اِک ان کہی سی بُجھارت ہے کیا کِیا جائے
پھر اس کا حل بھی شرارت ہے کیا کِیا جائے
کبھی کتاب کی صورت اسے پڑھا، تو کُھلا
وہ حرف حرف عبارت ہے کیا کِیا جائے
بنے بغیر تو ہم ٹُوٹ بھی نہیں سکتے
یہاں ہماری ریاضت بھی رائگاں ٹھہری
یہ عہد، عہدِ تجارت ہے کیا کِیا جائے
وہ ایک رُخ جو نظر کی بساط ہی میں نہیں
وہی تو وجہِ زیارت ہے کیا کِیا جائے
کہاں تراب، کہاں اس پری جمال کا عشق
یہ دوستوں کی شرارت ہے کیا کِیا جائے
عطا تراب
No comments:
Post a Comment