صفحات

Friday, 14 November 2014

شکر کیا ہے ان پیڑوں نے صبر کی عادت ڈالی ہے

شکر کیا ہے ان پیڑوں نے صبر کی عادت ڈالی ہے
اس منظر کو غور سے دیکھو، بارش ہونے والی ہے
سوچا یہ تھا وقت ملا تو ٹوٹی چیزیں جوڑیں گے
اب کونے میں ڈھیر لگا ہے، باقی کمرا خالی ہے
بیٹھے بیٹھے پھینک دیا ہے آتشدان میں کیا کیا کچھ
موسم اتنا سرد نہیں ہے، جتنی آگ جلا لی ہے
اپنی مرضی سے سب چیزیں گھومتی پھرتی رہتی ہیں
بے ترتیبی نے اس گھر میں اتنی جگہ بنا لی ہے
دیر سے قفل پڑا دروازہ، اک دیوار ہی لگتا تھا
اس پر ایک کھلے دروازے کی تصویر لگا لی ہے
ہر حسرت پر ایک گِرہ سی پڑ جاتی تھی سینے میں
رفتہ رفتہ سب نے مل کر دل سی شکل بنا لی ہے
اک کمرا سایوں سے بھرا ہے، اک کمرا آوازوں سے
آنگن میں کچھ خواب پڑے ہیں، ویسے یہ گھر خالی ہے
پیروں کو تو دشت بھی کم ہے، سر کو دشت نوردی بھی
عادل! ہم سے چادر جتنی پھیل سکی، پھیلا لی ہے

ذوالفقار عادل

No comments:

Post a Comment