اس مسیحائی کے صدقے کام جاں تک آ گئی
تجربے کرتے ہوئے نوبت یہاں تک آ گئی
اب تو گہواروں پہ خادم رکھ لیے ماں باپ نے
مامتا تخمینۂ سود و زیاں تک آ گئی
تُو نے کوشش تو یہی کی تھی کہ میرا گھر جلے
آگ جب بھڑکی تو پھر تیرے مکاں تک آ گئی
اس نظامِ آب و گل میں زہر پھیلانے کے بعد
پھر وہی شورش زمیں سے آسماں تک آ گئی
مجھ میں اور دنیا میں پھر کیا فرق ہو گا دوستو
زندگی کی ہے جو تلخی گر زباں تک آ گئی
اتنی قربت تھی ہماری اپنے تیر انداز سے
دھار خوں کی جسم سے نکلی، کماں تک آ گئی
بند یہ اپنے تشخص کا نہ بہہ جائے کہیں
موجِ سیلِ تند خطرے کے نشاں تک آ گئی
تجربے کرتے ہوئے نوبت یہاں تک آ گئی
اب تو گہواروں پہ خادم رکھ لیے ماں باپ نے
مامتا تخمینۂ سود و زیاں تک آ گئی
تُو نے کوشش تو یہی کی تھی کہ میرا گھر جلے
آگ جب بھڑکی تو پھر تیرے مکاں تک آ گئی
اس نظامِ آب و گل میں زہر پھیلانے کے بعد
پھر وہی شورش زمیں سے آسماں تک آ گئی
مجھ میں اور دنیا میں پھر کیا فرق ہو گا دوستو
زندگی کی ہے جو تلخی گر زباں تک آ گئی
اتنی قربت تھی ہماری اپنے تیر انداز سے
دھار خوں کی جسم سے نکلی، کماں تک آ گئی
بند یہ اپنے تشخص کا نہ بہہ جائے کہیں
موجِ سیلِ تند خطرے کے نشاں تک آ گئی
مرتضیٰ برلاس
No comments:
Post a Comment