صفحات

Thursday, 6 November 2014

سبھی کہیں مجھے غمخوار کے علاوہ بھی

سبھی کہیں مجھے غمخوار کے علاوہ بھی
کہ کوئی بات کرو، یار کے علاوہ بھی
بہت سے ایسے ستمگر تھے اب جو یاد نہیں
کسی حبیبِ دلآزار کے علاوہ بھی
سنا ہے باغ میں اب گُل فروش بیٹھتے ہیں
یہ کاروبار ہے بازار کے علاوہ بھی
یہ کیا کہ تم بھی سرِ راہ حال پوچھتے ہو
کبھی ملو ہمیں بازار کے علاوہ بھی
ہمیں کسی نہ کسی کا ہدف تو ہونا تھا
بہت سے یار تھے اغیار کے علاوہ بھی
اُجاڑ گھر میں یہ خوشبو کدھر سے آئی ہے
کوئی تو ہے در و دیوار کے علاوہ بھی
سو دیکھ کر ترے رخسار و لب یقیں آیا
کہ پھول کھلتے ہیں گلزار کے علاوہ بھی
کبھی فرازؔ سے آ کر ملو جو وقت ملے
یہ شخص خوب ہے اشعار کے علاوہ بھی

احمد فراز

No comments:

Post a Comment