صفحات

Friday, 6 July 2012

چٹھی آئی ہے وطن سے چٹھی آئی ہے

 گیت


بڑے دنوں کے بعد ہم بے وطنوں کو یاد

وطن کی مٹی آئی ہے

چٹھی آئی ہے

چٹھی آئی ہے آئی ہے

چٹھی آئی ہے

اوپر میرا نام لکھا ہے

اندر یہ پیغام لکھا ہے

او پردیس کو جانے والے

لوٹ کے پھر نہ آنے والے

سات سمندر پار گیا تو

ہم کو زندہ مار گیا تو

خون کے رشتے توڑ گیا تو

آنکھ میں آنسو چھوڑ گیا تو

کم کھاتے ہیں کم سوتے ہیں

بہت زیادہ ہم روتے ہیں

چٹھی آئی ہے

چٹھی آئی ہے آئی ہے

چٹھی آئی ہے

بڑے دنوں کے بعد ہم بے وطنوں کو یاد

وطن کی مٹی آئی ہے

چٹھی آئی ہے


آنند بخشی

No comments:

Post a Comment