صفحات

Saturday, 11 January 2014

پھر تمہارا خط آیا

پھر تمہارا خط آیا 

پھر تمہارا خط آیا
شام حسرتوں کی شام
رات تھی جدائی کی
صبح صبح ہرکارہ
ڈاک سے ہوائی کی
نامۂ وفا لایا
پھر تمہارا خط آیا

پھر کبھی نہ آؤں گی
موجۂ صبا ہو تم
سب کو بھول جاؤں گی
سخت بے وفا ہو تم
دشمنوں نے فرمایا
دوستوں نے سمجھایا
پھر تمہارا خط آیا

ہم تو جان بیٹھے تھے
ہم تو مان بیٹھے تھے
تیری طلعتِ زیبا
تیرا دید کا وعدہ
تیری زلف کی خوشبو
دشتِ دور کے آہو
سب فریب، سب مایا
پھر تمہارا خط آیا

ساتویں سمندر کے
ساحلوں سے کیوں تم نے
پھر مجھے صدا دی ہے
دعوتِ وفا دی ہے
تیرے عشق میں جانی
اور ہم نے کیا پایا
درد کی دوا پائی
دردِ لا دوا پایا
کیوں تمہارا خط آیا

ابن انشا

No comments:

Post a Comment