صفحات

Sunday, 16 November 2014

زندہ رہنے کے لیے یہ نہ ہو مرنا پڑ جائے

زندہ رہنے کے لیے یہ نہ ہو مرنا پڑ جائے
پیاس بڑھ جائے تو دریا میں اترنا پڑ جائے
کتنا مشکل ہے اگر کُوئے محبت سے مجھے
کارِ دنیا کے ارادے سے گزرنا پڑ جائے
بھیگے بالوں کو سنبھال اور نکل جنگل سے
اس سے پہلے کہ تِرے پاؤں یہ جھرنا پڑ جائے
کچھ ٹھہرتا نہیں اس ٹوٹے ہوئے برتن میں
دل دوبارہ نہ کہیں چاک پہ دھرنا پڑ جائے
کٹ کے جینا ہے تِری ذات سے ایسا جیسے
خود بخود ہوتے ہوئے کام کو کرنا پڑ جائے

اظہر فراغ

No comments:

Post a Comment