صفحات

Monday, 16 November 2015

کسی گھر کو جلا دینے سے پہلے

کسی گھر کو جلا دینے سے پہلے
ذرا سوچو ہوا دینے سے پہلے
ہر اک فرعون کو ملتی ہے مہلت
کلیمی کا عصا دینے سے پہلے
کوئی جھوٹی گواہی بھی نہیں تھی
میرے سچ کو سزا دینے سے پہلے
بڑی تعداد میں تھا میرا لشکر
دیا گھر کا بجھا دینے سے پہلے
سنا اس کی آنکھوں میں تھے آنسو
میرے خط کو جلا دینے سے پہلے
یہ جنگل بے تحاشہ جاگتا تھا
پرندوں کو اڑا دینے سے پہلے
اسی کو یاد کرنا پڑ گیا ہے
اسے یکسر بھلا دینے سے پہلے

کرامت بخاری

No comments:

Post a Comment