صفحات

Wednesday, 7 October 2015

کشش ہر اک کو ہر ایک کو طلسم دیا

کشش ہر ایک کو ہر ایک کو طلسم دیا
جہاں کو اسم تو آب و ہوا کو جسم دیا
تو کیا اسے بھی اندھیرے سے خوف آتا تھا
مہیب شب نے سحر کی دعا کو جسم دیا
عجیب لمحے تھے جب میں سمے سے باہر تھا
خموشی ایسی تھی جس نے صدا کو جسم دیا
مجھے تو یوں لگا جیسے کہ ہو بہو تو ہے
تصورات نے جب بھی حیا کو جسم دیا
نجانے پیشِ نظر کون سی تمنا تھی
دعا کو پر دئیے میں نے خلا کو جسم دیا
جب اس کو توڑ دیا خود بھی ٹوٹ ٹوٹ گیا
شکستگی کے لیے کیوں انا کو جسم دیا
نفس کو جیسے ہوا اور ہوا کو جیسے نفس
دیے کو جسم ضیا تو ضیا کو جسم دیا
طریر ذہن نے کی بارہا نفی لیکن
مِرے خیال نے اکثر خدا کو جسم دیا

دانیال طریر ​

No comments:

Post a Comment