صفحات

Saturday, 15 November 2014

دل نے وفا کے نام پر کار وفا نہیں کیا

دل نے وفا کے نام پر کارِ وفا نہیں کیا
خود کو ہلاک کر لیا، خود کو فدا نہیں کیا
کیسے کہیں کہ تجھ کو بھی ہم سے ہے واسطہ کوئی
تُو نے تو ہم سے آج تک کوئی گلہ نہیں کیا
تُو بھی کسی کے باب میں عہد شکن ہو غالباً
میں نے بھی ایک شخص کا قرض ادا نہیں کیا
جو بھی ہو تم پہ معترض، اس کو یہی جواب دو
آپ بہت شریف ہیں، آپ نے کیا نہیں کیا
جس کو بھی شیخ و شاہ نے حکمِ خدا دیا قرار
ہم نے نہیں کیا وہ کام، ہاں باخدا نہیں کیا
نسبت علم ہے بہت حاکمِ وقت کو ہے عزیز
اس نے تو کارِ جہل بھی بے علما نہیں کیا

جون ایلیا

No comments:

Post a Comment