صفحات

Tuesday, 11 November 2014

آپ کی آنکھ میں کچھ رنگ سا بھرنا چاہے

آپ کی آنکھ میں کچھ رنگ سا بھرنا چاہے
دل بھی خوابوں کے جزیروں سے گزرنا چاہے
کتنا دلکش ہے شبِ غم کی خموشی کا فسوں
زندگی آپ کی آہٹ سے بھی ڈرنا چاہے
میں لہو بن کے تیرے رنگِ قبا سے الجھوں
تُو شفق بن کے میرے رخ پہ بکھرنا چاہے
جشنِ نو روز ہو یا شامِ غریباں کا سکوت
دل ہر اک خوف کی منزل سے گزرنا چاہے
روٹھ جانا تو نمائش ہے سراسر، ورنہ
زندگی یوں بھی تیری بات پہ مرنا چاہے
یہ الگ بات کہ آنکھوں نے اسے دیکھ لیا
ورنہ، وہ عکس میرے دل میں اترنا چاہے
میری تقدیر کی صورت میرے اشکوں کی طرح
وہ حسیں شخص بہرحال سنورنا چاہے
دن کی تقدیر کا حاصل بھی وہی ہے محسنؔ
اک ستارا جو سرِ شام ابھرنا چاہے

محسن نقوی

No comments:

Post a Comment