صفحات

Wednesday, 12 November 2014

بستہ پھینک کے لوچی بھاگا

بستہ پھینک کے لوچی بھاگا 

بستہ پھینک کے لوچی بھاگا روشن آرا باغ کی جانب
چِلّاتا ’’چل گُڈّی چل
‘‘آج بہت سے پکّے جامن ٹپکیں گے‘‘

٭
آنگن کی رسی سے ماں نے کپڑے کھولے
اور تنور پہ لا کے ٹین کی چادر ڈالی
سارے دن کے سُوکھے پاپڑ
لچّھی نے چادر میں لپیٹے
’’بچ گئی ربّا، کِیا کرایا دُھل جانا تھا‘‘

٭
خیرُو نے اپنے کھیتوں کی سُوکھی مٹی
جھرّیوں والے ہاتھ میں لے کر
بھیگی بھیگی آنکھوں سے پھر اوپر دیکھا

٭
جھوم کے پھر اٹھے ہیں بادل
ٹوٹ کے پھر بارش برسے گی

گلزار

No comments:

Post a Comment