صفحات

Monday, 16 November 2015

کوئی دیوار نہ در جانتے ہیں

کوئی دیوار نہ در جانتے ہیں
ہم اسی دشت کو گھر جانتے ہیں
جان کر چپ ہیں وگرنہ ہم بھی
بات کرنے کا ہنر جانتے ہیں
یہ مہم ہدیۂ سر مانگتی ہے
اس میں ہے جاں کا خطر جانتے ہیں
لد گئی شاخ لہو پھولوں سے
آئیں گے اب کے ثمر جانتے ہیں
جان جانی ہے تو جائے گی ضرور
کس کا ہے کس پہ اثر جانتے ہیں
لوگ اسے مصلحتاً کچھ نہ کہیں
اس کی اوقات مگر جانتے ہیں
رات کس کس کے اڑے ہیں پرزے
شہر میں کیا ہے خبر جانتے ہیں
رات کاٹے نہیں کٹتی ہے مگر
رات ہے تا بہ سحر جانتے ہیں
ہم نے بھی دیکھی ہے دنیا محسن
ہے کدھر کس کی نظر جانتے ہیں

محسن زیدی

No comments:

Post a Comment