نظروں پہ ستم دل پہ جفا ہو کے رہے گی
ہے جرم محبت تو سزا ہو کے رہے گی
اس درجہ ہو دل ان کی عنایت پہ نہ مسرور
اک دن یہی دو دن کی ہوا ہو کے رہے گی
پہلے سے وہ دل ہیں نہ پہلا سا وہ عالم
اے رہروِ مے خانہ تُو جنت کا غم نہ کر
جنت تِرے قدموں پہ فدا ہو کے رہے گی
اب تو غمِ جاناں بھی سکوں بخش نہیں ہے
کیا یہ بھی خلش دل سے جدا ہو کے رہے گی
کیوں خوش نہ ہو دل بزمِ تصور کی بقا پر
دنیا تو نہیں ہے کہ فنا ہو کے رہے گی
احساس میں شامل ہے اگر حسنِ صداقت
آوازِ دل آوازِ خدا ہو کے رہے گی
اے حسنِ پشیماں مِری آہوں سے نہ گھبرا
ہر آہ تِرے حق میں دعا ہو کے رہے گی
برہم جو شکیلؔ ان کی نظر ہو تو بلا سے
دیکھوں وہ کہاں مجھ سے خفا ہو کے رہے گی
شکیل بدایونی
No comments:
Post a Comment