وادئ عشق سے کوئی نہیں آیا جا کر
آؤ آوازہ لگائیں سرِ صحرا جا کر
بزمِ جاناں میں تو سب اہلِ طلب جاتے ہیں
کبھی مقتل میں بھی دکھلائیں تماشا جا کر
کن زمینوں پہ مِری خاک لہو روئے گی
ایک موہوم سی اُمید ہے تجھ سے، ورنہ
آج تک آیا نہیں کوئی مسیحا جا کر
دیکھ یہ حوصلہ میرا، مِرے بُزدل دشمن
تجھ کو لشکر میں پکارا تنِ تنہا جا کر
اُس شہِ حُسن کے در پر ہے فقیروں کا ہجوم
یار ہم بھی نہ کریں عرضِ تمنا جا کر
ہم تجھے منع تو کرتے نہیں جانے سے فرازؔ
جا اُسی در پہ، مگر ہاتھ نہ پھیلا جا کر
احمد فراز
No comments:
Post a Comment