صفحات

Tuesday, 7 January 2014

میں کیا ہوں اس خیال سے لگتا ہے ڈر مجھے

میں کیا ہوں اس خیال سے لگتا ہے ڈر مجھے
کیوں دیکھتے ہیں غور سے اہلِ نظر مجھے
لے ساتھ ہوش کو اے اہلِ ہوش جاؤ
ہے خوب اپنی بے خبری کی خبر مجھے
بدلی ہوئی نگاہ کو پہچانتا ہوں میں
دینے لگے پھر آپ فریبِ نظر مجھے
گم ہو گیا ہوں بے ودئ ذوقِ عشق میں
اے عقل جا کے لا تو ذرا ڈھونڈ کر مجھے
اے روشنئ طبع! تو برمن بلا شدی
پھر یہ نہیں تو کھا گئی کس کی نظر مجھے
میں اپنی زندگی کو برا کیوں کہوں حفیظؔ
رہنا ہے اس کے ساتھ میاں عمر بھر مجھے

حفیظ جالندھری

No comments:

Post a Comment