صفحات

Sunday, 16 November 2014

وہ آئینے کو بھی حیرت میں ڈال دیتا ہے

وہ آئینے کو بھی حیرت میں ڈال دیتا ہے
کسی کسی کو خدا یہ کمال دیتا ہے
عجیب شخص ہے ملتا ہے کچھ نہیں کہتا
جواب سب کو مگر حسبِ حال دیتا ہے
برائے نام بھی جس کو وفا نہیں آتی
وہ سب کو اپنی وفا کی مثال دیتا ہے
جنونِ عشق کے ہوتے ہیں مختلف آداب
کسی کو ہجر، کسی کو وصال دیتا ہے
یہ وہ ہنر ہے جو ہر شخص کو نہیں آتا
وہ آنسوؤں کو تبسم میں ڈھال دیتا ہے
کسی کے درد کا احساس اس کو کیا ہو گا
خوشی سمجھ کے جو دل کو ملال دیتا ہے
سکوتِ آئینۂ وقت ٹوٹ جاتا ہے
فضا میں جب کوئی پتھر اچھال دیتا ہے
کبھی تو ہاتھ وہ لمحہ بھی آ ہی جائے گا
جو پائے وقت میں زنجیر ڈال دیتا ہے
تعلق اپنا ہے اعجازؔ اس قبیلے سے
بھلائی کر کے جو دریا میں ڈال دیتا ہے

اعجاز رحمانی

1 comment: