صفحات

Thursday, 6 November 2014

دل بہلتا ہے کہاں انجم و مہتاب سے بھی

 دل بہلتا ہے کہاں انجم و مہتاب سے بھی

اب تو ہم لوگ گئے دیدۂ بے خواب سے بھی

رو پڑا ہوں تو کوئی بات ہی ایسی ہو گی

میں کہ واقف تھا تِرے ہجر کے آداب سے بھی

کچھ تو اس آنکھ کا شیوہ ہے خفا ہو جانا

اور کچھ بھول ہوئی ہے دلِ بیتاب سے بھی

اے سمندر کی ہوا! تیرا کرم بھی معلوم

پیاس ساحل کی تو بُجھتی نہیں سیلاب سے بھی

کچھ تو اس حسن کو جانے ہے زمانہ سارا

اور کچھ بات چلی ہے مِرے احباب سے بھی


احمد فراز

No comments:

Post a Comment