صفحات

Wednesday, 7 October 2015

ایک بجھاؤ ایک جلاؤ خواب کا کیا ہے

ایک بجھاؤ، ایک جلاؤ، خواب کا کیا ہے
آنکھوں میں رکھ کر سو جاؤ خواب کا کیا ہے
پاؤن تلے ہے روند کے گزرو، کچل کے دیکھو
پیچھے جاؤ، آگے آؤ، خواب کا کیا ہے
شیلف پہ الٹا کر کے رکھ دو اور بسرا دو
گلدانوں میں پھول سجاؤ، خواب کا کیا ہے
خواب کا کیا ہے، رات کے نقش و نگار بناؤ
رات کے نقش و نگار بناؤ، خواب کا کیا ہے
نیند ملی ہے گُڑ سے میٹھی، شہد سے شیریں
گاؤ ناچو، ناچو گاؤ، خواب کا کیا ہے
لایعنی ہے سب لایعنی ہے، یعنی یعنی
اور کہانی لکھ کر لاؤ، خواب کا کیا ہے
ایک کباڑی گلیوں گلیوں واج لگائے
راکھ خریدو آگ کے بھاؤ، خواب کا کیا ہے

دانيال طرير

No comments:

Post a Comment