صفحات

Monday, 6 January 2014

سخن وری کا جو محسن کبھی ارادہ کرو

سخنوری کا جو محسن کبھی ارادہ کرو
کسی کی بخششِ لب سے بھی استفادہ کرو
اب اپنی تشنہ لبی سے کرو کشید لہو
غرورِ ابرِ کرم اور بے لبادہ کرو
عدو کی تنگ دلی کو جو مات دینا ہے
بدن کے زخم نہ دیکھو جبِیں کشادہ کرو
جو دیکھنا ہو تمہیں اپنے خال و خد کی کشِش
تو زیب تن کسی رُت میں قبائے سادہ کرو
لکھا ہے کس نے لہو سے یہ ریت پر محسنؔ
سِتم کرو تو میرے صبر سے زیادہ کرو

محسن نقوی

No comments:

Post a Comment