صفحات

Thursday, 6 November 2014

بھید پائیں تو رہ یار میں گم ہو جائیں

بھید پائیں تو رہِ یار میں گم ہو جائیں
ورنہ کس واسطے بیکار میں گم ہو جائیں
کیا کریں عرضِ تمنا کہ تجھے دیکھتے ہی
لفظ پیرایۂ اظہار میں گم ہو جائیں
یہ نہ ہو تم بھی کسی بھیڑ میں کھو جاؤ کہیں
یہ نہ ہو ہم بھی کسی بازار میں گم ہو جائیں
کس طرح تجھ سے کہیں کتنا بھلا لگتا ہے
تجھ کو دیکھیں تِرے دیدار میں گم ہو جائیں
تم ترے شوق میں یوں خود کو گنوا بیٹھے ہیں
جیسے بچے کسی تہوار میں گم ہو جائیں
پیچ اتنے بھی نہ دو کرمکِ ریشم کی طرح
دیکھنا سر ہی نہ دستار میں گم ہو جائیں
ایسا آشوبِ زمانہ ہے کہ ڈر لگتا ہے
دل کے مضموں ہی نہ اشعار میں گم ہو جائیں
شہر یاروں کے بلاوے بہت آتے ہیں فرازؔ
یہ نہ ہو آپ بھی دربار میں گم ہو جائیں

احمد فراز

No comments:

Post a Comment