صفحات

Friday, 6 November 2015

آخر شب جو بہم صبح کے اسباب ہوئے

آخرِ شب جو بہم صبح کے اسباب ہوئے
حملہ آور مِری آنکھوں پہ مِرے خواب ہوئے
تشنگی بھی تو ہے اِک سیلِ بلا کی صورت 
بستیاں غرق ہوئیں، خشک جو تالاب ہوئے
اب نہ آئیں گے کبھی قحطِ وفا کی زد میں
وہ علاقے مِرے اشکوں سے جو سیراب ہوئے
خواب دیکھے تھے بہت، جنتِ گمگشتہ کے خواب
تجھ کو دیکھا تو مجسّم مِرے سب خواب ہوئے
میں نے اک روز نظر بھر کے تجھے دیکھا تھا
پھر تو اس نشے کے عادی مِرے اعصاب ہوئے
داغِ رسوائی نہیں تمغائے اعزاز ہے یہ
تِری نسبت کی قسم ہم بھی خوش القاب ہوئے
یاد آیا ہے بہت شاہ جہاں پور ہمیں
بعد مدت کے جو ہم واردِ پنجاب ہوئے

شبنم رومانی

No comments:

Post a Comment