانہ نیناںؔ

ابر بھی جھیل پر برستا ہے


ابر بھی جھیل پر برستا ہے
کھیت اک بوند کو ترستا ہے
درد سہہ کر بھی ملتی ہے تسکین
وہ شکنجہ کچھ ایسے کستا ہے
اس کی مرضی پہ ہے عروج و زوال
بخت ساز آسماں پہ بستا ہے
احتیاطاً ذرا سا دور رہیں
اب تو ہر ایک شخص ڈستا ہے
ہم بھی جوہر شناس ہیں جاناں
دل کا سودا بھی کوئی سستا ہے
ریت بن کر بکھر گئے نیناںؔ
میری آہوں سے تھل جھلستا ہے

فرزانہ نیناںؔ

جسے ڈبو کے گیا تھا حباب پانی میں


جسے ڈبو کے گیا تھا حباب پانی میں
لہر وہ کھاتی رہی پیچ و تاب پانی میں
کبھی تو تارِ رگِ جاں بھی چھیڑ کر دیکھو
بجانے جاتے ہو اکثر رباب پانی میں
تری نگاہ بہت ہے مرے لئے ساقی
نہ گھول مجھ کو بنا کر شراب پانی میں
خبر چھپی ہے جو لڑکی کی وہ نئی تو نہیں
اُتر گئی تھی جو ہو کر خراب پانی میں
پھر اپنی آگ بجھانے کوئی کہاں جائے
لگائے آگ اگر ماہتاب پانی میں
گہر ہمارے بھی نیناںؔ کے دیکھ لو آ کر
تمام سیپ نہیں لاجواب پانی میں

فرزانہ نیناںؔ

منزل کو رہگزر میں کبھی رکھ دیا کرو


منزل کو رہگزر میں کبھی رکھ دیا کرو
اپنی طلب سفر میں کبھی رکھ دیا کرو
جن پر وصالِ یار کا طاری رہے نشہ
وہ حوصلے نہ ڈر میں کبھی رکھ دیا کرو
تاروں بھرے فلک سی، اڑانیں گری ہوئی
بے جاں شکستہ پر میں کبھی رکھ دیا کرو
ممکن ہے اس کو بھی کبھی لے آئے چاند رات
کچھ پھول سونے گھر میں کبھی رکھ دیا کرو
حالات میں پسی ہوئی مجبوریوں کو تم
احباب کی نظر میں کبھی رکھ دیا کرو
پیاسوں کے واسطے یہی نیناںؔ بھرے بھرے
جلتے جھلستے، تھر میں کبھی رکھ دیا کرو

فرزانہ نیناںؔ

زلف کو صندلی جھونکا جو کبھی کھولے گا


زلف کو صندلی جھونکا جو کبھی کھولے گا
جسم ٹوٹے ہوئے پتے کی طرح ڈولے گا
بادشاہوں کی طرح دل پہ حکومت کر کے
وہ مجھے تاش کے پتوں کی طرح رولے گا
جنبش لب سے بھی ہوتا ہے عیاں سب مطلب
وہ مری بات ترازو میں مگر تولے گا
کسی برگد کی گھنی شاخ سے دل کا پنچھی
میری تنہائی کو دیکھے گا تو کچھ بولے گا
چاند پونم کا سرکتی ہوئی ناگن کی طرح
نیلگوں زہر مرے خون میں آ گھولے گا
اڑ گیا سوچ کا پنچھی بھی وہاں سے نیناںؔ
کوئی سنسان بنیرے پہ نہیں بولے گا

فرزانہ نیناںؔ

زخم یادوں کے نہیں مٹتے ہیں آسانی سے


زخم یادوں کے نہیں مٹتے ہیں آسانی سے
داغ دھلتے ہیں کہاں بہتے ہوئے پانی سے
دیکھتی جاتی ہوں میلے کا تماشہ چپ چاپ
کیا پتہ بول پڑے آنکھ ہی ویرانی سے
روشنی کا یہ خزانہ مری آنکھیں ہی نہ ہوں
شمع تو میں نے بجھا دی ہے پریشانی سے
میرے چہرے میں جھلکتا ہے کسی اور کا عکس
آئینہ دیکھ رہا ہے مجھے حیرانی سے
باندھ لی میں نے دعا رختِ سفر میں نیناں
ڈر جو لگتا ہے مجھے بے سر و سامانی سے

فرزانہ نیناںؔ

مرجھائے ہوئے جسم سجا کیوں نہیں دیتے


مرجھائے ہوئے جسم سجا کیوں نہیں دیتے
سورج سے بچانے کی ردا کیوں نہیں دیتے
کَن اکھیوں سے دیکھو گے فضاؤں میں کہاں تک
تم سوکھی زمینوں کو دعا کیوں نہیں دیتے
کٹیا میں پلٹ آئے گی سنیاس اٹھائے
تم اپنی پجارن کو پتا کیوں نہیں دیتے
ویران روش کو بھی سجاوٹ کی طلب ہے
تم شاخ گلابوں کی لگا کیوں نہیں دیتے
لہروں میں کوئی شور نہ گرداب میں گرمی
سوئی ہوئی ندی کو جگا کیوں نہیں دیتے
جب رنگ اٹھا لے تو برش روک نہ پائے
فنکار کو وہ شکل دکھا کیوں نہیں دیتے

فرزانہ نیناںؔ

خوشیوں پہ وبالوں کا گماں ہونے لگا ہے


خوشیوں پہ وبالوں کا گماں ہونے لگا ہے
جاں سوز خیالوں کا گماں ہونے لگا ہے
ڈرتی ہوں کہ آنسو نہ جوابوں میں امڈ آئیں
آنکھوں میں سوالوں کا گماں ہونے لگا ہے
ان اونچی اڑانوں سے معلّق ہوں فضا میں
پھر مجھ کو زوالوں کا گماں ہونے لگا ہے
اک روز گزرتا ہے کچھ اس حال میں میرا
اک رات پہ سالوں کا گماں ہونے لگا ہے
پھول اس نے مرے لان پہ جو زرد بچھائے
نیناںؔ میں ملالوں کا گماں ہونے لگا ہے

فرزانہ نیناںؔ

ہوا کے شور کو رکھنا اسیر جنگل میں


ہوا کے شور کو رکھنا اسیر جنگل میں
میں سن رہی ہوں قلم کی صریر جنگل میں
ہتھیلیوں پہ ہوا سنسناتی پھرتی ہے
میں اسکی چاہ کی ڈھونڈوں لکیر جنگل میں
خیال رکھنا ہے پیڑوں کا خشک سالی میں
نکالنی ہے مجھے جوئے شیر جنگل میں
دیارِ جاں میں پھرے رات دندناتی ہوئے
ادھر ہے قید سحر کا سفیر جنگل میں
عجیب لوگ ہیں دل کے شکار پر نکلی
کمان شہر میں رکھتے ہیں تیر جنگل میں
طلب کے شہر میں تھا جو سدا قیام پذیر
سنا ہے رہتا ہے اب وہ فقیر جنگل میں
کبھی جو چھو کے گزر جائے نرم سا جھونکا
یہ زلف لے کر اڑائے شریر جنگل میں
بڑے سکون سے رہتے ہیں لوگ بستی کی
رکھی ہے دشت میں غیرت، ضمیر جنگل میں
ہوا میں آج بھی روتی ہے بانسری نیناںؔ
اداس پھرتی ہے صدیوں سے ہیر جنگل میں

فرزانہ نیناںؔ

ہر قدم گریزاں تھا، ہر نظر میں وحشت تھی


ہر قدم گریزاں تھا، ہر نظر میں وحشت تھی
مصلحت پرستوں کی رہبری قیامت تھی
منزل تمنّا تک کون ساتھ دیتا ہے
گردِ سعئ لاحاصل ہر سفر کی قسمت تھی
آپ ہی بگڑتا تھا، آپ من بھی جاتا ہے
اس گریز پہلو کی یہ عجیب عادت تھی
اُس نے حال پوچھا تو یاد ہی نہ آتا تھا
کِس کو کِس سے شکوہ تھا، کس سے کیا شکایت تھی
دشت میں ہواؤں کی بے رُخی نے مارا ہے
شہر میں زمانے کی پوچھ گچھ سے وحشت تھی
یوں تو دن دہاڑے بھی لوگ لُوٹ لیتے ہیں
لیکن اُن نگاہوں کی اور ہی سیاست تھی
ہجر کا زمانہ بھی کیا غضب زمانہ تھا
آنکھ میں سمندر تھا، دھیان میں وہ صورت تھی

امجد اسلام امجدؔ

بڑھتی ہیں دل کی الجھنیں راحت کے ساتھ ساتھ


بڑھتی ہیں دل کی الجھنیں راحت کے ساتھ ساتھ
تنہائیاں بھی ملتی ہیں شہرت کی ساتھ ساتھ
سمجھو ناں کار عشق کو جز وقتی مشغلہ
ممکن نہیں کچھ اور محبت کے ساتھ ساتھ 
ہر لمحہ اپنے آپ میں ہے ایک زندگی
کٹتا ہے کب سفر ہہ مسافت کے ساتھ ساتھ 
ہوتے ہی شام بھیڑ سی کرتے ہیں وسوسے 
اور سائے بڑھنے لگتے ہیں وحشت کے ساتھ ساتھ
کیا بے کنار درد ہیں کیا مستقل سوال 
اس چار دن کی عارضی مہلت کے ساتھ ساتھ 
تعبیر کے دنوں میں ہے خوابوں کی روشنی 
رہتی ہے ایک یاد بھی ہجرت کے ساتھ ساتھ 
امجدؔ اسی تضاد سے بنتی ہے زندگی
فرقت کا ڈر ہے وصل کی لذت کے ساتھ ساتھ 

امجد اسلام امجدؔ

جو رَستہ بھی دل نے چُنا ہے


جو رَستہ بھی دل نے چُنا ہے
تیرے غم کی سمت کُھلا ہے
پانی پر جو حرف لِکھا تھا
دیکھو کیسے ٹھہر گیا ہے
ڈھلتی شام کے سائے سائے
تُو ہے تیرا غم ہے کیا ہے 
آگ بُجھے تو مُدّت گُزری
آنکھوں میں کیا پھیل رہا ہے؟
ایک سوال مِلا تھا مجھ کو
میں نے تجھ کو مانگ لیا ہے
یوں لگتا ہے جیسے کوئی
مُجھ کو مسلسل دیکھ رہا ہے
شام کی اُگلی تھام کے سُورج
بُھوکا پیاسا لوٹ رہا ہے
طشتِ فلک میں تارے بھر کر 
چاند کِسے ملنے جاتا ہے 
بارش کی آواز سے امجدؔ
شہر کا چہرہ کِھل اُٹھا ہے 

امجد اسلام امجدؔ

شِکستہ لاکھ ہو نیّا کسی کی


شِکستہ لاکھ ہو نیّا کسی کی
نہیں سُنتا مگر دَریا کسی کی
ضروری کیوں ہے زخمِ بے وفائی
گزرتی کیوں نہیں تَنہا کسی کی
کسی کہ ساتھ سایہ تک نہیں ہے 
کسی کے ساتھ ہے دُنیا کسی کی
میں آنکھوں میں سجائے پھر رہا ہوں
نِشانی ہے میرا صحرا کسی کی
پُرانے ملگجے کپڑوں میں امجدؔ
بڑھی کچھ اور ہی شُوبھا کسی کی

امجد اسلام امجدؔ

اوجھل سہی نِگاہ سے ڈوبا نہیں ہوں میں


اوجھل سہی نِگاہ سے ڈوبا نہیں ہوں میں
اے رات ہوشیار کہ ہارا نہیں ہوں میں 
دَرپیش صبح و شام یہی کَشمکش ہے اب
اُس کا بَنوں میں کیسے کہ اپنا نہیں ہوں میں 
مجھ کو فرشتہ ہونے کا دعویٰ نہیں مگر
جِتنا بُرا سمجھتے ہو اُتنا نہیں ہوں میں
اِس طرح پھیر پھیر کہ باتیں نہ کیجیئے
لہجے کا رُخ سمجھتا ہوں بچہ نہیں ہوں میں
مُمکن نہیں ہے مجھ سے یہ طرزِ مُنافقت
دُنیا تیرے مزاج کا بَندہ نہیں ہوں میں 
امجدؔ تھی بھیڑ ایسی کہ چلتے چلے گئے 
گِرنے کا ایسا خوف تھا ٹِھہرا نہیں ہوں میں 

امجد اسلام امجدؔ

بستیوں میں اِک صدائے بے صدا رہ جائے گی


بستیوں میں اِک صدائے بے صدا رہ جائے گی
بام و دَر پہ نقش تحریرِ ہوا رہ جائے گی
آنسوؤں کا رِزق ہوں گی بے نتیجہ چاہتیں
خشک ہونٹوں پر لرزتی اِک دُعا رہ جائے گی
رُو برو منظر نہ ہوں تو آئینے کس کام کے
ہم نہیں ہوں گے تو دُنیا گردِ پا رہ جائے گی
خواب کے نشّے میں جھکتی جائے گی چشمِ قمر
رات کی آنکھوں میں پھیلی اِلتجا رہ جائے گی
بے ثمر پیڑوں کو چومیں گے صبا کے سبز لب
دیکھ لینا، یہ خزاں بے دست و پا رہ جائے گی

امجد اسلام امجدؔ

کوئی بھی آدمی پورا نہیں ہ


کوئی بھی آدمی پورا نہیں ہے
کہیں آنکھیں، کہیں چہرہ نہیں ہے
یہاں سے کیوں کوئی بیگانہ گزرے
یہ میرے خواب ہیں رستہ نہیں ہے
جہاں پر تھے تِری پلکوں کے سائے
وہاں اب کوئی بھی سایہ نہیں ہے
زمانہ دیکھتا ہے ہر تماشہ
یہ لڑکا کھیل سے تھکتا نہیں ہے
ہزاروں شہر ہیں ہمراہ اُس کے
مسافر دشت میں تنہا نہیں ہے
یہ کیسے خواب سے جاگی ہیں آنکھیں
کسی منظر پہ دل جمتا نہیں ہے
جو دیکھو تو ہر اِک جانب سمندر
مگر پینے کو اِک قطرہ نہیں ہے
مثال چوبِ نم خوردہ، یہ سینہ
سلگتا ہے، مگر جلتا نہیں ہے
خدا کی ہے یہی پہچان شاید
کہ کوئی اور اُس جیسا نہیں ہے

امجد اسلام امجدؔ

توفیق بِنا دل میں ٹھکانہ نہیں مِلتا


توفیق بِنا دل میں ٹھکانہ نہیں مِلتا
نقشے کی مدد سے یہ خزانہ نہیں مِلتا
پلکوں پہ سُلگتی ہوئی نیندوں کا دھواں ہے
آنکھوں میں کوئی خواب سہانا نہیں مِلتا
مِلتی ہی نہیں اُس کو ملاقات کی راہیں
اور مجھ کو نہ مِلنے کا بہانہ نہیں مِلتا
تم جانتے ہو وقت سے بنتی نہیں میری
ضِد کس لئے کرتے ہو کہا نا، نہیں مِلتا
کیا یہ بھی کوئی رسمِ رقابت ہے کہ جس میں
تم مِلتے ہو مُجھ سے تو زمانہ نہیں مِلتا

سلیمؔ کوثر

ایک صدمہ سا ہوا اشک جو اس بار گرے


ایک صدمہ سا ہوا اشک جو اس بار گرے
گھر کے آنسو تھے مگر بر سرِ بازار گرے
ہم ہی آنہوں سے نہیں ہار کے ناچار گرے
آندھیاں جب بھی چلی ہیں کئی اشجار گرے
پھر وہی خواب، وہی طوفاں وہی دو آوازیں
جیسے در پہلے گرے بعد میں دیوار گرے
ایسی آواز سے دل ٹوٹ کے سینے میں گرا
جیسے منجدھار میں بھونچال سے کہسار گرے
جیسے نوبت ہی معالج کی نہیں آئے کوئی
جیسے رستے میں ہی دم توڑ کے بیمار گرے
صرف میں نے ہی تو گجرے نہیں بھیجے اس کو
میرے آنگن میں بھی پھولوں کے کئی ہار گرے
ایک تم ہی نہیں پِھسلے ہو یہاں آ کے عدیمؔ
بارشِ زر میں کئی صاحبِ کردار گرے
دھوپ بارش میں اچانک جو نکل آئی عدیمؔ
زیرِ اشجار کئی سایۂ اشجار گرے

عدیمؔ ہاشمی

میں تیرے درد کی دوا کب تھا


میں تیرے درد کی دوا کب تھا
اب جو بچھڑا ہے وہ مِلا کب تھا
کب دِعا کی تھی وصلِ دائم کی
ہِجر سے دل ابھی بھرا کب تھا
موت کی آرزو مِٹی کب تھی
زندگی اپنا مسئلہ کب تھا
بِجھ گیا تھا تو پِھر جلا لیتے
صِبح تک میرا سِلسلہ کب تھا
ساعتِ شمس، لمحۂ مہتاب
ایک سے دِوسرا جُدا کب تھا
وہ مِلاقات تھی کہ حشر کی شام
یِوں ازل سے ابد مِلا کب تھا
مِجھ کو ہی فِرصتِ گِناہ نہ تھی
ورنہ وہ یار پارسا کب تھا

مبارک حیدرؔ

Saturday, 30 March 2013

بغیر اُس کے اب آرام بھی نہیں آتا


بغیر اُس کے اب آرام بھی نہیں آتا
وہ شخص جس کا مُجھے نام بھی نہیں آتا
اُسی کی شکل مُجھے چاند میں نظر آئے
وہ ماہ رُخ جو لبِ بام بھی نہیں آتا
کروں گا کیا جو مُحبت میں ہو گیا ناکام
مُجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا
بِٹھا دیا مُجھے دریا کے اُس کنارے پر
جِدھر حبابِ تہی جام بھی نہیں آتا
چُرا کے خواب وہ آنکھوں کو رِہن رکھتا ہے
اور اُس کے سر کوئی الزام بھی نہیں آتا

غلام محمد قاصرؔ

مُحبت کی گواہی، اپنے ہونے کی خبر لے جا


مُحبت کی گواہی، اپنے ہونے کی خبر لے جا
جِدھر وہ شخص رہتا ہے مُجھے اے دل اُدھر لے جا
تبسم سے حقیقی خال و خد ظاہر نہیں ہوتے 
تعارف پُھول کا درپیش ہے تو چشمِ تر لے جا
اندھیرے میں گیا وہ روشنی میں لوٹ آئے گا
دِیا جو دل میں جلتا ہے اسی کو بام پر لے جا
اُڑانوں، آسمانوں، آشیانوں کے لیے طائر
یہ پَر ٹُوٹے ہوئے میرے، یہ معیارِ نظر لے جا
زمانوں کو اُڑانیں برق کو رفتار دیتا تھا
مگر مُجھ سے کہا ٹھہرے ہوئے شام و سحر لے جا
کوئی مُنہ پھیر لیتا ہے تو قاصرؔ اب شکایت کیا
تُجھے کس نے کہا تھا آئینے کو توڑ کر لے جا

غلام محمد قاصرؔ

نظر نظر میں ادائے جمال رکھتے تھے


نظر نظر میں ادائے جمال رکھتے تھے 
ہم ایک شخص کا کتنا خیال رکھتے تھے
جبیں پہ آنے نہ دیتے تھے اِک شِکن بھی کبھی 
اگرچہ دل میں ہزاروں ملال رکھتے تھے
خُوشی اُسی کی ہمیشہ نظر میں رہتی تھی
اور اپنی قُوتِ غم بھی بحال رکھتے تھے 
بس اشتیاقِ تکلم میں بارہا ہم لوگ 
جواب دل میں زبان پر سوال رکھتے تھے 
اسی سے کرتے تھے ہم روز و شب کا اندازہ 
زمیں پہ رہ کو سُورج کی چال رکھتے تھے
جنُوں کا جام محبت کی مے، خِرد کا خُمار
ہمیں تھے وہ جو یہ سارے کمال رکھتے تھے 
چُھپا کے اپنی سِسکتی سُلگتی سوچوں سے 
مُحبتوں کے عرُوج و زوال رکھتے تھے 
کچھ اُن کا حُسن بھی ماورا مِثالوں سے 
کچھ اپنا عشق بھی ہم بے مِثال رکھتے تھے
خطا نہیں جو کِھلے پُھول راہِ صرصر میں 
یہ جُرم ہے کہ وہ فکرِ مآل رکھتے تھے

غلام محمد قاصرؔ

گلیوں کی اُداسی پُوچھتی ہے، گھر کا سناٹا کہتا ہے


گلیوں کی اُداسی پُوچھتی ہے، گھر کا سناٹا کہتا ہے
اِس شہر کا ہر رہنے والا کیوں دُوسرے شہر میں رہتا ہے
اِک خُواب نما بیداری میں جاتے ہوئے اُس کو دیکھا تھا
اِحساس کی لہروں میں اب تک حیرت کا سفینہ بہتا ہے
پھر جسم کے منظرنامے میں سوئے ہوئے رنگ نہ جاگ اُٹھیں
اِس خوف سے وہ پوشاک نہیں، بس خواب بدلتا رہتا ہے
چھ دن تو بڑی سچائی سے سانسوں نے پیام رسانی کی
آرام کا دن ہے کس سے کہیں دل آج جو صدمے سہتا ہے
ہر عہد نے زندہ غزلوں کے کتنے ہی جہاں آباد کیے
پر تجھ کو دیکھ کے سوچتا ہوں اِک شعر ابھی تک رہتا ہے

غلام محمد قاصرؔ

یوں تو صدائے زخم بہت دُور تک گئی


یوں تو صدائے زخم بہت دُور تک گئی
اِک چارہ گر کے شہر میں جا کر بھٹک گئی
خُوشبو گرفتِ عکس میں لایا اور اُس کے بعد
میں دیکھتا رہا تِری تصویر تھک گئی
گُل کو برہنہ دیکھ کر جھونکا نسِیم کا
جُگنو بُجھا رہا تھا کہ تِتلی چمک گئی
میں نے پڑھا تھا چاند کو انجیل کی طرح
اور چاندنی صلِیب پر آ کر لٹک گئی
روتی رہی لِپٹ کے ہر اِک سنگِ مِیل سے
مجبور ہو کے شہر کے اندر سڑک گئی
قاتل کو آج صاحبِ اعجاز مان کر
دیوارِ عدل اپنی جگہ سے سِرک گئی

غلام محمد قاصرؔ

ضبط کرتے رہیں حالِ دلِ مُضطر نہ کہیں


ضبط کرتے رہیں حالِ دلِ مُضطر نہ کہیں
یہ بھی ہے پاسِ وفا، تُجھ کو ستمگر نہ کہیں
ہم جو کہتے ہیں نشے میں، ہمیں کہہ لینے دو
عین مُمکن ہے کہ پھر ہوش میں آ کر نہ کہیں
بات اتنی ہے کہ ہم اذنِ تکلم چاہیں
آپ کے حلقہ نشیں بات بڑھا کر نہ کہیں
گُونج اپنی سہی، تائید میں آواز تو ہے
کیوں ترے شہر سے ہم دشت کو بہتر نہ کہیں
میرے احباب کا، اس دور میں معیار ہے یہ
پیٹھ پیچھے جو کہیں، وہ مرے منہ پر نہ کہیں
ذات کے خول میں ہر شخص مقید ہے یہاں
کیا کہیں اس کو اگر عرصۂ محشر نہ کہیں
گرد اتنی ہے کہ پہچان نہ پائیں خُود کو
جبر ہے، پھر بھی فضاؤں کو مکدر نہ کہیں
یوں تو اظہارِ غمِ دل کی اجازت ہے ہمیں
شرط یہ بھی ہے کہ پتھر کو بھی پتھر نہ کہیں
ہم ہیں فنکار، مقابر کے مؤرخ تو نہیں
ہم جو محسُوس کریں دل میں، وہ کیونکر نہ کہیں

مرتضٰیؔ برلاس

مِلتے ہی خُود کو آپ سے وابستہ کہہ دیا


مِلتے ہی خُود کو آپ سے وابستہ کہہ دیا
محسوس جو کیا وہی برجستہ کہہ دیا
میں چپ ہوا تو زخم مرے بولنے لگے
سب کچھ زبانِ حال سے لب بستہ کہہ دیا
خُورشیدِ صُبحِ نو کو شکایت ہے دوستو
کیوں شب سے ہم نے صبح کو پیوستہ کہہ دیا
چلتا رہا تو دشت نوردی کا طنز تھا
ٹھہرا ذرا تو آپ نے پابستہ کہہ دیا
دیکھا تو ایک آگ کا دریا تھا موجزن
اس دورِ ناسزا نے جسے رستہ کہہ دیا
دیکھی گئی نہ آپ کی آزردہ خاطری
کانٹے مِلے تو ان کو بھی گُلدستہ کہہ دیا

مرتضٰیؔ برلاس

اک بار ہی جی بھر کے سزا کیوں نہیں دیتے


اک بار ہی جی بھر کے سزا کیوں نہیں دیتے
گر حرفِ غلط ہوں تو مٹا کیوں نہیں دیتے
ایسے ہی اگر مونس و غم خوار ہو میرے
یارو مجھے مرنے کی دعا کیوں نہیں دیتے
اب شدتِ غم سے مرا دم گُھٹنے لگا ہے
تم ریشمی زُلفوں کی ہوا کیوں نہیں دیتے
فردا کے دُھندلکوں میں مجھے ڈُھونڈنے والو
ماضی کے دریچوں سے صدا کیوں نہیں دیتے
موتی ہوں تو پھر سوزنِ مِژگاں سے پِرو لو
آنسو ہوں تو دامن پہ گِرا کیوں نہیں دیتے
سایہ ہوں تو پھر ساتھ نہ رکھنے کا سبب کیا
پتھر ہوں تو رستہ سے ہٹا کیوں نہیں دیتے

مرتضٰیؔ برلاس

کرتے ہو گلی کُوچوں کو تارِیک بھی خُود ہی


کرتے ہو گلی کُوچوں کو تارِیک بھی خُود ہی
پھر روشنی کی بانٹتے ہو بِھیک بھی خُود ہی
رسی جو نہیں کھنچتا ظالم کی کسی طور
آ جاتی ہے پھر سوچ میں تشکِیک بھی خُود ہی
بِن بات جو وہ خُود ہی بگڑ بیٹھا ہے ہم سے
اک روز وہ ہو جائے گا پھر ٹِھیک بھی خُود ہی
ہوتا ہے وہ بیدار تو رہتا ہے کشیدہ
خوابوں میں چلا آتا ہے نزدِیک بھی خُود ہی
آنکھیں ہوں کُھلی اور ہو احساس بھی زندہ
ہو جاتی ہے پھر شعر کی تحرِیک بھی خُود ہی
اک لفظ کی تعریف سے پتھر کو کیا موم
حل کر ہی لیا نکتۂ بارِیک بھی خُود ہی
نازک سی کوئی بات کرو گے تو یہاں پر
بن جاؤ گے تم مرکزِ تضحِیک بھی خُود ہی
اسلاف کا وِرثہ ہے سخن گوئی جو ہم تک 
بس ہوتا چلا آیا ہے تملِیک بھی خُود ہی

مرتضٰیؔ برلاس

آنکھ برسی ہے ترے نام پہ ساون کی طرح


آنکھ برسی ہے ترے نام پہ ساون کی طرح
جسم سُلگا ہے تری یاد میں ایندھن کی طرح
لوریاں دی ہیں کسی قُرب کی خواہش نے مجھے
کچھ جوانی کے بھی دن گُزرے ہیں بچپن کی طرح
اس بلندی سے مجھے تُو نے نوازا کیوں تھا
گِر کے میں ٹُوٹ گیا کانچ کے برتن کی طرح
مجھ سے مِلتے ہوئے یہ بات تو سوچی ہوتی
میں ترے دل میں سما جاؤں گا دھڑکن کی طرح
منتطر ہے کسی مخصوص سی آہٹ کے لیے
زندگی بیٹھی ہے دہلیز پہ بِرہن کی طرح

مرتضٰیؔ برلاس

تُم اک ایسے شخص کو پہچانتے ہو یا نہیں


تُم اک ایسے شخص کو پہچانتے ہو یا نہیں
جس کا چہرہ بولتا ہے اور لب گویا نہیں
صُبح کو چہرے پہ تھے دو زخم آنکھوں کی جگہ
رات کچھ رونے کی خواہش تھی مگر رویا نہیں
پھیلتا جاتا ہےخُود رو سبزہ غم چار سُو
کھیت وہ کاٹُوں گا جو میں نے کبھی بویا نہیں
وہ بچھڑ کے اور بھی شدت سے یاد آنے لگا
میں نے جس کو کھو دیا دل نے اسے کھویا نہیں
خواب دیکھا تھا کوئی بچپن کی کچی نیند میں
دوستوں پھر آج تک میں چین سے سویا نہیں
زینتِ ملبوس ہستی بڑھ گئی جس داغ سے
زندگی بھر میں نے پھر اُس داغ کو دھویا نہیں

مرتضٰیؔ برلاس

سرِ حیات اِک الزام دھر گئے ہم بھی


سرِ حیات اِک الزام دھر گئے ہم بھی
کلام بھی نہ جِیا اور مر گئے ہم بھی
یہ عہد ایک مسیحا نفَس میں زندہ تھا
رہا نہ وہ بھی سلامت، بکھر گئے ہم بھی
چمک اُٹھا تھا وہ چہرہ، دھڑک اُٹھا تھا یہ دل
نہ اُس نے راستہ بدلا، نہ گھر گئے ہم بھی
بتوں کی طرح کھڑے تھے ہم اِک دوراہے پر
رُخ اُس نے پھیر لِیا، چشمِ تر گئے ہم بھی
کچھ ایسے زور سے کڑکا فراق کا بادل
لرز اُٹھا کوئی پہلو میں، ڈر گئے ہم بھی
جدائی میں بھی ہم اِک دوسرے کے ساتھ رہے
کڈھب رہا نہ وہ، خالدؔ سنور گئے ہم بھی

خالدؔ احمد

Friday, 29 March 2013

اِک اجاڑ بستی کا اِک اداس جادہ تھا


اِک اجاڑ بستی کا اِک اداس جادہ تھا
اور بادیہ پیما ایک مستِ بادہ تھا
حسنِ کم نگاہی پر عمر بھر نہ کھل پایا
دل کی بند مٹھی میں ایک حرفِ سادہ تھا
عمر بھر کے غم لے کے چشمِ نم اُمڈ آئے
وجہِ گرم بازاری اک غلام زادہ تھا
ہر محل پہ سایہ تھا کچھ دراز پلکوں کا
خواب خواب آنکھوں میں ایک شاہزادہ تھا
بادشاہ کے گھر تک آنچ کس طرح آتی
اس بساط پر باقی اب تک اِک پیادہ تھا
صبر کا علم اب تک سربلند تھا لیکن
شہرِ گنگ میں چرچا جبر کا زیادہ تھا
قافلے ہواﺅں کے دل بہ کف گداﺅں کے
دشت میں نکل آئے، شہر کا ارادہ تھا
شاخ شاخ تھی جس کی، کل بہار پیرایہ
وہ ہزار پیراہن آج بے لبادہ تھا
ایک دن تو دھلنا تھے داغ نارسائی کے
ہم بھی جانتے تھے یہ قتل بے ارادہ تھا
شکوہ کج ادائی کا، رنج نارسائی کا
اور پارسائی کا، ہر سخن اعادہ تھا
شہرِ ہجر میں خالدؔ دوست دو ہمارے تھے
اِک چراغِ جادہ تھا، اِک رُخِ کشادہ تھا
رات کی سیاہی بھی پڑ رہی تھی کم خالدؔ
اِک چراغ زادہ تھا، اِک چراغِ جادہ تھا

خالدؔ احمد

لبِ خاموش سے اظہارِ تمنا چاہیں


لبِ خاموش سے اظہارِ تمنا چاہیں
بات کرنے کو بھی تصویر کا لہجہ چاہیں
تو چلے ساتھ تو آہٹ بھی نہ آئے اپنی
درمیاں ہم بھی نہ ہوں یوں تجھے تنہا چاہیں
ظاہری آنکھ سے کیا دیکھ سکے گا کوئی
اپنے باطن پہ بھی ہم فاش نہ ہونا چاہیں
جسم پوشی کو ملے چادرِ افلاک ہمیں
سر چھپانے کے لئے وسعتِ صحرا چاہیں
خواب میں روئیں تو احساس ہو سیرابی کو
ریت پر سوئیں مگر آنکھ میں دریا چاہیں
بھینٹ چڑھ جاؤں نہ میں اپنے ہی خیر و شر کی
خونِ دل ضبط کریں، زخمِ تماشا چاہیں
زندگی آنکھ سے اوجھل ہو مگر ختم نہ ہو
اِک جہاں اور پسِ پردۂ دنیا چاہیں
آج کا دن تو چلو کٹ گیا جیسے بھی کٹا
اب خداوند سے خیریتِ فردا چاہیں
ایسے تیراک بھی دیکھے ہیں مظفرؔ ہم نے
غرق ہونے کے لئے بھی جو سہارا چاہیں

مظفرؔ وارثی

بات کرنی مجھے مشکِل کبھی ایسی تو نہ تھی


بات کرنی مجھے مشکِل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفِل کبھی ایسی تو نہ تھی
لے گیا چھین کے کون آج ترا صبر و قرار
بیقراری تجھے اے دِل کبھی ایسی تو نہ تھی
اس کی آنکھوں نے خدا جانے کِیا کیا جادو
کہ طبیعت مری مائِل کبھی ایسی تو نہ تھی
عکسِ رخسار نے کس کے ہے تجھے چمکایا
تاب تجھ میں مہِ کامِل کبھی ایسی تو نہ تھی
اب کی جو راہِ محبت میں اٹھائی تکلیف
سخت ہوتی ہمیں منزِل کبھی ایسی تو نہ تھی
پائے خُوباں کوئی زنداں میں نیا ہے مجنوں
آتی آوازِ سلاسِل کبھی ایسی تو نہ تھی
نِگَہِ یار کو اب کیوں ہے تغافل اے دل
وہ ترے حال سے غافِل کبھی ایسی تو نہ تھی
چشمِ قاتل مری دشمن تھی ہمیشہ لیکن
جیسی اب ہو گئی قاتِل کبھی ایسی تو نہ تھی
کیا سبب تو جو بگڑتا ہے ظفرؔ سے ہر بار
خُو تری حُورِ شمائِل کبھی ایسی تو نہ تھی

بہادر شاہ ظفرؔ

شہرِ بے مہر سے پیمانِ وفا کیا باندھیں


شہرِ بے مہر سے پیمانِ وفا کیا باندھیں
خاک اُڑتی ہے گلِ تَر کی ہوا کیا باندھیں
جانتے ہیں سفرِ شوق کی حد کیا ہو گی
زور باندھیں بھی تو ہم آبلہ پا کیا باندھیں
کوئی بولے گا تو آواز سُنائی دے گی
ہُو کا عالم ہو تو مضمونِ صدا کیا باندھیں
ساری بستی ہوئی اِک موجۂ سفاک کی نذر
اب کوئی بند سرِ سَیلِ بلا کیا باندھیں
آخِرَش، ہر نفسِ گرم کا انجام ہے ایک
سو گھڑی بھر کو طلسم من و ما کیا باندھیں

افتخار عارفؔ

اختلاف اس سے اگر ہے تو اسی بات پہ ہے


اختلاف اس سے اگر ہے تو اسی بات پہ ہے
زور سب اس کا فقط اپنے مفادات پہ ہے
اپنے آئندہ تعلق کا تو اب دار و مدار
تیری اور میری ہم آہنگئ جذبات پہ ہے
دل کو سمجھایا کئی بار کہ باز آ جائے
پھر بھی کمبخت کو اصرار ملاقات پہ ہے
اس کا کہنا ہے مجھے بھی کبھی دیکھو مڑ کر
کیا کروں میری نظر صورتِ حالات پہ ہے
بے حِسی کے مجھے الزام عطا اس نے کئے
جس کے احساس کا سایہ مرے دن رات پہ ہے
چارہ گر اس کے سوا کون ہے ساجدؔ میرا
قبضہ جس کا مری تنہائی کے لمحات پہ ہے

اعتبار ساجد

یہ نہیں کہ سارے جہان میں مجھے ہمسفر ہی نہیں ملا

یہ نہیں کہ سارے جہان میں مجھے ہمسفر ہی نہیں مِلا
سبھی اعتبار کے ساتھ تھے، کوئی معتبر ہی نہیں مِلا
مِری نبض چُھو کے تو دیکھتا کہ شکستہ دل کی صدا ہے کیا
مِرا لا علاج مَرض نہ تھا، کوئی چارہ گر ہی نہیں مِلا
کبھی شہر چھان لئے گئے، کہیں خیمے تان لئے گئے
جسے دیکھتا تھا میں خواب میں، مجھے وہ نگر ہی نہیں مِلا
مجھے وہ مکِیں ہی نہیں مِلے، جنہیں میری ذات سے پیار ہو
جسے اپنا گھر میں سمجھ سکوں، مجھے ایسا گھر ہی نہیں مِلا
رہا مضطرب مِرا شوق بھی، مِرا سجدہ کرنے کا ذوق بھی
مجھے سنگِ رہ تو بہت مِلے، ترا سنگِ در ہی نہیں مِلا
سبھی اپنے اپنے گروہ کے، غمِ آرزو کا شکار تھے
کسے میں دِکھاتا یہ زخمِ دل، کوئی دیدہ ور ہی نہیں مِلا

اعتبار ساجد

ہم مر گئے کہ پیاس میں پانی نہیں مِلا


ہم مر گئے کہ پیاس میں پانی نہیں مِلا
ہم کو ثبوتِ تشنہ دہانی نہیں مِلا
اوجھل ہوئے وہ شہر تو پھر مِل نہیں سکے
جیسے ہمارا عہدِ جوانی نہیں مِلا
اتنے بڑے جہاں میں کمی تو نہ تھی کوئی
جاناں تو سینکڑوں تھے، وہ جانی نہیں مِلا
دریا کھنگال ڈالے ہیں، اُس کی تلاش میں
پلکوں سے ریگِ دَشت بھی چھانی نہیں مِلا
صبر آ گیا تو سُوکھی ندی بھی اُبل پڑی
جب پیاس تھی تو بُوند بھی پانی نہیں مِلا

اعتبار ساجد

وہ زُود رنج منانے بھی تو نہیں دیتا


وہ زُود رنج منانے بھی تو نہیں دیتا
جو دل پہ گزری، بتانے بھی تو نہیں دیتا
گو اُس نے خار بچھائے نہیں ہیں رَستے میں
مگر، وہ اُن کو ہٹانے بھی تو نہیں دیتا
یہ زخم اُس نے لگائے نہیں مگر سوچو
وہ ان کے داغ مٹانے بھی تو نہیں دیتا
دھیان اُس کا ہٹے بھی تو کس طرح سے ہٹے
وہ اپنی یاد بُھلانے بھی تو نہیں دیتا
پیام آئے کبھی اُس کا یہ نہیں ممکن
دل اُسکے شہر کو جانے بھی تو نہیں دیتا
وہ تیرگی کا مخالف بنا تو ہے، لیکن
چراغ گھر میں جلانے بھی تو نہیں دیتا
اُسی کی ذات کا ہر پَل طواف کرتے ہیں
دل ہم کو اور ٹھکانے بھی تو نہیں دیتا
جو ہم پہ شِرک کے فتوے لگا رہا ہے بتولؔ
وہ دَر سے سر کو اُٹھانے بھی تو نہیں دیتا

فاخرہ بتولؔ

زندگی کے ساز کا ٹُوٹا ہوا ہر تار ہے


زندگی کے ساز کا ٹُوٹا ہوا ہر تار ہے
کوئی نغمہ اس میں اُبھرے، سوچنا بیکار ہے
مصلحت کی کوئی بھی زنجیر پیروں میں نہیں
ایسا کیوں لگتا ہے جیسے دل پسِ دِیوار ہے
جب حکومت کہہ رہی ہے امن ہے چاروں طرف
خُون میں ڈُوبا ہوا کیوں آج کا اخبار ہے
سانس کی گردِش ہے سِینے میں مقیّد اس طرح
جس طرح پنجرے میں پنچھی قید ہے، لاچار ہے
یُوں خُوشی کے نام سے دل کانپ اُٹھتا ہے بتولؔ
زندگی کا رقص جیسے موت کی جھنکار ہے

فاخرہ بتولؔ

آنکھوں سے پرے نِیند کی رفتار میں رہنا


آنکھوں سے پرے نِیند کی رفتار میں رہنا
ہر پل کسی نادِید کے دِیدار میں رہنا
کھو جانا اسے دیکھ کے عُریاں کے سفر میں
چُھوتے ہی اُسے حجلۂ اسرار میں رہنا
اِک خوابِ درِیدہ کو رگِ حرف سے سِینا
پِھر لے کے اسے کوچہ و بازار میں رہنا
خود اپنے کو ہی دیکھ کے حیران سا ہونا
نرگس کی طرح موسمِ بیمار میں رہنا
مرنا یونہی ابریشم و کمخواب ہوس میں
دم توڑ کے زندہ کبھی دِیوار میں رہنا
بادل کبھی پُروا کبھی پھولوں سے لپٹنا
ہر لمحہ تیرے آنے کے آثار میں رہنا
حسرت سی لیے خلقتِ معصوم میں پھرنا
سازش کی طرح گردشِ دربار میں رہنا
سرمدؔ تپشِ نارِ سخن میں ہوں کہ مجھ کو
گُل کرتا رہا شعلہ و انگار میں رہنا

سرمدؔ صہبائی

شوق برہنہ پا چلتا تھا اور رستے پتھرِیلے تھے


شوق برہنہ پا چلتا تھا اور رستے پتھرِیلے تھے
گِھستے گِھستے گِھس گئے آخر کنکر جو نوکِیلے تھے
خارِ چمن تھے شبنم شبنم پھول بھی سارے گِیلے تھے
شاخ سے ٹوٹ کے گرنے والے پتے پھر بھی پِیلے تھے
سرد ہواؤں سے تو تھے ساحل کی ریت کے یارانے
لُو کے تھپیڑے سہنے والے صحراؤں کے ٹِیلے تھے
تابندہ تاروں کا تحفہ صبح کی خدمت میں ‌پہنچا
رات نے چاند کی نذر کیے جو تارے کم چمکِیلے تھے
سارے سپیرے ویرانوں میں گھوم رہے ہیں بِین لیے
آبادی میں رہنے والے سانپ بڑے زہرِیلے تھے
تم یونہی ناراض ہوئے ہو ورنہ مے خانے کا پتہ
ہم نے ہر اس شخص سے پوچھا جس کے نین نشِیلے تھے
کون غلام محمد قاصرؔ بے چارے سے کرتا بات
یہ چالاکوں کی بستی تھی اور حضرت شرمِیلے تھے

غلام محمد قاصرؔ

آخر وہ میرے قد کی بھی حد سے گزر گیا


آخر وہ میرے قد کی بھی حد سے گزر گیا
کل شام میں تو اپنے ہی سائے سے ڈر گیا
مٹھی میں بند کیا ہوا بچوں کے کھیل میں
جگنو کے ساتھ اُس کا اجالا بھی مر گیا
کچھ ہی برس کے بعد تو اُس سے ملا تھا میں
دیکھا جو میرا عکس تو آئینہ ڈر گیا
ایسا نہیں کہ غم نے بڑھا لی ہو اپنی عمر
موسم خوشی کا وقت سے پہلے گزر گیا
لکھنا مرے مزار کے کتبے پہ یہ حروف
مرحوم زندگی کی حراست میں مر گیا

قتیلؔ شفائی

سُرخی بدن میں رنگِ وفا کی تھی کچھ دنوں


سُرخی بدن میں رنگِ وفا کی تھی کچھ دنوں 
تاثیر یہ بھی اس کی دُعا کی تھی کچھ دنوں 
ڈھونڈے سے اسکے نقش اُلجھتے تھے اور بھی
حالت تمام کرب و بلا کی تھی کچھ دنوں 
کاغذ پہ تھا لکھا ہوا ہر حرف، لب کُشا
تحریر، جسم، صوت و ادا کی تھی کچھ دنوں 
شاخوں پہ کونپلوں کو زبانیں عطا ہوئیں 
یہ دلبری بھی دستِ صبا کی تھی کچھ دنوں 
دل سوزئ وفا کو شکیبائی کی عطا
شائستگی یہ رنگِ حنا کی تھی کچھ دنوں 
اب ہے کدورتوں کا کھُلا دشت اور میں 
چاہت تمام تیری رضا کی تھی کچھ دنوں 
کیفیتِ نشاط تھی خود ہی سے گفتگو
ناہیدؔ یہ ردا بھی حیا کی تھی کچھ دنوں

کشور ناہیدؔ

وہ اجنبی تھا غیر تھا کس نے کہا نہ تھا


وہ اجنبی تھا غیر تھا کس نے کہا نہ تھا
دل کو مگر یقین کسی پر ہوا نہ تھا
ہم کو تو احتیاطِ غمِ دل عزیز تھی
کچھ اس لیے بھی کم نگہی کا گلہ نہ تھا
دست خیال یار سے چھوٹے شفق کے رنگ
نقش قدم بھی رنگ حنا کے سوا نہ تھا
ڈھونڈا بہت اسے کہ بلایا تھا جس نے پاس
جلوہ مگر کہیں بھی صدا کے سوا نہ تھا
کچھ اس قدر تھی گرمی بازارِ آرزو
دل جو خریدتا تھا اسے دیکھتا نہ تھا
کیسے کریں ذکرِ حبیبِ جفا پسند
جب نام دوستوں میں بھی لینا روا نہ تھا
کچھ یوں ہی زرد زرد سی ناہیدؔ آج تھی
کچھ اوڑھنی کا رنگ بھی کِھلتا ہوا نہ تھا

کشور ناہیدؔ

کہانیاں بھی گئیں قصہ خوانیاں بھی گئیں


کہانیاں بھی گئیں قصہ خوانیاں بھی گئیں 
وفا کے باب کی سب بے زبانیاں بھی گئیں 
ہوا چلی تو ہرے پتے سوکھ کر ٹوٹے 
وہ صبح آئی تو حیراں نمائیاں بھی گئیں 
وہ میرا چہرہ مجھے آئینے میں اپنا لگے 
اسی طلب میں بدن کی نشانیاں بھی گئیں 
پلٹ پلٹ کے تمہیں دیکھا پر ملے بھی نہیں 
وہ عہد ضبط بھی ٹوٹا، شتابیاں بھی گئیں 
مجھے تو آنکھ جھپکنا بھی تھا گراں لیکن 
دل و نظر کی تصور شعاریاں بھی گئیں

کشور ناہیدؔ

ہونٹوں کے ماہتاب ہیں، آنکھوں کے بام ہیں


ہونٹوں کے ماہتاب ہیں، آنکھوں کے بام ہیں 
سَر پھوڑنے کو ایک نہیں سو مقام ہیں 
تم سے تو ایک دل کی کلی بھی نہ کِھل سکی 
یہ بھی بلا کشانِ محبت کے کام ہیں 
دل سے گزر خدا کے لیے اور ہوشیار 
اِس سرزمیں کے لوگ بہت بدکلام ہیں 
تھوڑی سی دیر صبر کہ اِس عرصہ گاہ میں 
اے سوزِ عشق، ہم کو ابھی اور کام ہیں 
تم بھی خُدا سے سوزِ جنوں کی دُعا کرو 
ہم پر تو اِن بزرگ کے احسان عام ہیں 
وہ کیا کرے جو تیری بدولت نہ ہنس سکا 
اور جس پہ اتفاق سے آنسُو حرام ہیں 
اپنے پہ آ پڑیں تو نئے پن کی حَد نہیں 
جو واقعات سب کی حکایت میں عام ہیں 
مُنعم کا تو خُدا بھی اَمیں، بُت بھی پاسباں 
مُفلس کے صرف تیغؔ علیہ السّلام ہیں 

 تیغؔ الہ آبادی/ مصطفٰیؔ زیدی

مصطفٰیؔ زیدی نے پہلے پہل تیغؔ الہ آبادی کے نام سے شاعری شروع کی

ہر طرف اِنبساط ہے اے دل


ہر طرف اِنبساط ہے اے دل
اور ترے گھر میں رات ہَے اے دل
عِشق ان ظالموں کی دنیا میں
کِتنی مظلُوم ذات ہَے اے دل
میری حالت کا پوچھنا ہی کیا
سب ترا التفات ہَے اے دل
اس طرح آنسوؤں کو ضائع نہ کر
آنسوؤں میں حیات ہَے اے دل
اور بیدار چل کہ یہ دُنیا
شاطروں کی بساط ہے اے دل
صرف اُس نے نہیں دیا مجھے سوز
اس میں تیرا بھی ہات ہَے اے دل
مُندمِل ہو نہ جائے زخمِ دُروں
یہ مری کائنات ہَے اے دل
حُسن کا ایک وار سہہ نہ سکا
ڈُوب مرنے کی بات ہَے اے دل

مصطفٰیؔ زیدی

ڈھلے گی رات آئے گی سحر آہستہ آہستہ


ڈھلے گی رات آئے گی سحر آہستہ آہستہ
پِیو ان انکھڑیوں کے نام پر آہستہ آہستہ
دِکھا دینا اُسے زخمِ جگر آہستہ آہستہ
سمجھ کر، سوچ کر، پہچان کر آہستہ آہستہ
اُٹھا دینا حجابِ رسمیاتِ درمیاں لیکن
خطاب آہستہ آہستہ نظر آہستہ آہستہ
دریچوں کو تو دیکھو، چلمنوں کے راز تو سمجھو
اُٹھیں گے پردہ ہائے بام و در آہستہ آہستہ
ابھی تاروں سے کھیلو چاندنی سے دل کو بہلاؤ
مِلے گی اُس کے چہرے کی سحر آہستہ آہستہ
کہیں شامِ بلا ہو گی کہیں صُبحِ کماں داراں
کٹے گا زُلف و مژگاں کا سفر آہستہ آہستہ
یکایک ایسے جل بُجھنے میں لُطفِ جانکُنی کب تھا
جلے اک شمع پر ہم بھی مگر، آہستہ آہستہ

مصطفٰیؔ زیدی

چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ


چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ 
ہم اُن کے پاس جاتے ہیں مگر آہِستہ آہستہ 
ابھی تاروں سے کھیلو، چاند کی کرنوں سے اٹھلاؤ 
ملے گی اُس کے چہرے کی سحر آہستہ آہستہ 
دریچوں کو تو دیکھو چِلمنوں کے راز کو سمجھو 
اُٹھیں گے پردہ ہائے بام و در آہستہ آہستہ 
زمانے بھر کی کیفیت سمٹ آئے گی ساغر میں 
پِیو اِن انکھڑیوں کے نام پر آہستہ آہستہ 
یونہی اِک روز اپنے دل کا قصّہ بھی سنا دینا 
خطاب آہِستہ آہِستہ نظر آہستہ آہستہ

مصطفٰیؔ زیدی

جو دن گزر گئے ہیں ترے اِلتفات میں


جو دن گزر گئے ہیں ترے اِلتفات میں
میں ان کو جوڑ لوں کہ گھٹا دوں حیات میں
کچھ میں ہی جانتا ہوں جو مجھ پر گزر گئی
دنیا تو لطف لے گی مرے واقعات میں
میرا تو جرم تذکرۂ عام ہے مگر
کچھ دھجیاں ہیں میری زلیخا کے ہاتھ میں
آخر تمام عمر کی وسعت سما گئی 
اک لمحۂ گزشتہ کی چھوٹی سے بات میں
اے دل ذرا سی جرأتِ رِندی سے کام لے
کتنے چراغ ٹوٹ گئے احتیاط میں

مصطفٰیؔ زیدی

جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلو آئی


جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلو آئی
مدتوں اپنے بدن سے تیری خوشبو آئی
میرے مکتوب کی تقدیر کہ اشکوں سے دُھلا
میرِی آواز کی قسمت کہ تجھے چھو آئی
اپنے سینے پہ لیے پھرتی ہیں ہر شخص کا بوجھ
اب تو ان راہگزاروں میں میری خو آئی
یوں امڈ آئی کوئی یاد مری آنکھوں میں
چاندنی جیسے نہانے کو لبِ جو آئی
ہاں، نمازوں کا اثر دیکھ لیا پچھلی رات
میں ادھر گھر سے گیا تھا کہ ادھر تو آئی
مژدہ اے دل کسی پہلو تو قرار آ ہی گیا
منزِلِ دار کٹی ساعتِ گیسو آئی

مصطفٰیؔ زیدی

غزلیں نہیں لکھتے ہیں قصیدہ نہیں کہتے


غزلیں نہیں لکھتے ہیں قصیدہ نہیں کہتے
لوگوں کو شکایت ہے وہ کیا کیا نہیں کہتے 
اور اپنا یہی جرم کہ باوصفِ روایت 
ہم ناصحِ مشفق کو فرشتہ نہیں کہتے
اجسام کی تطہیر و تقدس ہے نظر میں 
ارواح کے حالات پہ نوحہ نہیں کہتے
ہم نے کبھی دنیا کو حماقت نہیں سمجھا 
ہم لوگ کبھی غم کو تماشہ نہیں کہتے 
انسان کے چہرے کے پرستار ہوئے ہیں 
اور قاف کی پریوں کا فسانہ نہیں کہتے
وہ بھی تو سنیں میرے یہ اشعار کسی روز 
جو لوگ نئی نسل کو اچھا نہیں کہتے 

مصطفٰیؔ زیدی

بزم میں باعثِ تاخیر ہُوا کرتے تھے


بزم میں باعثِ تاخیر ہُوا کرتے تھے
ہم کبھی تیرے عِناں گِیر ہُوا کرتے تھے
ہائے اب بُھول گیا رنگِ حِنا بھی تیرا
خط کبھی خُون سے تحریر ہُوا کرتے تھے
کوئی تو بھید ہے اِس طَور کی خاموشی میں
ورنہ ہم حاصلِ تقریر ہُوا کرتے تھے
ہجر کا لُطف بھی باقی نہیں، اے موسمِ عقل
اِن دنوں نالۂ شب گیر ہُوا کرتے تھے
اِن دنوں دشت نوردی میں مزا آتا تھا
پاؤں میں حلقۂ زنجیر ہُوا کرتے تھے
خواب میں تُجھ سے مُلاقات رہا کرتی تھی
خواب شرمندۂ تعبیر ہُوا کرتے تھے
تیرے الطاف و عنایت کی نہ تھی حد، ورنہ
ہم تو تقصیر ہی تقصیر ہُوا کرتے تھے

مصطفٰیؔ زیدی

گریہ تو اکثر رہا، پَیہم رہا


گریہ تو اکثر رہا، پَیہم رہا 
پھر بھی دل کے بوجھ سے کچھ کم رہا 
قمقمے جلتے رہے، بُجھتے رہے 
رات بھر سینے میں اک عالم رہا 
اُس وفا دشمن سے چُھٹ جانے کے بعد 
خود کو پا لینے کا کِتنا غم رہا 
اپنی حالت پر ہنسی بھی آئی تھی 
اِس ہنسی کا بھی بڑا ماتم رہا 
اِتنے ربط، اِتنی شناسائی کے بعد
کون کس کے حال کا محرم رہا 
پتھروں سے بھی نکل آیا جو تِیر 
وہ مرے پہلو میں آ کر جم رہا 
ذہن نے کیا کچھ نہ کوشش کی مگر 
دل کی گہرائی میں اک آدم رہا 

مصطفٰیؔ زیدی

غمِ دوراں نے بھی سیکھے غمِ جاناں کے چلن


غمِ دوراں نے بھی سیکھے غمِ جاناں کے چلن
وہی سوچی ہوئی چالیں وہی بے ساختہ پن
وہی اقرار میں انکار کے لاکھوں پہلو
وہی ہونٹوں پہ تبسم وہی ابرو پہ شکن
کس کو دیکھا ہے کہ پندارِ نظر کے باوصف
ایک لمحے کے لئے رک گئی دل کی دھڑکن
کونسی فصل میں اس بار ملے ہیں تجھ سے
ہم کو پرواہِ گریباں ہے نہ فکرِ دامن
اب تو چبھتی ہے ہوا برف کے میدانوں کی
ان دنوں جسم کے احساس سے جلتا تھا بدن
ایسی سونی تو کبھی شامِ غریباں بھی نہ تھی
دل بجھے جاتے ہیں اے تیرگئ صبحِ وطن

مصطفٰیؔ زیدی

کسی اور غم میں اتنی خلشِ نہاں نہیں ہے


کسی اور غم میں اتنی خلشِ نہاں نہیں ہے
غمِ دل مرے رفیقو! غمِ رائیگاں نہیں ہے
کوئی ہم نفس نہیں ہے کوئی ہم زباں نہیں ہے
فقط ایک دل تھا اب تک سو مہرباں نہیں ہے
مری روح کی حقیقت مرے آنسوؤں سے پوچھو
مرا مجلسی تبسم مرا ترجماں نہیں ہے
کسی آنکھ کو صدا دو کسی زلف کو پکارو
بڑی دھوپ پڑ رہی ہے کوئی سائباں نہیں ہے
انہیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ
مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

مصطفٰیؔ زیدی

آندھی چلی تو نقشِ کفِ پا نہیں ملا


آندھی چلی تو نقشِ کفِ پا نہیں ملا
دل جس سے مل گیا تھا دوبارہ نہیں ملا
ہم انجمن میں سب کی طرف دیکھتے رہے
اپنی طرح سے کوئی اکیلا نہیں ملا
آواز کو تو کون سمجھتا کہ دور دور
خاموشیوں کا درد شناسا نہیں ملا
قدموں کو شوقِ آبلہ پائی تو مل گیا
لیکن بہ ظرفِ وسعتِ صحرا نہیں ملا
کنعاں میں میں بھی نصیب ہوئی
خود روئیدگی چاکِ قبا کو دستِ زلیخا نہیں ملا
مہر و وفا کے دشت نوردو جواب دو
تم کو بھی وہ غزال ملا یا نہیں ملا
کچے گھڑے نے جیت لی ندی چڑھی ہوئی
مضبوط کشتیوں کو کنارہ نہیں ملا

مصطفٰیؔ زیدی

کتنے جاں سوز مراحل سے گزر کر ہم نے


کتنے جاں سوز مراحل سے گزر کر ہم نے 
اس قدر سلسلۂ سود و زیاں دیکھے ہیں 
رات کٹتے ہی بکھرتے ہوئے تاروں کے کفن 
جُھومتی صبح کے آنچل میں نہاں دیکھے ہیں 
جاگتے ساز، دمکتے ہوئے نغموں کے قریب
چوٹ کھائی ہوئی قسمت کے سماں دیکھے ہیں 
ڈوبنے والوں کے ہمراہ بھنور میں رہ کر 
دیکھنے والوں کے اندازِ بیاں دیکھے ہیں 
مدتوں اپنے دلِ زار کا ماتم کر کے 
خود سے بڑھ کر بھی کئی سوختہ جاں دیکھے ہیں 
موت کو جن کے تصوّر سے پسینہ آ جائے
زیست کے دوش پہ وہ بار گراں دیکھے ہیں
تب کہیں جا کر ان اشعار کے گہوارے میں 
اِک بصیرت کے ہمکنے کے نشاں دیکھے ہیں 

مصطفٰیؔ زیدی

کوئی رفیق بہم ہی نہ ہو تو کیا کیجے


کوئی رفیق بہم ہی نہ ہو تو کیا کیجے
کبھی کبھی تِرا غم ہی نہ ہو تو کیا کیجے
ہماری راہ جدا ہے کہ ایسی راہوں پر
رواجِ نقشِ قدم ہی نہ ہو تو کیا کیجے
ہمیں بھی بادہ گساری سے عار تھی لیکن
شراب ظرف سے کم ہی نہ ہو تو کیا کیجے
تباہ ہونے کا ارماں سہی محبت میں
کسی کو خوئے سِتم ہی نہ ہو تو کیا کیجے
ہمارے شعر میں روٹی کا ذکر بھی ہو گا
کسی کسی کے شِکم ہی نہ ہو تو کیا کیجے

مصطفٰیؔ زیدی

بُجھ گئی شمعِ حَرم ، بابِ کلیسا نہ کُھلا


بُجھ گئی شمعِ حَرم ، بابِ کلیسا نہ کُھلا 
کُھل گئے زخم کے لب تیرا دریچہ نہ کُھلا 
درِ توبہ سے بگوُلوں کی طرح گُزرے لوگ 
اُبر کی طرح اُمڈ آئے جو مَے خانہ کُھلا 
شہر در شہر پھری میرے گُناہوں کی بیاض 
بعض نظروں پہ مِرا سوزِ حکِیمانہ کُھلا 
نازنِینوں میں رسائی کا یہ عالم تھا کبھی 
لاکھ پہروں میں بھی کاشانے پہ کاشانہ کُھلا 
اَب جو بے باک ہوئے بھی تو بہ صد اندیشہ 
اَب جو اِک شخص کُھلا بھی تو حجابانہ کُھلا 
مِل کے بھی تُجھ سے رہی اب کے طبعیت اَیسے
جیسے بادل سا گِھر آیا جو نہ برسا نہ کُھلا 
ہم پری زادوں میں کھیلے، شبِ افسوں میں پلے 
ہم سے بھی تیرے طلسمات کا عُقدہ نہ کُھلا 
ایک اک شکل کو دیکھا ہے بڑی حیرت سے 
اجنبی کون ہے اَور کون شناسا نہ کُھلا 
ریت پر پھینک گئی عقل کی گُستاخ لبی 
پھر کبھی کشف و کرامات کا دریا نہ کُھلا 

مصطفٰیؔ زیدی

سینے میں خزاں، آنکھوں میں برسات رہی ہے


سینے میں خزاں، آنکھوں میں برسات رہی ہے
اس عشق میں ہر فصل کی سوغات رہی ہے
کس طرح خود اپنے کو یقیں آئے کہ اُس سے
ہم خاک نشینوں کی ملاقات رہی ہے
صُوفی کا خدا اور تھا، شاعر کا خدا اور
تم ساتھ رہے ہو تو کرامات رہی ہے
اتنا تو سمجھ روز کے بڑھتے ہوئے فتنے
ہم کچھ نہیں بولے تو تری بات رہی ہے
ہم میں تو یہ حیرانئ و شوریدگئ عشق
بچپن ہی سے منجملۂ عادات رہی ہے
اس سے بھی تو کچھ ربط جھلکتا ہے کہ وہ آنکھ
بس ہم پہ عنایات میں محتاط رہی ہے
الزام کسے دیں کہ ترے پیار میں ہم پر
جو کچھ بھی رہی حسبِ روایات رہی ہے
کچھ میر کے حالات سے حاصل کرو عبرت
لے دے کے اب اک عزّتِ سادات رہی ہے

مصطفٰیؔ زیدی

Thursday, 28 March 2013

ایسا تو نہیں کہ اُن سے ملاقات نہیں ہوئی


ایسا تو نہیں کہ اُن سے ملاقات نہیں ہوئی 
جو بات میرے دل میں تھی وہ بات نہیں ہوئی
بہتر یہ ہے کہ وہ تنِ شاداب ادھر نہ آئے 
برسوں سے میرے شہر میں برسات نہیں ہوئی
پیشِ ہوس تھا خوانِ دو عالم سجا ہوا
اس رزق پر مگر گزر اوقات نہیں ہوئی
تیرے بغیر بھی غمِ جاں ہے وہی کہ نہیں
نکلا نہ ماہتاب تو کیا رات نہیں ہوئی
ہم کون پیرِ دلزدگاں ہیں کہ عشق میں
یاراں بڑے بڑوں سے کرامات نہیں ہوئی
کیا سہل اُس نے بخش دیا چشمہ حیات
جی بھر کے سیرِ وادی ظلمات نہیں ہوئی
میرے جنوں کو ایک خرابے کی سلطنت
یہ تو کوئی تلافیِ مافات نہیں ہوئی
اپنا نسب بھی کوئے ملامت میں بار ہے
لاکھ اپنے پاس عزتِ سادات نہیں ہوئی
یاقوت لب تو کارِ محبت کا ہے صِلہ
اُجرت ہوئی حضور یہ سوغات نہیں ہوئی
کب تک یہ سوچ سوچ کے ہلکان ہو جئیے
اب تک تری طرف سے شروعات نہیں ہوئی

عرفانؔ صدیقی

زیرِ گرداب، نہ بالائے مکاں بولتی ہے


زیرِ گرداب، نہ بالائے مکاں بولتی ہے
خامشی آ کے سرِ خلوتِ جاں بولتی ہے
یہ مرا وہم ہے یا مجھ کو بلاتے ہیں وہ لوگ
کان بجتے ہیں کہ موجِ گذراں بولتی ہے
لو سوالِ دہنِ بستہ کا آتا ہے جواب
تیر سرگوشیاں کرتے ہیں، کماں بولتی ہے
ایک میں ہوں کہ اس آشوبِ نوا میں چپ ہوں
ورنہ دنیا مرے زخموں کی زباں بولتی ہے
ہُو کا عالم ہے گرفتاروں کی آبادی میں
ہم تو سنتے تھے کہ زنجیرِ گراں بولتی ہے
درد کے باب میں تمثال گر ہے خاموش
بن بھی جاتی ہے تو تصویر کہاں بولتی ہے

عرفانؔ صدیقی

خوشبو کی طرح ساتھ لگا لے گئی ہم کو


خوشبو کی طرح ساتھ لگا لے گئی ہم کو
کوچے سے ترے بادِ صبا لے گئی ہم کو
پتھر تھے کہ گوہر تھے، اب اس بات کا کیا ذکر
اک موج بہرحال بہا لے گئی ہم کو
پھر چھوڑ دیا ریگِ سرِ راہ سمجھ کر
کچھ دور تو موسم کی ہوا لے گئی ہم کو
تم کیسے گرے آندھی میں چھتنار درختو؟
ہم لوگ تو پتے تھے، اُڑا لے گئی ہم کو
ہم کون شناور تھے کہ یوں پار اُترتے
سوکھے ہوئے ہونٹوں کی دعا لے گئی ہم کو
اس شہر میں غارت گرِ ایماں تو بہت تھے
کچھ گھر کی شرافت ہی بچا لے گئی ہم کو

عرفانؔ صدیقی

قدم اُٹھے تو گلی سے گلی نکلتی رہی


قدم اُٹھے تو گلی سے گلی نکلتی رہی
نظر دِیے کی طرح چوکھٹوں پہ جلتی رہی
کچھ ایسی تیز نہ تھی اُس کے انتظار کی آنچ
یہ زندگی ہی مری برف تھی پگھلتی رہی
سروں کے پھول سرِ نوکِ نیزہ ہنستے رہے
یہ فصل سوکھی ہوئی ٹہنیوں پہ پھلتی رہی
ہتھیلیوں نے بچایا بہت چراغوں کو
مگر ہوا ہی عجب زاویے بدلتی رہی
دیارِ دل میں کبھی صبح کا گجر نہ بجا
بس ایک درد کی شب ساری عمر ڈھلتی رہی
میں اپنے وقت سے آگے نکل گیا ہوتا
مگر زمیں بھی مرے ساتھ ساتھ چلتی رہی

عرفانؔ صدیقی

مروتوں پہ وفا کا گماں بھی رکھتا تھا


مروتوں پہ وفا کا گماں بھی رکھتا تھا
وہ آدمی تھا غلط فہمیاں بھی رکھتا تھا
بہت دنوں میں یہ بادل ادھر سے گزرا ہے
مرا مکان کبھی سائباں بھی رکھتا تھا
عجیب شخص تھا، بچتا بھی تھا حوادث سے
پھر اپنے جسم پہ الزامِ جاں بھی رکھتا تھا
ڈبو دیا ہے تو اب اس کا کیا گِلہ کیجے
یہی بہاؤ سفینے رواں بھی رکھتا تھا
تو یہ نہ دیکھ کہ سب ٹہنیاں سلامت ہیں
کہ یہ درخت تھا اور پتیاں بھی رکھتا تھا
ہر ایک ذرہ تھا گردش میں آسماں کی طرح
میں اپنا پاؤں زمیں پر جہاں بھی رکھتا تھا
لپٹ بھی جاتا تھا اکثر وہ میرے سینے سے
اور ایک فاصلہ سا درمیاں بھی رکھتا تھا

عرفانؔ صدیقی

خانۂ درد ترے خاک بسر آ گئے ہیں


خانۂ درد ترے خاک بسر آ گئے ہیں
اب تو پہچان کہ ہم شام کو گھر آ گئے ہیں
جان و دل کب کے گئے ناقہ سواروں کی طرف
یہ بدن گرد اڑانے کو کِدھر آ گئے ہیں
رات دن سوچتے رہتے ہیں یہ زندانئ ہجر
اس نے چاہا ہے تو دیوار میں در آ گئے ہیں
اس کے ہاتھوں میں ہے شاخِ تعلق کی بہار
چھو لیا ہے تو نئے برگ و ثمر آ گئے ہیں
ہم نے دیکھا ہی تھا دنیا کو ابھی اس کے بغیر
لیجئے بیچ میں پھر دیدۂ تر آ گئے ہیں
اتنا آسان نہیں فیصلۂ ترکِ سفر
پھر مری راہ میں دو چار شجر آ گئے ہیں
نیند کے شہرِ طلسمات میں دیکھیں کیا ہے
جاگتے میں تو بہت خواب نظر آ گئے ہیں

عرفانؔ صدیقی

ملالِ دولتِ بردہ پہ خاک ڈالتے ہیں


ملالِ دولتِ بردہ پہ خاک ڈالتے ہیں
ہم اپنی خاک سے پھر گنجِ زر نکالتے ہیں
میں اپنے نقدِ ہنر کی زکوٰۃ بانٹتا ہوں
مرے ہی سِکے مرے ہم سخن اچھالتے ہیں
بڑھا کے میرے معانی پہ لفظ کا زنگار
مرے حریف مرے آئینے اجالتے ہیں
سجا کے آئینۂ حرف پیشِ آئینہ
ہم اک کرن سے ہزار آفتاب ڈھالتے ہیں
عذابِ جاں ہے عزیزو خیالِ مصرعِ تر
سو ہم غزل نہیں لکھتے عذاب ٹالتے ہیں

عرفانؔ صدیقی

جھلس رہے ہیں کڑی دھوپ میں شجر میرے


جھلس رہے ہیں کڑی دھوپ میں شجر میرے
برس رہا ہے کہاں ابرِ بے خبر میرے
گرا تو کوئی جزیرہ نہ تھا سمندر میں
کہ پانیوں پہ کھلے بھی بہت تھے پَر میرے
اب اس کے بعد گھنے جنگلوں کی منزل ہے
یہ وقت ہے کہ پلٹ جائیں ہمسفر میرے
خبر نہیں ہے مرے گھر نہ آنے والے کو
کہ اُس کے قد سے تو اونچے ہیں بام و در میرے
بہت ہے آئینے جن قیمتوں میں بک جائیں
یہ پتھروں کا زمانہ ہے، شیشہ گر میرے
حریفِ تیغ ستم گر تو کر دیا ہے تجھے
اب اور مجھ سے تو کیا چاہتا ہے سر میرے

عرفانؔ صدیقی

حلقۂ بے طلباں رنجِ گراں باری کیا


حلقۂ بے طلباں رنجِ گراں باری کیا
اُٹھ کے چلنا ہی تو ہے کوچ کی تیاری کیا
ایک کوشش کہ تعلق کوئی باقی رہ جائے
سو تری چارہ گری کیا، مری بیماری کیا
تجھ سے کم پر کسی صورت نہیں راضی ہوتا
دلِ ناداں نے دِکھا رکھی ہے ہشیاری کیا
قید خانے سے نکل آئے تو صحرا کا حصار
ہم سے ٹوٹے گی یہ زنجیرِ گرفتاری کیا
وہ بھی طرفہ سخن آراء ہیں چلو یوں ہی سہی
اتنی سی بات پہ یاروں کی دل آزاری کیا

عرفانؔ صدیقی

ذہن ہو تنگ تو پھر شوخئ افکار نہ رکھ


ذہن ہو تنگ تو پھر شوخئ افکار نہ رکھ
بند تہہ خانوں میں یہ دولتِ بیدار نہ رکھ
زخم کھانا ہی جو ٹھہرا تو بدن تیرا ہے
خوف کا نام مگر لذتِ آزار نہ رکھ
ایک ہی چیز کو رہنا ہے سلامت، پیارے
اب جو سر شانوں پہ رکھا ہے تو دیوار نہ رکھ
خواہشیں توڑ نہ ڈالیں ترے سینے کا قفس
اتنے شہ زور پرندوں کو گرفتار نہ رکھ
اب میں چپ ہوں تو مجھے اپنی دلیلوں سے نہ کاٹ
میری ٹوٹی ہوئی تلوار پہ تلوار نہ رکھ
آج سے دل بھی ترے حال میں ہوتا ہے شریک
لے، یہ حسرت بھی مری چشمِ گنہگار میں رکھ
وقت پھر جانے کہاں اس سے ملا دے تجھ کو
اس قدر ترکِ ملاقات کا پندار نہ رکھ

عرفانؔ صدیقی

زوالِ شب میں کسی کی صدا نکل آئے


زوالِ شب میں کسی کی صدا نکل آئے
ستارہ ڈوبے، ستارہ نما نکل آئے
عجب نہیں کہ یہ دریا نظر کا دھوکہ ہو
عجب نہیں کہ کوئی راستہ نکل آئے
وہ حبس ہے کہ دعا کر رہے ہیں سارے چراغ
اب اس طرف کوئی موجِ ہوا نکل آئے
یہ کس نے دستِ بریدہ کی فصل بوئی تھی
تمام شہر میں نخلِ دعا نکل آئے
خدا کرے صفِ سر دادگاں نہ ہو خالی
جو میں گروں تو کوئی دوسرا نکل آئے

عرفانؔ صدیقی

میرے ہونے میں کسی طور تو شامل ہو جاؤ


میرے ہونے میں کسی طور تو شامل ہو جاؤ
تم مسیحا نہیں ہوتے ہو تو قاتل ہو جاؤ
دشت سے دُور بھی کیا رنگ دکھاتا ہے جنوں
دیکھنا ہے تو کسی شہر میں داخل ہو جاؤ
جس پہ ہوتا ہی نہیں خونِ دو عالم ثابت
بڑھ کے اِک دن اسی گردن میں حمائل ہو جاؤ
وہ سِتم گر تمھیں تسخیر کیا چاہتا ہے
خاک بن جاؤ اور اس شخص کو حاصل ہو جاؤ
عشق کیا کارِ ہوس بھی کوئی آسان نہیں
خیر سے پہلے اسی کام کے قابل ہو جاؤ
ابھی پیکر ہی جلا ہے تو یہ عالم ہے میاں
آگ یہ روح میں لگ جائے تو کامل ہو جاؤ
میں ہوں یا موجِ فنا اور یہاں کوئی نہیں
تم اگر ہو تو ذرا راہ میں حائل ہو جاؤ

عرفانؔ صدیقی

عجب نہیں کبھی نغمہ بنے فغاں میری


عجب نہیں کبھی نغمہ بنے فغاں میری
مری بہار میں شامل ہے اب خزاں میری
میں اپنے آپ کو اوروں میں رکھ کے دیکھتا ہوں
کہیں فریب نہ ہوں درد مندیاں میری
میں اپنی قوتِ اظہار کی تلاش میں ہوں
وہ شوق ہے کہ سنبھلتی نہیں زباں میری
یہی سبب ہے کہ احوالِ دل نہیں کہتا
کہوں تو اور الجھتی ہیں گتھیاں میری
میں اپنے عجز پہ نادم نہیں ہوں ہم سخنو
ہزار شکر طبیعت نہیں رواں میری

عرفانؔ صدیقی

جمالؔ اب تو یہی رہ گیا ہے پتہ اُس کا


جمالؔ اب تو یہی رہ گیا ہے پتہ اُس کا 
بھلی سی شکل تھی اچھا سا نام تھا اُس کا
پھر ایک سایہ در و بام پر  اُتر آیا 
دل و نگاہ میں پھر ذِکر چِھڑ گیا اُس کا
کسے خبر تھی کہ یہ دن بھی دیکھنا ہو گا 
اب اعتبار بھی دل کو نہیں رہا اُس کا
جو میرے ذکر پر اب قہقہے لگاتا ہے 
بِچھڑتے وقت کوئی حال دیکھتا اُس کا
مجھے تباہ کیا اور سب کی نظروں میں 
وہ بے قصور رہا یہ کمال تھا اُس کا
سو کِس سے کیجئے ذکرِ نزاکتِ خدوخال 
کوئی مِلا ہی نہیں صورتِ آشنا اُس کا
جو سایہ سایہ شب و روز میرے ساتھ رہا 
گلی گلی میں پتہ پوچھتا پِھرا اُس کا
جمالؔ اُس نے تو ٹھانی تھی عمر بھر کے لیے
یہ چار روز میں کیا حال ہو گیا اُس کا

جمالؔ احسانی

ہونے کی گواہی کے لئے خاک بہت ہے


ہونے کی گواہی کے لئے خاک بہت ہے
یا کچھ بھی نہیں ہونے کا ادراک بہت ہے
اک بھولی ہوئی بات ہے اِک ٹوٹا ہوا خواب
ہم اہلِ محبت کو یہ اِملاک بہت ہے
کچھ دربدری راس بہت آئی ہے مجھ کو
کچھ خانہ خرابوں میں مِری دھاک بہت ہے
پرواز کو پر کھول نہیں پاتا ہوں اپنے
اور دیکھنے میں وسعت افلاک بہت ہے
کیا اس سے ملاقات کا اِمکاں‌ بھی نہیں اب
کیوں ان دنوں میلی تری پوشاک بہت ہے
آنکھوں میں ہیں محفوظ ترے عشق کے لمحات
دریا کو خیال خس و خاشاک بہت ہے
نادم ہے بہت تو بھی جمالؔ اپنے کئے پر
اور دیکھ لے وہ آنکھ بھی نمناک بہت ہے

جمالؔ احسانی

کسی بھی دشت، کسی بھی نگر چلا جاتا


کسی بھی دشت، کسی بھی نگر چلا جاتا
میں اپنے ساتھ ہی رہتا جدھر چلا جاتا
وہ جس منڈیر پہ چھوڑ آیا اپنی آنکھیں میں
چراغ ہوتا تو لو بھول کر چلا جاتا
اگر میں کھڑکیاں، دروازے بند کر لیتا
تو گھر کا بھید سرِ رہگزر چلا جاتا
مرا مکاں مری غفلت سے بچ گیا ورنہ
کوئی چرا کے مرے بام و در چلا جاتا
تھکن بہت تھی مگر سایۂ شجر میں جمالؔ
میں بیٹھتا تو مرا ہم سفر چلا جاتا

جمالؔ احسانی

سلوک ناروا کا اس لیے شکوہ نہیں کرتا


سلوک ناروا کا اس لیے شکوہ نہیں کرتا
کہ میں بھی تو کسی کی بات کی پرواہ نہیں کرتا
بہت ہوشیار ہوں اپنی لڑائی آپ لڑتا ہوں
میں دل کی بات کو دیوار پہ لکھا نہیں کرتا
اگر پڑ جائے عادت آپ اپنے ساتھ رہنے کی
یہ ساتھ ایسا ہے کہ انسان کو تنہا نہیں کرتا
زمیں پیروں سے کتنی بار ایک دن میں نکلتی ہے
میں ایسے حادثوں پہ دل مگر چھوٹا نہیں کرتا
تیرا اصرار سر آنکھوں پر تجھ کو بھول جانے کی
میں کوشش کر کے دیکھوں گا مگر وعدہ نہیں کرتا

جمالؔ احسانی

ذرا سی بات پہ دل سے بگاڑ آیا ہوں


ذرا سی بات پہ دل سے بگاڑ آیا ہوں
بنا بنایا ہوا گھر اجاڑ آیا ہوں
وہ انتقام کی آتش تھی میرے سینے میں
ملا نہ کوئی تو خود کو پچھاڑ آیا ہوں
میں اس جہان کی قسمت بدلنے نکلا تھا
اور اپنے ہاتھ کا لکھا ہی پھاڑ آیا ہوں
اب اپنے دوسرے پھیرے کے انتظار میں ہوں
جہاں جہاں مرے دشمن ہیں تاڑ آیا ہوں
میں اُس گلی میں گیا اور دل و نگاہ سمیت
جمالؔ جیب میں جو کچھ تھا جھاڑ آیا ہوں

جمالؔ احسانی

کبھی بھلا کے، کبھی اُس کو یاد کر کے مجھے


کبھی بھلا کے، کبھی اُس کو یاد کر کے مجھے 
جمالؔ قرض چکانے ہیں عمر بھر کے مجھے
ابھی تو منزلِ جاناں سے کوسوں دور ہوں میں 
ابھی تو راستے ہیں یاد اپنے گھر کے مجھے
جو لکھتا پھرتا ہے دیوار و در پہ نام مرا 
بکھیر دے نہ کہیں حرف حرف کر کے مجھے
محبتوں کی بلندی پہ ہے یقین تو کوئی 
گلے لگائے مری سطح پر اُتر کے مجھے
چراغ بن کے جلا جس کے واسطے اک عمر 
چلا گیا وہ ہوا کے سُپرد کر کے مجھے

جمالؔ احسانی

عمر گزری جس کا رستہ دیکھتے


عمر گزری جس کا رستہ دیکھتے
آ بھی جاتا وہ تو ہم کیا دیکھتے
کیسے کیسے موڑ آئے راہ میں
ساتھ چلتے تو تماشہ دیکھتے
قریہ قریہ جتنا آوارہ پھرے
گھر میں رہ لیتے تو دنیا دیکھتے
گر بہا آتے نہ دریاؤں میں ہم
آج ان آنکھوں سے صحرا دیکھتے
خود ہی رکھ آتے دیا دیوار پر
اور پھر اس کا بھڑکنا دیکھتے
جب ہوئی تعمیرِ جسم و جاں تو لوگ
ہاتھ کا مٹی میں کھونا دیکھتے
دو قدم چل آتے اس کے ساتھ ساتھ
جس مسافر کو اکیلا دیکھتے
اعتبار اٹھ جاتا آپس کا جمالؔ
لوگ اگر اس کا بچھڑنا دیکھتے

جمالؔ احسانی

جو تو گیا تھا تو تیرا خیال رہ جاتا


جو تو گیا تھا تو تیرا خیال رہ جاتا
ہمارا کوئی تو پُرسانِ حال رہ جاتا
بُرا تھا یا وہ بھلا، لمحۂ محبت تھا
وہیں پہ سلسلہ ماہ و سال رہ جاتا 
بچھڑتے وقت ڈھلکتا نہ گر ان آنکھوں سے
اُس ایک اشک کا کیا کیا ملال رہ جاتا 
تمام آئینہ خانے کی لاج رہ جاتی
کوئی بھی عکس اگر بے مثال رہ جاتا
گر امتحانِ جنوں میں نہ کرتے قیس کی نقل
جمالؔ سب سے ضروری سوال رہ جاتا

جمالؔ احسانی

کب پاؤں فگار نہیں ہوتے، کب سر پر دھول نہیں ہوتی


کب پاؤں فگار نہیں ہوتے، کب سر پر دھول نہیں ہوتی
تری راہ میں چلنے والوں سے لیکن کبھی بھول نہیں ہوتی
سرِ کوچۂ عشق آ پہنچے ہو لیکن ذرا دھیان رہے کہ یہاں
کوئی نیکی کام نہیں آتی، کوئی دعا قبول نہیں ہوتی
ہر چند اندیشۂ جاں ہے بہت لیکن اس کارِ محبت میں
کوئی پل بے کار نہیں جاتا، کوئی بات فضول نہیں ہوتی
ترے وصل کی آس بدلتے ہوئے ترے ہجر کی آگ میں جلتے ہوئے
کب دل مصروف نہیں رہتا، کب جاں مشغول نہیں ہوتی
ہر رنگِ جنوں بھرنے والو، شب بیداری کرنے والو
ہے عشق وہ مزدوری جس میں محنت بھی وصول نہیں ہوتی

جمالؔ احسانی

دل تجھے ناز ہے جس شخص کی دلداری پر


دل تجھے ناز ہے جس شخص کی دلداری پر
دیکھ اب وہ بھی اُتر آیا اداکاری پر
میں نے دشمن کو جگایا تو بہت تھا لیکن
احتجاجاً نہیں جاگا مری بیداری پر
آدمی، آدمی کو کھائے چلا جاتا ہے
کچھ تو تحقیق کرو اس نئی بیماری پر
کبھی اِس جرم پہ سر کاٹ دیے جاتے تھے
اب تو انعام دیا جاتا ہے غدّاری پر
تیری قربت کا نشہ ٹوٹ رہا ہے مجھ میں
اس قدر سہل نہ ہو تو مری دشواری پر
مجھ میں یوں تازہ ملاقات کے موسم جاگے
آئینہ ہنسنے لگا ہے مری تیاری پر
کوئی دیکھے بھرے بازار کی ویرانی کو
کچھ نہ کچھ مفت ہے ہر شے کی خریداری پر
بس یہی وقت ہے سچ منہ سے نکل جانے دو
لوگ اُتر آئے ہیں ظالم کی طرف داری پر

سلیمؔ کوثر