محبت بِنا کچھ درکار نہیں
وہ دوست جنہوں نے مَن میں میرے
میرے درد کا پودا بویا تھا
وہ دوست تو رُخصت بھی ہو چکے
اور بارِ غمِ دل ساتھ مرا
اب چارہ گرو کچھ بولو نہیں
میرے دوست تو شہد کے گھونٹ پیئے
تجھے تلخ مزے کا پتہ ہی نہیں
تیرے دوست تو ہوں گے جلو میں ترے
ترا دل تو مگر ہے غموں کا امیں
یہ جو اجنبی لوگ ہیں ان کی بتا
کبھی ان کو بھی یاد کرے گا کوئی
کبھی طنز سے پوچھیں گے اہلِ جہاں
تیرے دوست کا ہاتھ کہاں ہے بتا
مگر اہلِ وفا تو جھجھکتے نہیں
جہاں سر پہ چمکتی ہے تیغِ حنا
بڑے ناز سے دیتے ہیں سر کو جھکا
نہیں مانگتے کچھ بھی اجل کے سوا
ابن انشا
No comments:
Post a Comment