صفحات

Friday, 13 November 2015

سارے روشن ستارے بکھرنے لگے

سارے روشن ستارے بکھرنے لگے
حرف ظلمات بن کر اترنے لگے
جیسے سب سورجوں کو گُہن لگ گیا
کارواں جنگلوں سے گزرنے لگے
ایسی دہشت کی آندھی چلی شہر میں
اپنی آواز سے لوگ ڈرنے لگے
گونگے خط آ رہے ہیں مِرے نام اب
جیسے الفاظ گھُٹ گھُٹ کے مرنے لگے
جانے کن راہوں سے ہو کے آئے ہیں ہم
فارغؔ انگ انگ میں خوں کے جھرنے لگے

فارغ بخاری

No comments:

Post a Comment