صفحات

Saturday, 15 November 2014

زخم کو پھول تو صرصر کو صبا کہتے ہیں

زخم کو پھول تو صرصر کو صبا کہتے ہیں
جانے کیا دور ہے، کیا لوگ ہیں، کیا کہتے ہیں
کیا قیامت ہے کہ جن کیلئے رک رک کے چلے
اب وہی لوگ ہمیں آبلہ پا کہتے ہیں
کوئی بتلاؤ کہ اک عمر کا بچھڑا محبوب
اتفاقاً کہیں‌ مل جائے تو کیا کہتے ہیں
یہ بھی اندازِ سخن ہے کہ جفا کو تیری
غمزہ و عشوہ و انداز و ادا کہتے ہیں
جب تلک دور ہے تو تیری پرستش کر لیں
ہم جسے چھو نہ سکیں اس کو خدا کہتے ہیں
کیا تعجب ہے کہ ہم اہلِ تمنا کو فرازؔ
وہ جو محرومِ تمنا ہیں‌، برا کہتے ہیں

احمد فراز

No comments:

Post a Comment