صفحات

Wednesday, 7 October 2015

دل زدہ شہر کے آلام کو پر لگ جائیں

دل زدہ شہر کے آلام کو "پر" لگ جائیں
مے کدے ناچ اٹھیں جام کو پر لگ جائیں 
تیز کرتے ہیں سفر لوگ مکانوں کی طرف
جب پرندوں کی طرح شام کو پر لگ جائیں 
دل تمناؤں کی "تخلیق" پہ مامور رہے
اور اس کوششِ ناکام کو پر لگ جائیں 
یہ طلسمات کی دنیا ہے یہاں کیا معلوم
ایک دن مصر کے اہرام کو پر لگ جائیں 
لوحِ افلاک پہ بادل مجھے خوش خط لکھیں
تُو پکارے تو مِرے نام کو پر لگ جائیں 
یہ نہ ہو جاگ اٹھے مجھ میں لپک اڑنے کی
یہ نہ ہو گھر کے در و بام کو پر لگ جائیں 
آسمانوں پہ کہیں اگلا "خدا" تُو ہی نہ ہو
کیا خبر کب مِرے اوہام کو پر لگ جائیں

دانيال طرير

No comments:

Post a Comment