صفحات

Saturday, 14 November 2015

راہبر کی نہ فکر منزل کی

راہبر کی نہ فکر منزل کی
کر رہا ہوں میں پیروی دل کی
کھو گیا جستجوئے شوق میں جب
مل گئی مجھ کو راہِ منزل کی
آہ نہ آئے، نہ ان کو آنا تھا
آرزو دل میں رہ گئی دل کی
پھر تلاطم میں لے گئیں موجیں
مجھ کو صورت دکھا کے ساحل کی
ترکِ الفت کی کوششیں ہیں فضول
کیا بجھے گی لگی ہوئی دل کی
الاماں پختگی ذوقِ نظر
پست ہیں ہمتیں مقابل کی

شکیل بدایونی

No comments:

Post a Comment