صفحات

Sunday, 15 November 2015

جس کا کوئی بھی نہیں اس کا خدا ہے یارو

جس کا کوئی بھی نہیں اس کا خدا ہے یارو 
میں نہیں کہتا، کتابوں میں لکھا ہے یارو 
مڑ کے دیکھوں تو کدھر، اور صدا دوں تو کسے
میرے ماضی نے مجھے چھوڑ دیا ہے یارو
اس سزا سے تو مِرا جی ہی نہیں بھرتا ہے
زندگی کیسے گناہوں کی سزا ہے یارو
شب ہے اس وقت کوئی گھر نہ کھُلا پاؤ گے
آؤ! مے خانے کا دروازہ کھُلا ہے یارو
کوئی کرتا ہے دعائیں تو یہ جل جاتا ہے
میرا جیون کسی مندر کا دِیا ہے یارو
حال کا زخم تو ماضی سے بہت گہرا ہے 
آج زخمی مِرا سایہ بھی ہوا ہے یارو
انتظار آج کے دن کا تھا بڑی مدت سے
آج اس نے بھی مجھے دیوانہ کہا ہے یارو 

کرشن بہاری نور

No comments:

Post a Comment