صفحات

Saturday, 1 November 2014

ایک اور آخری دن

ایک اور آخری دن

ان پڑھ
جاہل
گھامڑ عورت
تیرے ساتھ اب ایک بھی پل
میں نہیں رہوں گا
ابھی خریدوں گا اشٹام اور
آج ہی ہو گی لکھت پڑھت سب
آج یہ قصہ
ختم سمجھ لے
تیرے بعد تو جو بھی آئی
تجھ سے گھنی ہی بہتر ہو گی
میرے ساتھ یہ
آج ترا
بس آخری دن ہے
میرے ابو
اس دنیا کے سب سے اچھے ابو ہیں
لیکن آج
ذرا غصے میں تھے
تو نے
ارے تو نے
میرے سارے قیمتی کاغذ اور کتابیں
ردی والے کو
دے ڈالیں
آج تو خمیازہ بھگتے گی
چل
بچی کو ساتھ میں لے
اور
میرے پیچھے چلتی آ
ماں نے اپنا برقع پہنا
پھر
میرے ننھے پیروں میں
اونچی ایڑی والی ٹپ ٹپ کرتی
جھلمل سی جوتی پہنائی
میری انگلی کو تھاما
اور
ابا کے پیچھے پیچھے چل دی
تیز قدم ابا
اور ان کے پیچھے
آنسو پونچھتی
سست روی سے چلتی ماں
امی
آج کہاں جائیں گے
میں نے ڈری ڈری مدھم سی خوشی سے
پوچھا
کیا ہم سیر کو جائیں گے
آج تو
ہم بھی سیر کریں گے
ہے ناں امی
کہاں بھلا
جلدی جلدی چلو ناں امی
ابو غصے ہو جائیں گے
واپس گھر لے جائیں گے
دیکھو
ہم سے کتنا آگے نکل گئے ابو
دیکھو دیکھو
رکو ناں امی
یہ دیکھو
ہر مال ملے گا بارہ آنے میں والا بابا
امی
اس کے پاس ہے مانگ کا ٹیکا
کتنا اچھا کتنا پیارا
امی
پیسے ہیں نہ امی؟
امی میں ٹیکا پہنوں گی
مجھ کو ٹیکا لے دو ناں
اچھی سی میری پیاری امی
لے دو ناں
ماں نے کچھ سکے گن کر
دیے اسے
اور پھر
ہر مال سے ٹیکا لے دیا مجھ کو
افوہ
اتنی دیر
ابوغصے سے پلٹے
امی
میرے ماتھے پر وہ مانگ کا ٹیکا سجا رہی تھیں
میں اپنے ٹیکے کی جھل مل
دونوں ہاتھوں سے
چھو کر
دور سے بولی
ابو
دیکھو
ابو، ابو
اچھا ہے ناں؟
ہےناں ابو؟
ابو سارا منظر خاموشی سے دیکھ رہے تھے
پھر وہ ہمارے پاس آئے
ماں، میرا ماتھا چوم رہی تھی
ہاں میری بٹیا
بہت اچھا ہے
اور پھر
نادم نادم
آہستہ سے جھک کر بولے
چل شانو کی ماں
گھر چلتے ہیں

شہناز پروین سحر

No comments:

Post a Comment