رنگ اردو دنیا بھر کے نامور کلاسیک اور نوجوان اردو شعراء کے شاہکار کلام پر مبنی بلاگ🌷Rung E Urdu a blog of worldsfamous poetry of past & present era
صفحات
▼
Thursday, 17 April 2014
جو غیر تھے وہ اسی بات پہ ہمارے ہوئے
جو غیر تھے وہ اسی بات پہ ہمارے ہوئے
کہ ہم سے دوست بہت بے خبر ہمارے ہوئے
کسے خبر وہ محبت تھی یا رقابت تھی
بہت سے لوگ تجھے دیکھ کر ہمارے ہوئے
اب اک ہجومِ شکستہ دلاں ہے ساتھ اپنے
جنہیں کوئی نہ ملا، ہمسفر ہمارے ہوئے
کسی نے غم تو کسی نے مزاجِ غم بخشا
سب اپنی اپنی جگہ چارہ گر ہمارے ہوئے
بجھا کے طاق کی شمعیں نہ دیکھ تاروں کو
اسی جنوں میں تو برباد گھر ہمارے ہوئے
وہ اعتماد کہاں سے فرازؔ لائیں گے
کسی کو چھوڑ کے وہ اب اگر ہمارے ہوئے
No comments:
Post a Comment