کیا بتائیں، عشق ظالم کیا قیامت ڈھائے ہے
یہ سمجھ لو، جیسے دل سینے سے نکلا جائے ہے
جب نہیں تم، تو تصور بھی تمہارا کیا ضرور
اس سے بھی کہہ دو کہ یہ تکلیف کیوں فرمائے ہے
ہائے، وہ عالم نہ پوچھو اضطرابِ عشق کا
کس طرف جاؤں، کدھر دیکھوں، کسے آواز دوں
اے ہجومِ نامُرادی! جی بہت گھبرائے ہے
جگر مراد آبادی
No comments:
Post a Comment