یار کے غم میں پریشان یہی یار رہا
صبر مرحوم کا اک دل ہی عزادار رہا
تھی شبِ قدر سے بھی قدرِ شبِ وعدہ سوا
کیا بتاؤں، کہ کس امید پہ بیدار رہا
یاں بھی مُشتاق کی قسمت میں کوئی جلوہ ہے
سچ تو یہ ہے کہ مزا شوق کا انکار سے ہے
شوق سا شوق رہا، جب انہیں انکار رہا
کیجیے عشقِ بتاں میں بھی خدا کو شامل
کیا رہا خوف، جب اللہ مددگار رہا
لُطف فرما جو وہ رہتا تو ٹھکانہ ہی نہ تھا
عین حکمت ہے وہ کافر جو دلآزار رہا
خاک میں دل کی صفائی نے ملایا مجھ کو
کہ مِرا ایک جہان واقفِ اسرار رہا
نہ ہُوا گرمئ وحشت سے میں ٹھنڈا نہ ہُوا
دُور ہی دُور تِرا سایۂ دیوار رہا
اسی سینے میں چھُپایا، اسی پہلو میں رکھا
اور اس پر دلِ بے تاب نہ زنہار رہا
چشمِ پُرشوق میں مژگاں ہیں زباں کے کانٹے
میں جو از بس کہ تِرا تشنۂ دیدار رہا
داغ دل کا نہ چھُپا داغؔ بہت ڈالی خاک
شمع بن کر مِرے مرقد پہ نمودار رہا
داغ دہلوی
No comments:
Post a Comment