صفحات

Saturday, 15 November 2014

شہناز

شہناز

خود کو تاراج کرو 
زندگیاں کم کر لو 
جتنا چاہو دلِ شوریدہ
کا ماتم کر لو 
تابِ وحشت کسی صحرا 
کسی زنداں میں نہیں 
اِس قدر چارہ گری 
وقت کے امکاں میں نہیں 
خاطرِ جاں کے
قرینے تو کہاں آئیں گے 
صرف یہ ہو گا کہ
احباب بچھڑ جائیں گے 
گھر جو اجڑے تو 
سنورتے نہیں دیکھے اب تک 
ایسے ناسُور تو 
بھرتے نہیں دیکھے اب تک

مصطفیٰ زیدی

No comments:

Post a Comment