صفحات

Saturday, 15 November 2014

ضبط کرنا نہ کبھی ضبط میں وحشت کرنا

ضبط کرنا نہ کبھی ضبط میں وحشت کرنا
اتنا آساں بھی نہیں تجھ سے محبت کرنا
تجھ سے کہنے کی کوئی بات نہ کرنا تجھ سے
کنجِ تنہائی میں بس خود کو ملامت کرنا
اک بگولے کی طرح ڈھونڈتے پھرنا تجھ کو
رُوبرُو ہو تو نہ شکوہ نہ شکایت کرنا
ہم گدایانِ وفا جانتے ہیں اے درِ حُسن 
عمر بھر کارِ ندامت پہ ندامت کرنا
اے اسیرِ قفسِ سحرِ انا! دیکھ آ کر
کتنا مشکل ہے ترے شہر سے ہجرت کرنا
پھر وہی خارِ مغیلاں، وہی ویرانہ ہے
ہے کفِ پائے جنوں پھر وہی زحمت کرنا
جمع کرنا تہِ مژگاں تجھے قطرہ قطرہ 
رات بھر پھر تجھے ٹکڑوں میں روایت کرنا
کام ایسا کوئی مشکل تو نہیں ہے خاورؔ
مگر اک دستِ حنا رنگ پر بیعت کرنا

ایوب خاور

No comments:

Post a Comment