اے دلِ دیوانہ
مہجور ہے دکھانا؟
رنجور ہے دکھانا؟
اپنے سے غافل تھا
ان کو بھی نہ پہچانا
وہ آپ بھی آتے تھے
ہم کو بھی بلاتے تھے
کل تک جو حقیقت تھی
کیوں آج ہے افسانہ
ہاں اے دلِ دیوانہ
وہ آج کی محفل میں
ہم کو بھی نہ پہچانا
کیا سوچ لیا دل میں
کیوں ہو گیا بیگانہ
کیوں اے دلِ دیوانہ
ہاں کل سے نہ جائیں گے
پر آج تو ہو آئیں
ہاں رات کے دریا میں
مہتاب ڈبو آئیں
وہ بھی تِرا فرمانا
ہاں اے دلِ دیوانہ
ابن انشا
No comments:
Post a Comment