صفحات

▼

Sunday, 2 June 2013

عکس کو پھول بنانے میں گزر جاتی ہے

 عکس کو پھُول بنانے میں گُزر جاتی ہے

زندگی، آئینہ خانے مں گزر جاتی ہے

شام ہوتی ہے تو لگتا ہے کوئی رُوٹھ گیا

اور شب، اس کو منانے میں گزر جاتی ہے

ہر محبت کے لیے دل میں الگ خانہ ہے

ہر محبت اسی خانے میں گزر جاتی ہے

جو گھڑی رکھتے ہیں اظہارِ محبت کے لیے

وہ گھڑی بات بنانے میں گزر جاتی ہے

کیا بتاؤں تمہیں شہزادی کی بابت بچو

اس کی تو عُمر فسانے میں گزر جاتی ہے

زندگی بوجھ بتاتا تھا، بتانے والا 

یہ تو بس ایک بہانے میں گزر جاتی ہے

تُو بتا، آنکھ نیا خواب کہاں سے دیکھے؟

روز شب تُجھ کو بھُلانے میں گزر جاتی ہے

وہ چلا جاتا ہے اور ساعتِ رُخصت اشفاق

جسم کا بوجھ اُٹھانے میں گزر جاتی ہے


اشفاق ناصر

No comments:

Post a Comment