دل خون ہوا کہیں تو کبھی زخم سہ گئے
اب حادثے ہی اپنی وراثت میں رہ گئے
کہنے کو ایک ساتھ ہی ڈُوبا ہے قافلہ
کچھ عکس زیرِ آب مگر تہ بہ تہ گئے
پتوں سے پھوٹتی ہیں ہواؤں کی ہچکیاں
شاید وہ بام و در کو نہ سونے دیں عمر بھر
جو خواب گھر کی خاک میں پیوست رہ گئے
محسنؔ غریب لوگ بھی تنکوں کے ڈھیر ہیں
ملبے میں دب گئے، کبھی پانی میں بہ گئے
محسن نقوی
No comments:
Post a Comment