صفحات

Friday, 13 November 2015

نظروں پہ ستم دل پہ جفا ہو کے رہے گی

نظروں پہ ستم دل پہ جفا ہو کے رہے گی
ہے جرم محبت تو سزا ہو کے رہے گی
اس درجہ ہو دل ان کی عنایت پہ نہ مسرور
اک دن یہی دو دن کی ہوا ہو کے رہے گی
پہلے سے وہ دل ہیں نہ پہلا سا وہ عالم
اللہ یہ دنیا تِری کیا ہو کے رہے گی
اے رہروِ مے خانہ تُو جنت کا غم نہ کر
جنت تِرے قدموں پہ فدا ہو کے رہے گی
اب تو غمِ جاناں بھی سکوں بخش نہیں ہے
کیا یہ بھی خلش دل سے جدا ہو کے رہے گی
کیوں خوش نہ ہو دل بزمِ تصور کی بقا پر
دنیا تو نہیں ہے کہ فنا ہو کے رہے گی
احساس میں شامل ہے اگر حسنِ صداقت
آوازِ دل آوازِ خدا ہو کے رہے گی
اے حسنِ پشیماں مِری آہوں سے نہ گھبرا
ہر آہ تِرے حق میں دعا ہو کے رہے گی
برہم جو شکیلؔ ان کی نظر ہو تو بلا سے
دیکھوں وہ کہاں مجھ سے خفا ہو کے رہے گی

شکیل بدایونی

No comments:

Post a Comment