صفحات

Saturday, 8 November 2014

وہ آ کے سامنے جس وقت مسکراتے ہیں​

وہ آ کے سامنے جس وقت مسکراتے ہیں​
ہم ان کی ساری جفاؤں کو بھول جاتے ہیں​
جفا پہ ان کی وفا کا گماں گزرتا ہے​
کچھ اس طرح وہ مِرے دل کو یاد آتے ہیں​
جفائے طعنۂ اغیار، یاد رہتی ہے​
غمِ فراق کے صدمے تو بھول جاتے ہیں​
الٰہی خیر ہو یہ آج دیکھتا کیا ہوں​
وہ دیکھ دیکھ کے کیوں‌ مجھ کو مسکراتے ہیں​
دلِ حزیں کو میں اپنے فریب دے لوں ‌گا​
کوئی یہ جھوٹ ہی کہہ دے مجھے وہ آتے ہیں​
ہم اپنے بھولنے والوں‌کو چاہتے ہیں حفیظؔ​
وہ اپنے چاہنے والوں کو بھول جاتے ہیں​

حفیظ ہوشیار پوری

No comments:

Post a Comment