صفحات

Wednesday, 7 October 2015

وہ چاند ہے تو عکس بھی پانی میں آئے گا

وہ چاند ہے تو عکس بھی پانی میں آئے گا
کردار خُود ابھر کے کہانی میں آئے گا
چڑھتے ہی دھوپ، شہر کے کھل جائیں گے کِواڑ
جسموں کا ریگزار، روانی میں آئے گا
آئینہ ہاتھ میں ہے تو سورج پہ عکس ڈال
کچھ لطف بھی سراغ رسانی میں آئے گا
دل میں لگے گی آگ تو سلگے گی آنکھ بھی
یہ شعلہ خود ہی آبِ معانی میں آئے گا
رختِ سفر بھی ہو گا مِرے ساتھ شہر میں
صحرا بھی شوقِ نقل مکانی میں آئے گا
پھر آئے گا وہ مجھ سے بچھڑنے کے واسطے
بچپن کا دور پھر سے جوانی میں آئے گا
کب تک لہو کے حَبس سے گرمائے گا بدن
کب تک ابال آگ سے پانی میں آئے گا
صورت تو بھول بیٹھا ہوں، آواز یاد ہے
اِک عمر اور ذہن گرانی میں آئے گا
ساجدؔ! تُو اپنے نام کا کتبہ اٹھائے پھر
ہر لفظ کب لباسِ معانی میں آئے گا

اقبال ساجد

No comments:

Post a Comment