گیت
بڑے دنوں کے بعد ہم بے وطنوں کو یاد
وطن کی مٹی آئی ہے
چٹھی آئی ہے
چٹھی آئی ہے آئی ہے
چٹھی آئی ہے
اوپر میرا نام لکھا ہے
اندر یہ پیغام لکھا ہے
او پردیس کو جانے والے
لوٹ کے پھر نہ آنے والے
سات سمندر پار گیا تو
ہم کو زندہ مار گیا تو
خون کے رشتے توڑ گیا تو
آنکھ میں آنسو چھوڑ گیا تو
کم کھاتے ہیں کم سوتے ہیں
بہت زیادہ ہم روتے ہیں
چٹھی آئی ہے
چٹھی آئی ہے آئی ہے
چٹھی آئی ہے
بڑے دنوں کے بعد ہم بے وطنوں کو یاد
وطن کی مٹی آئی ہے
چٹھی آئی ہے
آنند بخشی
No comments:
Post a Comment