حال مت پوچھ عشق کرنے کا
عمر جینے کی، شوق مرنے کا
وہ محبت کی احتیاط کے دن
ہائے موسم وہ خود سے ڈرنے کا
اب اسے آئینے سے نفرت ہے
کل جسے شوق تھا سنورنے کا
یہ کائنات صراحی تھی جام آنکھیں تھیں
مواصلات کا پہلا نظام آنکھیں تھیں
غنیمِ شہر کو وہ تھا بصارتوں کا جنوں
کہ جب بھی لوٹ کے لایا تمام آنکھیں تھیں
خطوطِ نور سے ہر حاشیہ مزین تھا
کتابِ نور میں سارا کلام آنکھیں تھیں
کدھر کو جائیں گے اہلِ سفر، نہیں معلوم
وہ بدحواسی ہے، اپنا ہی گھر نہیں معلوم
ہمارے شہر میں ہر روز اک قیامت ہے
یہاں کسی کو کسی کی خبر نہیں معلوم
ہمارا صبر، تجھے خاک میں ملا دے گا
ہمارے صبر کا تجھ کو اثر نہیں معلوم