کیا بتاؤں میں تجھے دوست! بڑی ہے دنیا
یہ مِرے خواب کے پیچھے جو پڑی ہے دنیا
ایک دنیا مِرے اندر ہے کہ جس میں میں ہوں
ایک بستر پہ مِرے ساتھ پڑی ہے دنیا
دل سے تو بات بڑی دیر رہے گی اپنی
تُو تو اس کھیل میں دو چار گھڑی ہے دنیا
دیکھ تو کیسی بلا کی ہے فسوں ریز کشش
موت کی آنکھ میں تصویر جڑی ہے دنیا
کن زمانوں کا تسلسل ہے یہ زندانِ وجود
کتنی صدیوں کے سلاسل کی کڑی ہے دنیا
میں تہی دست کہاں اس کو دکھائی دوں گا
لے کے ہاتھوں میں بہت پھول کھڑی ہے دنیا
یہ مِرے خواب کے پیچھے جو پڑی ہے دنیا
ایک دنیا مِرے اندر ہے کہ جس میں میں ہوں
ایک بستر پہ مِرے ساتھ پڑی ہے دنیا
دل سے تو بات بڑی دیر رہے گی اپنی
تُو تو اس کھیل میں دو چار گھڑی ہے دنیا
دیکھ تو کیسی بلا کی ہے فسوں ریز کشش
موت کی آنکھ میں تصویر جڑی ہے دنیا
کن زمانوں کا تسلسل ہے یہ زندانِ وجود
کتنی صدیوں کے سلاسل کی کڑی ہے دنیا
میں تہی دست کہاں اس کو دکھائی دوں گا
لے کے ہاتھوں میں بہت پھول کھڑی ہے دنیا
اشرف یوسفی
No comments:
Post a Comment