صفحات

Friday, 7 November 2014

سبھی کہیں مرے غم خوار کے علاوہ بھی

سبھی کہیں مِرے غمخوار کے علاوہ بھی
کوئی تو بات کروں یار کے علاوہ بھی
بہت سے ایسے ستمگر تھے جو اب یاد نہیں
کسی حبیبِ دلآزار کے علاوہ بھی
یہ کیا کہ تم بھی سرِ راہ حال پوچھتے ہو
کبھی ملو ہمیں بازار کے علاوہ بھی
سو دیکھ کر تِرے رخسار و لب یقیں آیا
کہ پھول کھلتے ہیں گلزار کے علاوہ بھی
کبھی فرازؔ سے آ کر ملو جو وقت ملے
یہ شخص خوب ہے اشعار کے علاوہ بھی

احمد فراز

No comments:

Post a Comment