صفحات

Friday, 7 November 2014

تشنگی آنکھوں میں اور دریا خیالوں میں رہے

تشنگی آنکھوں میں اور دریا خیالوں میں رہے
ہم نوا گر، خوش رہے جیسے بھی حالوں میں رہے
اس قدر دنیا کے دکھ اے خوبصورت زندگی
جس طرح تتلی کو مکڑی کے جالوں میں رہے
دیکھنا اے رہ نوردِ شوق! کوئے یار تک
کچھ نہ کچھ رنگِ حنا پاؤں کے چھالوں میں رہے
ہم سے کیوں مانگے حسابِ جاں کوئی جب عمر بھر
کون ہیں، کیا ہیں، کہاں ہیں، اِن سوالوں میں رہے
بدظنی ایسی کہ غیروں کی وفا بھی کھوٹ تھی
سُوئے ظن ایسا کہ ہم اپنوں کی چالوں میں رہے
ایک دنیا کو مری دیوانگی خوش آ گئی
یار مکتب کی کتابوں کے حوالوں میں رہے
عشق میں دنیا گنوائی ہے نہ جاں دی ہے فـرازؔ
پھر بھی ہم اہلِ محبت کی مثالوں میں رہے

احمد فراز

No comments:

Post a Comment