صفحات

Saturday, 8 November 2014

دعا سب کرتے آئے ہیں دعا سے کچھ ہوا بھی ہو

دعا سب کرتے آئے ہیں دعا سے کچھ ہوا بھی ہو
دکھی دنیا میں بندے انگنت، کوئی خدا بھی ہو
یہی ہے حسن کی خوبی، یہی ہے شانِ محبوبی
ز سر تا پا تغافل ہو،۔ کوئی جانِ وفا بھی ہو
کہاں وہ خلوتیں دن رات کی، اور اب یہ عالم ہے
کہ جب ملتے ہیں دل کہتا ہے کوئی تیسرا بھی ہو
تو پھر کیا عشق دنیا میں کہیں کا بھی نہ رہ جائے
زمانے سے لڑائی مول لی تجھ سے برا بھی ہو
محبت کی نظر چشم و چراغِ بزمِ ہستی ہے
جب اتنی صورتیں ہیں، کوئی صورت آشنا بھی ہو
فراقؔ اِنساں سے کیونکر فیصلہ ہو کفر و ایماں کا
یہ حیرت خیز دنیا جب خُدا بھی، ماسوا بھی ہو

فراق گورکھپوری 

No comments:

Post a Comment