صفحات

Monday, 16 November 2015

کوئی کشتی میں تنہا جا رہا ہے

کوئی کشتی میں تنہا جا رہا ہے
کسی کے ساتھ دریا جا رہا ہے
یہ بستی بھی نہ کیا راس آئی اس کو
اٹھا کر کیوں وہ خیمہ جا رہا ہے
کہیں اک بوند بھی برسا نہ پانی
کہیں بادل برستا جا رہا ہے
دِیے ایک ایک کر کے بجھ رہے ہیں
اندھیرا ہے کہ بڑھتا جا رہا ہے
پہاڑ اوپر تو نیچے کھائیاں ہیں
جہاں سے ہو کے رستہ جا رہا ہے
وہ واپس لے رہا ہے قرض اپنا
ہمارے پاس سے کیا جا رہا ہے

محسن زیدی

No comments:

Post a Comment