ہماری کاوشِ پیہم کا جادُو چل جائے
بُجھے چراغ سے کوئی چراغ جل جائے
غریبِ شہر کے بچوں کی خواہشیں کیسی
کہ جن کا ٹُوٹے کھلونوں سے دل بہل جائے
زمانہ رشک کرے اس کی سخت جانی پر
مجھے ہے فخر، کہ حق بات کہہ رہا ہوں میں
زباں نکلتی ہے اس پر، تو پھر نکل جائے
چلے بھی آؤ کہ اب انتظار مُشکل ہے
چلے بھی آؤ کہ یہ رات بھی نہ ڈھل جائے
کِھلے ہیں ذکرِ حسِیناں کے پُھول شعروں میں
تو کیوں نہ دُور تلک نکہتِ غزل جائے
جو مطمئن ہی نہیں میری رہبری سے فصیحؔ
تو اگلے موڑ پہ وہ راستہ بدل جائے
شاہین فصیح ربانی
No comments:
Post a Comment