سبھی کہیں مجھے غمخوار کے علاوہ بھی
کہ کوئی بات کرو، یار کے علاوہ بھی
بہت سے ایسے ستمگر تھے اب جو یاد نہیں
کسی حبیبِ دلآزار کے علاوہ بھی
سنا ہے باغ میں اب گُل فروش بیٹھتے ہیں
یہ کیا کہ تم بھی سرِ راہ حال پوچھتے ہو
کبھی ملو ہمیں بازار کے علاوہ بھی
ہمیں کسی نہ کسی کا ہدف تو ہونا تھا
بہت سے یار تھے اغیار کے علاوہ بھی
اُجاڑ گھر میں یہ خوشبو کدھر سے آئی ہے
کوئی تو ہے در و دیوار کے علاوہ بھی
سو دیکھ کر ترے رخسار و لب یقیں آیا
کہ پھول کھلتے ہیں گلزار کے علاوہ بھی
کبھی فرازؔ سے آ کر ملو جو وقت ملے
یہ شخص خوب ہے اشعار کے علاوہ بھی
احمد فراز
No comments:
Post a Comment