صفحات

Monday, 6 January 2014

دل خون ہوا کہیں تو کبھی زخم سہ گئے

دل خون ہوا کہیں تو کبھی زخم سہ گئے
اب حادثے ہی اپنی وراثت میں رہ گئے
کہنے کو ایک ساتھ ہی ڈُوبا ہے قافلہ
کچھ عکس زیرِ آب مگر تہ بہ تہ گئے
پتوں سے پھوٹتی ہیں ہواؤں کی ہچکیاں
پنچھی ہرے شجر سے عجب بات کہہ گئے
شاید وہ بام و در کو نہ سونے دیں عمر بھر
جو خواب گھر کی خاک میں پیوست رہ گئے
محسنؔ غریب لوگ بھی تنکوں کے ڈھیر ہیں
ملبے میں دب گئے، کبھی پانی میں بہ گئے

محسن نقوی

No comments:

Post a Comment