صفحات

Sunday, 16 November 2014

کتنی ویران ہے شام گیسو

کتنی ویران ہے شامِ گیسُو
زندگی! آ گئی ہے کہاں تُو
اک ملاقات یاد آ رہی ہے
دور سے جیسے آتی ہو خوشبُو
ٹوٹتے ٹوٹتے رہ گیا تھا
ان کے حسنِ تغافل کا جادُو
کون صحرا میں گم ہو گیا ہے
کیوں پریشان ہے چشمِ آہُو
مجھ کو تم سے شکایت نہیں ہے
ہاں، یہ بے درد فرقِ من و تُو 

راہی معصوم رضا

No comments:

Post a Comment